جوڈیشیل ایکٹیوازم اور ہماری کمزور جمہوریت؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 01 / جون / 2022
ہمارے دوست امیر حمزہ مالک صاحب لندن کی لنکنزان سے بیرسٹری کرنے کے بعد وہیں یو کے سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، جس کیلئے ان کا تحقیقی مقالہ درویش کی دلچسپی کا حامل ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’جیوڈیشیل ایکٹو ازم اینڈ ڈیموکریسی ‘‘۔
وہ تو یہ کام انگلینڈ کے حوالے سے کر رہے ہیں مگر کیا ہی بہتر ہو ہماری کوئی یونیورسٹی یہاں پاکستان کے حوالے سے اس نوع کی تحقیق کروائے۔ اس لئے کہ جس طرح محاورہ ہے کہ پانی ہمیشہ نشیب کی طرف جاتا ہے یا مار کرتا ہے، جن ممالک میں جمہورتیں مضبوط ہیں جیسے کہ برطانیہ اور امریکہ، حتیٰ کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا میں بھی ہم ملاحظہ کر سکتے ہیں جوڈیشل ایکٹوازم کبھی خطرناک صورتحال اختیار نہیں کرسکا۔ اس نوع کی مبینہ کاوشیں ہوئی ضرور ہیں برطانیہ میں بھی اور امریکہ میں بھی بالخصوص انڈیا میں تو ایسے حملوں کی کاوشیں زیادہ ہوئی ہیں مگر ان ہر سہ ممالک کی مضبوط جمہورتوں نے
NIP THE EVIL IN THE BUD
کے تحت ایسی جارحیت کی پرورش ہونے ہی نہیں دی۔ سو ان کے آئین اس نوع کی دستبرد سے محفوظ رہے اور آئین ساز اداروں یعنی ان کے پارلیمان بھی اپنی سپرامیسی و بالا دستی کی دھاک منوانے میں ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔
مگر تیسری دنیا کے پاکستان جیسے ممالک کے متعلق ضروریہ کہا جاسکتا ہے کہ ’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘۔ پاکستان کی پون صدی پر محیط مختصر تاریخ کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہو گا کہ یہاں کے جیو ڈیشل ایکٹوازم میں بالعموم بحیثیت مجموعی عوام اور ان کے نمائندے ہی کٹہرے میں کھڑے پائے گئے جبکہ یونیفارم میں ملبوس یا اس کے بغیر اسی ذہنیت کے ڈکیٹر بالعموم جوڈیشری کی ٹھکائی کرتے اور اسے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے پائے گئے ۔ عوام اور ان کے حقیقی نمائندوں کے سامنے پاکستانی جوڈیشری جس طرح چیڑ پھاڑ کرتی شیر چیتا بنی کھڑی دکھائی دی آمروں یا ڈکٹیٹروں کے سامنے لونڈی نہ بھی کہا جائے تو بھیڑ بکری یا بھیگی بلی بنی نظر آئی۔
ویسے تو بات بے بات ان کی توہین ہو جاتی ہے لیکن جب آمریت کی ذہنیت کا ڈنڈا چڑھتا ہے تو تمام تر ناموس اور شان وشوکت ہلدی لینے پنساری کی دکان پر پہنچ جاتی ہے۔ ہم ایوب، یحییٰ، ضیا یا مشرف کے ڈنڈوں کی بات نہیں کرتے، ان گنت ایسے نادیدہ ڈنڈے بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس مادر’انصاف‘ کا خون کیا لیکن وہاں ان کا ایکٹوازم بھیگی بلی بن کر مئی میں دسمبر جیسی ٹھنڈ محسوس کرتے، ڈی چوک کے شاداب درختوں کو لگی آگ سینکنے چلا گیا۔ پی پی کا منتخب وزیر اعظم گیلانی جیسا تیسا بھی تھا کیا منتخب پارلیمان نے اس پر عدم اعتماد کر دیا تھا؟ اس نے کون سی آئین شکنی کی تھی؟ کیا اس نے کسی عظمیٰ و وقار کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا ؟ کیا جرم تھا اس کا؟ یہ کہ کسی لٹھ بردار کے اشاروں پر ناچتی عظمیٰ بی بی کی خوشنودی کا لو لیٹر نہیں لکھا تھا ، پھر آپ نے کھڑے کھڑے ہی کروڑوں عوام کے اعتماد کو ان کے منہ پر مارتے ہوئے اسے گھر بھیج دیا ۔
عوام کے ہر د لعزیز رہنما نواز شریف کے ساتھ جو’حسن سلو‘ روا رکھا گیا وہ تو اس سے بھی بدتر تھا۔ مذموم گندے مقاصد کے تحت پاناما کا ایک طوفان اٹھایا گیا جس میں چار سو کے قریب نام تھے تین صد ننانوے تو پردہ اخفا میں اٹھکیلیاں کرتے رہے، جنہیں چودھری وقار دیکھ سکا نہ ملکہ عالیہ عظمیٰ بیگم کی نظر التفات ادھر اٹھ سکی۔ اور پھر اس پاناما کے ڈرامہ سے جب مطلوبہ گیدڑ سنگھی برآمد نہ ہو سکی تو آپ نے اقاما میں یوں دھر لیا جیسے آئین شکن اور پشاور میں معصوم بچوں کے قاتل بھی ویسے مجرم نہیں ہیں لیکن بیٹے سے وہ تنخواہ جو لی ہی نہیں گئی اس کا ذکر نہ کرنا گھناؤنا فعل تھا۔ یعنی وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے ۔
ماضی کو چھوڑئیے ہم آج پر آجاتے ہیں ایک شخص جو ببانگ دہل میڈیا کے سامنے خود یہ اعلان و اعتراف کر رہا ہے کہ ہاں میرے لوگ مسلح تھے ان کے پاس اسلحہ تھا اور مجھے سو فیصد یقین تھا کہ یہاں اسلام آباد کے لانگ مارچ میں گولیاں چل جائیں گی۔ آپ فرماتے ہیں کہ احتجاج ایسے متکبر و مغرور شخص کا جمہوری حق ہے۔ ماقبل یہی شخص صریحی آئین شکنی کرتے ہوئے آئین و قانون کی تمام حدود پار کر چکا ہے۔ اس کی چار سالہ گندی حکمرانی کے مفاسد پوری قوم بھگت رہی ہے۔ شرم وحیا کی اخیر ہے کہ ایک شخص اٹھتے بیٹھتے دہشت گردی کی دھکمیاں دے رہا ہے لیکن آئین کے تحفظ کی مالا جپنے والے اگر اس کے سہولت کار بنے کھڑے دکھائی دیں تو ایسے کون سے نرم سے نرم الفاظ ہیں جو ان کی شان میں پھولوں کی طرح بچھائے جائیں۔ اب چھ دن کا الٹی میٹم گزرنےکے بعد منادی کرائی جا رہی ہے کہ اب کے زیادہ تیاری اور لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوں گے۔ ساتھ کھڑے کے پی کی خود مختار جہادی ریاست کا وزیر اعلیٰ دھمکیاں دے رہا ہے کہ کرکٹر کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں پورے صوبے کی سیکورٹی فورس ان کی ہم رکاب ہو گی۔ امپورٹڈ حکومت نے ہمارے لیڈر کے ساتھ جو کچھ کیا ہے ہم اس کا بدلہ ضرور لیں گے۔ اگر مشکل پیش آئی تو افغانستان چلے جائیں گے۔ جبکہ لیڈر کا اصرار ہے کہ بہتر ہے اگر سپریم جوڈیشری ہماری حمایت میں رولنگ دے بصورت دیگر ہم دوسری راہ لیں گے ۔
دوسری طرف کے پی میں وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر انجینئر امیر مقام صاحب پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے صوبے کے وسائل اور ہماری انتظامیہ محمود خاں یا کسی اور کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں کہ وہ اسے جیسے چاہیں استعمال کریں یا یہاں کی صوبائی فورس کو وفاق پر حملہ آور ہونے کے لئے لے جائیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایک شخص جو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جا چکا ہے اور وہ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کے اعلانات بھی کر چکا ہے، اب وہ صوبے کے وسائل بشمول ہیلی کاپٹر کا استعمال کس حیثیت میں کر رہا ہے ؟ جوڈیشری ان حرکات اور اس نوع کے بیانات کا ازخود نوٹس کیوں نہیں لے رہی؟ جبکہ ان کی حکمرانی ملک اور صوبے کیلئے ناسور اور کورونا وائرس سے بھی خطرناک رہی ہے۔ ایسے حالات میں آئین کے مطابق یہاں کے پی میں گورنر راج کیوں نہیں لگنا چاہیے؟۔
جوڈیشل ایکٹو ازم پر ہمارے ملک کے ایک ذہین و فطین اور لائق سکالر جسٹس (ر) شائق عثمانی صاحب نے بھی کچھ سوالا ت اٹھائے تھے اور اب ممتاز قانون دان سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر صاحب نے بھی بنچ کے سامنے کچھ سچائیاں پیش فرمائی ہیں۔ درویش ان کی روشنی میں کمزور جمہوریت پر حملوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرنا چاہتا ہے مگر اگلی نشست میں ۔ (جاری ہے)