سپریم کورٹ کو تھانے میں تبدیل نہ کیا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 01 / جون / 2022
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے گزشتہ بدھ کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ہونے والی زیادتی اور توڑ پھوڑ کے معاملہ پر اب تحریری فیصلہ جاری کیا ہے اور اس امر پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ فریقین نے عدالت عظمی کے واضح احکامات کے باوجود اپنی کسی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا ۔ اب سپریم کورٹ نے انتظامی اداروں سے ان واقعات کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
اس دوران بول ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے طور پرمکمل اختیارات حاصل نہیں تھے اور فیصلے کہیں اور کئے جاتے تھے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ چونکہ مخلوط حکومت کے سربراہ تھے ، اس لئے انہیں اتحادی پارٹیوں کی طرف سے بھی دباؤ کا سامنا رہتا تھا۔ یہ اعتراف کرتے ہوئے البتہ سابق وزیر اعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر کسی وزیر اعظم کو مکمل اختیارات ہی حاصل نہیں ہوتے تو وہ دوبارہ نہایت گرم جوشی سے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے لئے کیوں ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ نہ ہی وہ یہ بتانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد کے موقع پر حالات و واقعات کی کیا ترتیب تھی اور کون سی اتھارٹی فیصلے کررہی تھی۔ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے یہ کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی ، سارے حقائق عوام کے سامنے آجائیں گے۔ اور سب قصور واروں کو اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ظاہر ہے وہ اس تنازعہ میں خود کو سب سے علیحدہ اور پاک صاف کردار کا حامل سمجھتے ہیں لیکن حالیہ واقعات کے عینی شاہد ہونے کے باوجود ان کی تفصیل سامنے لانے پر تیار نہیں ہیں۔ ایک مبہم سفارتی مراسلہ کی بنیاد پر امریکہ جیسی بڑی طاقت کے خلاف عوامی مہم چلانے والا دلیر لیڈر ان کرداروں کا نام لینے سے گریز کررہا ہے جنہوں نے انہیں اقتدار سے ’ محروم‘ کرنے میں بنیادی کردارا ادا کیا تھا ۔ کیوں کہ عمران خان اب بھی تحریک عدم اعتماد کو سازش قرار دے کر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ فوج نے ان کی حکومت کے خلاف اس سازش کو ناکام بنانے میں ان کی مدد نہیں کی۔
واقعاتی تسلسل کا معاملہ مؤرخ کے حوالے کرنے کے بعد البتہ عمران خان نے پاکستان کے بارے میں وہ تمام بدشگونیاں بیان کی ہیں جو پاکستان کے بدترین دشمنوں کا سہانا خواب ہوسکتا ہے۔ لیکن عمران خان کا خیال ہے کہ اگر فوج نے انہیں دوبارہ اقتدار دلانے میں بھرپور کردار ادا نہ کیا تو پاکستان نہ صرف دیوالیہ ہوجائے گا بلکہ اس کی ایٹمی صلاحیت ختم کردی جائے گی اور اس کے حصے بخرے ہوجائیں گے۔ ملکی استحکام اور معیشت کے بارے میں عمران خان کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کا عذر محض ایک نکتہ ہے کہ انہیں کسی بھی طرح دوبارہ وزیر اعظم ہاؤس میں پہنچایا جائے۔ تازہ ٹی وی انٹرویو میں بھی وہ اسی ایک نکتہ پر اصرار کرتے ہوئے واضح کررہے ہیں کہ صرف وہی مسئلہ کا حل ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اپنا یہ ’خفیہ نسخہ‘ عام کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ جو کام وہ چار سالہ اقتدار کے دوران انجام نہیں دے سکے، دوبارہ اختیار ملنے پر کیسے چٹکی بجاکر پوار کرلیں گے۔
اس انٹرویو میں عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ موجودہ صورت حال ملک اور اسٹبلشمنٹ کے لئے بڑا مسئلہ ہے۔ اگر اسٹبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کئے تو یہ اور فوج تباہ ہوجائیں گے کیوں کہ ملک دیوالیہ ہونے کی صورت میں یہی صورت حال پیدا ہونے والی ہے۔ پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے کنارے پہنچا ہؤا ہے اور اگر ایساہؤا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان فوج کو ہوگا۔ کیا ایسی صورت میں ہم ایٹمی ہتھیاروں سے دست بردار ہونے پر تیار ہونے کی رعایت دیں گے؟ اگر ملک میں اب بھی درست فیصلے نہ کئے گئے تو ملک ایٹمی صلاحیت سے محروم ہوجائے گا اور یہ تین حصوں میں تقسیم ہوجائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو انہی اداروں نے کمزور کیا ہے جو اس کی بنیادی طاقت ہیں‘۔ میں نے نیوٹرلز کو بتادیا تھا کہ کووڈ۔19 کی وبا کے باوجود تحریک انصاف کی معاشی کارکردگی کسی معجزے سے کم نہیں تھی۔ میں نے انہیں بتادیا تھا کہ اگر آپ نے میری حکومت گرانے کی سازش کو کامیاب ہونے دیا تو ہماری معیشت نیچے جائے گی۔ میں نے اپنے وزیر خزانہ شوکت ترین کو تفصیلات بتانے کے لئے بھی بھیجا تھا۔
یہ تفصیل بتاتے ہوئے البتہ عمران خان یہ وضاحت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ وہ کون سا اصول معیشت ہے جس میں ملک میں سیاسی تصادم، باہمی مواصلت سے انکار، ایک دوسرے پر الزام تراشی، ایک صوبے کے وفاقی حکومت پر ’حملہ آور‘ ہونے کے اعلانات اور عدالتی حکم کے بعدآئینی طریقے سے منتخب حکومت کو ’ چوروں کا ٹولہ ’ یا امپورٹڈ حکومت قرار دے کر امور مملکت کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے باوجود معاملات درست سمت میں لے جائے جاسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پونے چار سال کے دوران پچاس ارب ڈالر سے زیادہ غیر ملکی قرضہ لیا لیکن کوئی طویل المدت اور پائدار ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے میں ناکام رہی۔ عمران خان نے جب یہ دیکھ لیا کہ اپوزیشن تحریک اعتماد لانے میں کامیاب ہوجائے گی تو انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدہ کے باوجود پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کی اور انہیں جون تک منجمد کرنے کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی اقدام کیا۔ اس اعلان کا مقصد صرف اپوزیشن کو بدحواس کرکے کسی بھی طرح تحریک عدم اعتماد کو روکنا تھا۔ اب ملک کی تباہی وبربادی کی پیش گوئی کرنے والے عمران خان کو پہلے اپنے فیصلوں کے بارے میں قوم کو جواب دینا چاہئے۔
معیشت کوئی سیاسی نعرہ نہیں ہے کہ سابق وزیر اعظم یہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں کہ میری حکومت نہ رہنے کی وجہ سے ملک معاشی گڑھے میں گرا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ملک کو اس وقت غیر معمولی مالی مشکلات کا سامنا ہے تو وہ عمران خان کی غلط اور عاقب نااندیشانہ پالسیوں کا نتیجہ ہے۔ اب وہ احتجاج، بیان بازی، اشتعال انگیزی اور ملکی اداروں کو دباؤ میں لا کر مسلسل بے یقینی کی کیفیت پیدا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح ان کے اقتدار کا راستہ ہموار ہوسکے۔ یہ سارے طریقے معیشت کے لئے مہلک ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ 70 برس کی عمر کو پہنچنے والا اور خود ہی اپنی نیک نیتی و ایمانداری کا قصیدہ پڑھنے والا کوئی شخص ہوس اقتدار میں اتنا اندھا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی سیاست کے لئے ملک کے تمام تر مفادات کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔ وہ پیش گوئی کے نام پر ایسے بد کلمات ادا کررہا ہے جس سے صرف پاکستان کے دشمن ہی خوش ہوں گے یا اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ پاکستان کا کوئی دوست پاکستان کی سالمیت، اس کی حفاظت کے لئے حاصل کی گئی ایٹمی صلاحیت کے مستقبل اور سرحدوں کی حفاظت پر متعین فوج جیسے ادارے کے بارے میں ایسے برے کلمات زبان پر نہیں لاسکتا جن کا اظہار عمران خان نے اس انٹرویو میں کیا ہے۔
عمران خان کے ٹیلی ویژن انٹرویو سے تھوڑی دیر پہلے ہی سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ بدھ کو تحریک انصاف کے کارکنوں کے احتجاج اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر اپنا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ اس فیصلہ میں عدالت عظمی بدستور عمران خان کے بارے میں ’خوش گمانی‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ دے رہی ہے کہ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے لوگوں کو ڈی چوک پہنچنے پر اکسایا تھا یا وہ خود ہی احتجاج کے لئے وہاں پہنچ گئے تھے۔ عدالت عظمی کی اس سادہ لوحی پر قربان ہونے کو دل چاہتا ہے کہ کیسے بعض جج کتنی آسانی سے ملک کے معروضی حالات اور احتجاجی گروہوں کی عمومی نفسیات سے ناشناسائی کا اعلان کرکے محض کف افسوس ملنے پر اکتفا کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلہ میں لکھا ہے کہ ’ عدالت کو مایوسی ہوئی ہے کہ توازن قائم رکھنے کے بارے میں حکم کے باوجود دارالحکومت میں گزشتہ بدھ کے روز تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران فسادات ہوئے۔ عدالت نے اس معاملہ میں فریقین کے نمائیندوں کی یقین دہانی پر اعتبار کرتے ہوئے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا تھا۔فریقین نے بہتر اخلاقی رویہ کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس دوران عوامی حقوق، مفادات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ عدالت کا خیال تھا کہ حکومت اور تحریک انصاف پر امن مظاہروں کے لئے بنیادی اصولوں پر متفق ہوجائیں گے۔ تاہم عدالت کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسلام آباد میں توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے اکسانے پر ہوئے تھے یا یہ عوام کی طرف اچانک غصہ کا اظہار تھا‘۔
سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اسلام آباد کے آئی جی، چیف کمشنر، سیکرٹری داخلہ ، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو اور ڈی جی آئی ایس آئی کو ایک ہفتے کے اندر ان واقعات کی تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سات سوالوں پر مشتمل ہدایت نامہ میں ان حکام سے ڈی چوک میں اجتماع، احتجاج، تصادم، سرکاری انتظامات یا زیادتی اور تحریک انصاف کی قیادت کے کردار کے بارے میں سوالات کئے ہیں اور پوچھا ہے کہ اس موقع پر ریڈ زون میں کتنے مظاہرین جمع تھے اور ان میں کتنے زخمی ہوئے، ہسپتال بھیجے گئے اور کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا‘۔ ان سوالوں کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سپریم کورٹ کے فاضل جج اب ملکی حالات سے اس قدر مایوس ہوچکے ہیں کہ کسی تھانے کے ایس ایچ او کا کردار ادا کرنے پر تیار ہیں۔ کیا ہماری اعلیٰ ترین عدالت کے فاضل جج حضرات جواب دے سکتے ہیں کہ ایک گزرے ہوئے واقعہ کی مزید تفصیلات جمع کرنے پر سرکاری وسائل اور ججوں کا وقت برباد کرکے کیا حاصل کیا جائے گا؟ فیصلہ میں مایوسی کا اظہار بھی کیا جاچکا اور تحریک انصاف کی قیادت کو بری الذمہ قرار دینے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں کی گئی۔ اعلیٰ عدلیہ کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ معمولی انتظامی معاملات میں سپریم کورٹ کی ایسی مداخلت انتظامیہ کے اختیارات اور دائرہ کار میں غیر ضروری دست درازی ہے۔ سپریم کورٹ اگر ہر واقعہ کا فیصلہ خود ہی کرنے پر بضد ہے تو تحصیل، ڈسٹرکٹ یا صوبوں کی سطح پر قائم عدالتیں کیا کریں گی۔ یا پھر تھانے اور مقامی انتظامیہ عدالت کو جواب دینے کے علاوہ کیا کرے گی؟
اس فیصلہ کے حوالے سے جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ سپریم کورٹ کے بنچ میں شامل باقی ججوں کے لئے چشم کشا ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ ’ عدالتی فیصلہ جاری ہونے کے فوری بعد عمران خان نے اعلان کیا کہ ’پاکستانیوں کے لئے اچھی خبر ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دے دیا ہے ، جلوس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے سب پاکستانی گھروں سے نکلیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے لوگ ڈی چوک پہنچیں۔ میں بھی ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں پہنچ رہا ہوں‘۔ جسٹس آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کا یہ بیان اور اس کے علاوہ ان کا عمل جس میں وہ مقررہ جگہ کی بجائے دوسری جگہ پہنچے، بادی النظر میں یہ ثابت کرتا ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔ اس لئے عدالت کو عمران خان سے وضاحت طلب کرنی چاہئے۔
عام طور سے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں اختلافی نوٹ کسی قانونی نکتہ پر اختلاف رائے کی وجہ سے لکھے جاتے ہیں لیکن دیکھاجاسکتا ہے کہ جسٹس یحیی آفریدی کا نوٹ واقعات کی ترتیب کے بارے میں ہے۔ یعنی وہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اکثریتی ججوں کے اس ’مشاہدہ‘ سے اختلاف کررہے ہیں کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت اسلام آباد کے ہنگاموں میں ملوث نہیں تھی یا اس کے شواہد نہیں ہیں اور اسے ذمہ دار قرار نہیں دیاجاسکتا۔ محض ایک ہفتہ قبل ٹیلی ویژن اسکرینوں اور سوشل میڈیا ویڈیوز کے ذریعے دستاویز ہونے والے واقعات کے بارے میں ایک ہی بنچ میں شامل جج حضرات کیسے دو متضاد نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں؟ یہ اختلاف کسی قانون کی تفہیم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اکثریتی فیصلہ سب کی آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والے واقعات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کے مماثل ہے۔
حالات کی ستم ظریفی ہے کہ آج ہی تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اسے احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے؟ یعنی عام حالات میں جو اجازت کسی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دینی چاہئے، اب اس کے لئے چیف جسٹس کو مداخلت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کو طے کرنا ہے کہ ملک میں جاری موجودہ سیاسی تنازعہ میں وہ ثالث تو نہیں بن سکی تو کیا اب فریق بننے سے گریز کرنا ہی بہتر حکمت عملی نہیں ہوگی؟