حکومت پی ٹی آئی مارچ روکنے کے لئے میں ایف سی کو استعمال کرے گی

  • جمعرات 02 / جون / 2022

حکومت اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں پولیس کی مدد کے لیے فرنٹیئر کونسٹیبلری (ایف سی) کو بطور انسدادِ فساد فورس کے طور پر تعینات کرے گی۔

 حکومت پاکستان تحریک انصاف کے دوسرے لانگ مارچ کو مکمل طاقت کے ساتھ روکنے کے لیے راستہ تلاش کر رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ کے زیر قیادت اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی آپریشنکل صلاحیت کو بڑھانے سے متعلق اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی اہلکاروں کو ترک انسدادِ فساد پولیس کی طرز سے تربیت دیتے ہوئے انسدادِ فسادات کٹس بھی فراہم کی جائیں گی جنہیں ’ روبوکوب سوٹس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دارالحکومت کی پولیس اور ایف سی کو قانونی تعاون کے ساتھ مزید مالی اور تکنیکی وسائل فراہم کیےجائیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جاسکے۔

علاوہ ازیں وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف سی کی تنخواہوں، الاؤنسز اور شہدا پیکج خیبر پختونخوا پولیس کے برابر دیا جائےگا۔ مذکورہ فیصلے کا اطلاق آئندہ مالی سال سے کیا جائےگا۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ فساد پھیلانے والوں کو کسی بھی قیمت پر دارالحکومت میں داخل ہونے کیا اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔

ایف سی وفاقی نیم فوجی فورس ہے جس کے زیادہ تر دستوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں مجموعی طور پر 30 ایف سی پلاٹونز تعینات کی گئی ہیں۔ ہر پلاٹون 43 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ ایف سی دستے سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی مدد کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی اہلکاروں کے بنی گالہ ہاؤس کے گرد بھی تعینات کیا جائے گا اور یہ دارالحکومت میں مظاہروں کو روکنے کے لیے بیک فورس کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔