پاکستان اور ترکی کا دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم

  • جمعرات 02 / جون / 2022

وزیراعظم شہباز شریف اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دونوں برادر ممالک کے درمیان بہترین دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس سال پاکستان اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں اور طیب اردوان کی متحرک اور بصیرت افروز قیادت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اعلیٰ سطح کے اسٹریٹیجک تعاون کونسل کے اجلاسوں میں جامع مذاکرات کا حصہ رہا ہے اور یہ ہمارا مشترکہ مفادات کی تلاش میں انتہائی اہم ثابت ہوئے ہیں۔ طیب اردوان نے اس سلسلے میں اگلے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے ستمبر میں اسلام آباد میں انعقاد کا عندیہ دیا ہے۔

جون میں ایک مضبوط تجارتی وفد بھی پاکستان کا دورہ کرے گا اور اس سلسلے میں ہماری ٹیم بھرپور تیاریاں کرے گی تاکہ وہ اس سے بھرپور نتائج حاصل کر سکیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں ای کامرس، سیاحت، انفرااسٹرکچر، تعلیم، ڈیولپمنٹ جیسے لاتعداد شعبے میں ترکی ترقی کر سکتا ہے اور ہائیڈرو پاور توانائی کی پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے حوالے سے ہمیں ترکی سے مدد ملنے پر انتہائی خوشی ہے جس نے پاکستان میں سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی قدرتی پارٹنر ہیں۔ ہمارے کئی چیلنجز اور مواقع یکساں ہیں، دونوں ملک مشکل وقت اور باہمی مفادات کے حامل منصوبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ خصوصاً جموں و کشمیر کے مسئلے پر آپ کی مسلسل حمایت کو پاکستان کے عوام سراہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی غیرمتزلزل حمایت نے کشمیر کے بہادر عوام بہت طاقت فراہم کی جو گزشتہ سات دہائیوں سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا رہے ہیں۔ میں صدر طیب اردوان کو بھارتی اقدامات بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کی تبدیلی کی کوششوں سے خطے کے امن و استحکام کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ خصوصاً فیٹو اور پی کے کے سے لاحق خطرات کے حوالے سے ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔ ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ پاکستان اور ترکی نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقصد کے تحت مل کر کام کیا ہے، دونوں ملکوں نے دنیا میں سب سے بڑی مہاجر آبادی کی میزبانی کی اور ہم نے یہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم نے ترک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار کو بڑھانے کا بھی اعادہ کیا۔ ستمبر میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوگا جس سے دونوں ممالک کو اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا موقع ملے گا۔

صدر اردوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے صدارتی محل پہنچے تو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور ترک ایوان صدر میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔

اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے قومی ترانےبجائے گئے اور وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم  شہباز شریف نے اپنے اپنے وفود کے ارکان کا تعارف کرایا جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ون آن ون ملاقات کی۔