کیریئرکونسلنگ پر توجہ کیوں نہیں
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعرات 02 / جون / 2022
تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلسنگ کا باقاعدہ شعبہ نہ ہونے سے طلبہ و طالبات میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور ڈگری سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیریئر کے انتخاب میں سخت کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔ہر چند کہ پاکستان میں طالب علموں کی یونیورسٹیوں تک رسائی ماضی کے مقابلے میں کافی بڑھی ہے لیکن یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ ان لاکھوں طالب علموں میں صرف کچھ ہی ایسے ہوتے ہیں جن کا انتخاب کردہ شعبہ واقعی ان کا پسندیدہ شعبہ بھی ہوتا ہے۔
اپنے قدرتی رجحانات و صلاحیتوں کے برعکس والدین کی خواہشات یا کسی کے مشوروں پر تعلیمی شعبے کا انتخاب کرنے والے زیادہ تر بچے اپنے منتخب کردہ شعبوں میں اس بلند معیار کی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے، جو اس شعبے کا تقاضہ ہوتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بننے والی تعلیمی پالیسیوں میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر بچوں کو" کیریئر کونسلنگ "کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن کیریئر کونسلنگ کے حوالے سے سرکاری تعلیمی اداروں میں کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ اؤل تو ہوتی ہی نہیں اور اگرکہیں ہوتی بھی ہے تو انتہائی سطحی لیول پر۔ہمارے ہاں عام طور پر طلبہ کالج یا یونیورسٹی تعلیم کے بعد کیریئر پلاننگ کی سوچتے ہیں،حالانکہ کیریئر پلاننگ کا تعین اسکول لائف سے ہی ہونا چاہیے۔
ہمارے ہاں کیریئر کا فیصلہ کرتے وقت زیادہ تروالدین اور طلبہ خود کو بے بس پاتے ہیں۔ والدین مارکیٹ کے رجحانات،تعلیمی نظاموں اور کسی خاص شعبہ کی وسعت سے لاعلم ہوتے ہیں۔اسی طرح چودہ پندرہ برس کی عمرکے طلبہ اس قدر بالغ نظر نہیں ہوتے کہ زندگی بدل دینے والے فیصلے تن تنہا خود اعتمادی سے کر سکیں۔کیریئر اورپیشے کے انتخاب میں طلبہ اور والدین کی بے بسی کو سامنے رکھتے ہوئے اسکول کی سطح پر کیریئر پلاننگ کا شعبہ وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے۔ اسکول کی سطح پر کیریئر پلاننگ شعبے کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ انفرادی طور پر وقتا فوقتا طلبہ کی شخصیتوں کا جائزہ لیتا رہے۔ ثانوی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اسکول کے کیریئر پلاننگ شعبے کو انفرادی طور پر ہر طالب علم کی دلچسپیوں کا مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کے بعد ان کے فطری رجحان کے مطابق موزوں پیشے تجویز کر دینے چاہیں۔اسکول کی سطح پر کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ و طالبات" سوچتے "ساری عمر کچھ اور ہیں، بادل نخواستہ انہیں "کرنا" کچھ اور پڑتا ہے اور فطری میلان، دلچسپی اور مہارت کے برعکس کام کرنے کے نتیجے میں ان کے ساتھ "ہوتا"کچھ اور ہے۔
ہمارے ہاں طلبہ کو عمومی طور پر تین اقسام یا درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایک وہ جو بہت محنتی اور ذہین ہوتے ہیں، ان کی دلچسپی اور رجحان جانے بغیر انہیں زبردستی سائنس مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔دوسرے درجے میں ایسے طلبہ آتے ہیں جو قدرے متوسط ذہنی استعداد کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں کامرس یابزنس ایڈمنسٹریشن مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔تیسرے درجے میں ایسے تمام طلبہ آتے ہیں جوپڑھائی میں کم دلچسپی رکھتے ہیں،ایسے طلبہ کو سوچے سمجھے بغیر آرٹس مضامین پڑھنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ ایک غیرمعمولی ذہین بچہ وکالت کے شعبے کے لیے فطری رجحان اور دلچسپی رکھتا ہو لیکن اس کے والدین اسے زبردستی ڈاکٹر یا انجینئر بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک کامیاب ترین وکیل یا بیرسٹر بننے کی بجائے ایک اوسط قسم کا ڈاکٹر یا انجینئر بن جاتا ہے۔ اسی طرح بہت سے ایسے طلبہ ٹیچنگ پروفیشن کو جوائن کر لیتے ہیں جونہ تو ٹیچنگ کی طرف فطری میلان رکھتے ہیں اور نہ ہی بچوں کے جسمانی، ذہنی، سماجی، معاشی اور نفسیاتی اختلافات سمجھنے کی صلاحیت۔بادل نخواستہ ٹیچنگ پروفیشن کی طرف آنے والے ایسے اساتذہ نہ تو صیح معنوں میں بچوں کو پڑھا پاتے ہیں اور نہ ہی وہ کیریئر پلاننگ کے حوالے سے بچوں کو کوئی مفید مشورہ دے پاتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب کسی بھی طالب علم کے مستقبل کے منصوبے ڈاکٹریا انجینئر بننے کے گرد گھومتے تھے۔ اکیسویں صدی کی دنیامیں زندگی بہت متحرک اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہے۔آج کے نوجوانوں کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی،الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور ویب نیٹ ورکنگ اور ڈیجیٹل میڈیا سے لے کر آن لائن بزنس کے مواقع اور فیشن ڈیزائنگ تک غیر روایتی شعبہ جات کی ایک بھرپور اور مکمل دنیا موجود ہے۔ درست کیریئر کاانتخاب کرنا ایک ایسا غور طلب کام ہے جس کا آپ کی دلچسپیوں،مہارتوں اور شخصیت سمیت متعدد باتوں پر انحصار ہوتا ہے۔ہمارے ہاں کیریئر پلاننگ کرتے ہوئے مارکیٹ کی ضرورت، تعلیمی قابلیت، والدین کا دباؤ، دوستوں کی رائے کو اولیت دی جاتی ہے جبکہ ذاتی رجحان اور دلچسپی پر برائے نام توجہ دی جاتی ہے حالانکہ ذاتی میلان اور دلچسپی کو سب سے زیادہ مدنظر رکھنا چاہیے۔ عام طور پر لوگ کامیاب کیریئر کے لیے ایسے پیشہ کا انتخاب کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے یقینی طور پر منافع بخش روزگار حاصل ہو۔پیشے کے انتخاب میں منافع بخش روزگار ترجیح ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کام میں دلچسپی اور ذہنی اطمینان کے امور کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔یاد رکھیں، آپ اپنی محنت سے کسی شعبے میں ایک خاص حد تک ترقی حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس میں پرفیکشن تب ہی آسکتی ہے جب آپ کا اس کام میں نہ صرف قدرتی رجحان اور لگاؤ ہو بلکہ یہ آپ کی زندگی کا مقصد بھی ہو۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں مناسب کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ غلط تعلیمی فیصلے کرتے ہیں اور نا مناسب کیریئر کا انتخاب کرکے اپنا مستقبل برباد کر لیتے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بے روزگار پھرنے کی ایک وجہ کیریئر پلاننگ کے بغیر تعلیم کا حصول بھی ہے۔کیر یئر کونسلنگ کے بغیر تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو جاب کے حصول میں کیر یئر پلاننگ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والوں کی نسبت جاب کے حصول میں زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مزید یہ کہ اپنی مرضی اور رجحان کے برعکس ملازمت یا کام کرنے والے نوجوان اپنے پیشے میں وہ نام و مرتبہ نہیں کما سکتے جو اپنی مرضی اور رجحان کے مطابق جاب کرنے والے افرادکے حصے میں آ سکتا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں کیریئر کونسلنگ کا باقاعدہ شعبہ نہ ہونے کی صورت میں کیریئر کونسلنگ کی تمام تر ذمہ داری والدین کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔والدین کو بچوں کو زبردستی اپنی مرضی کے مضامین پڑھانے کی بجائے ایسے مضامین یا شعبوں میں تعلیم دلوانی چاہیے جس میں بچہ قدرتی رجحان، دلچسپی اور مہارت رکھتا ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں اسکولز،کالجز اور یونیورسٹیز کی سطح پرباقاعدہ کیریئر کونسلر تعینات کیے جائیں، جوبچوں کے ذہنی رجحان، صلاحیتوں اور دلچسپیوں کا مشاہدہ و تجزیہ کرنے کے بعد انہیں موزوں پیشے اختیار کرنے کے لیے مناسب مشورے دے سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کی تعلیمی و پیشہ وارانہ کیریئر کونسلنگ کے لیے کم از کم ایک فیصد بجٹ مختص کرتے ہوئے جلد از جلد متعلقہ وزارت بھی قائم کی جائے۔