غداری کا مقدمہ بنا کر مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے: عمران خان

  • جمعہ 03 / جون / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرایا گیا۔ اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان پر غداری کا مقدمہ کرکے اس کو راستے سے ہٹائیں۔

بونیر میں پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی باعزت نہیں ہوسکتا۔ کسی بھی جلسے میں جاتا ہوں، ابھی بولنا بھی شروع نہیں کرتا اور فضل الرحمٰن کے خلاف ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگنے شروع ہوجاتے ہیں۔ فضل الرحمٰن دین کے نام پر سیاست اور مفاد پرستی کرتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ بیرونی سازش کے تحت ہم پر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی، بھارت اور اسرائیل ہمارے ملک کو کمزور کرنا اور ٹوڑنا چاہتے ہیں۔ اس حکومت کے آنے کے بعد سب سے زیادہ خوشیاں بھارت میں منائی گئیں، بھارتی میڈیا میں ایسے خوشیاں منائی جیسے شہباز شریف نہیں ، شہباز سنگھ تھا۔ انہوں نے سمجھا جیسے ان کی اپنی حکومت آگئی ہو۔ شریف خاندان کے بھارت کی تاجر برادری سے تعلقات ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب ملک کی بہت بڑی بیماری آصف زرداری ہے، اس کو پیسے کی بیماری ہے۔ وہ پیسا دیکھتا ہے تو اس کا جسم کانپنا شروع ہوجاتا ہے، اس کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوجاتی ہیں۔ شریف خاندان اور آصف زرداری امریکا کے ساتھ مل کر ہماری حکومت کے خلاف بیرونی سازش کا حصہ بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے خلاف مہنگائی کا شور مچایا جاتا تھا کہ پی ٹی آئی نے ملک میں بہت زیادہ مہنگائی کردی ہے۔ بلاول بھٹو نے مہنگائی مارچ کیا کہ لوگوں کا معاشی قتل ہوگیا، ہر جگہ ہر فورم پر ہماری حکومت کے خلاف مہنگائی سے متعلق تنقید کی جاتی تھی۔ ہمارے دور حکومت میں 20 کلو آٹے کی قیمت میں 326 روپے بڑھی جب کہ ان کے صرف 2 ماہ میں آٹے کی قیمت میں 422 روپے کا اضافہ ہوا۔ ہماری حکومت میں چاول کی قیمت میں 40 روپے اضافہ ہوا، ان کے صرف 2 ماہ میں 55 روپے کا اضافہ ہوا۔ ہمارے دور میں گھی کی فی کلو قیمت میں 213 روپے کا اضافہ جب کہ ان کے 2 ماہ میں گھی کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ پھل اور سبزی کی قیمتوں میں ہمارے دور میں 3 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ان 2 ماہ میں ان اشیا کی قیمتوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔'

ہمارے ساڑھے 3 سالوں میں پیٹرول کی قیمت میں 56 روپے 90 پیسے کا اضافہ ہوا جب کہ اس حکومت کے صرف 2 ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف قیمتیں بڑھانے کے لیے ہم پر بھی دباؤ ڈالا تھا مگر ہم میں اور ان میں یہ ہی فرق ہے کہ ان کی تمام دولت، جائیدادیں باہر ہیں۔ ان کا پاکستان کے ساتھ کوئی مفاد نہیں، انہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ مہنگائی سے پاکستان میں کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کو احساس ہی نہیں ہے کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمت میں اضافے سے عوام پر کیا اثرات پڑتے ہیں، کیا عوام کے بھی سوئس بینک اکاؤنٹس ہیں، جب یہاں روپیہ گرتا ہے تو ان کے پیسے میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں کورونا کے باوجود ملکی معیشت ترقی کر رہی تھی جب کہ ان کی حکومت میں مئی کے مہینے میں تجارتی خسارے میں 4 ارب کا اضافہ ہوگیا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی بہت زیادہ کمی ہوئی ہے، روپے کی قدر میں کمی ہوئی، ڈالر 200 روپے سے اوپر چلا گیا ہے، اس سے ابھی ملک میں مزید مہنگائی آئے گی۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں آج ہمارے ملک کے نیوٹرلز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے فیصلہ کیا کہ ہم نیوٹرل ہو جاتے ہیں، بسم اللہ بہت اچھی چیز ہے لیکن میں نے تب آپ کو بتایا تھا کہ جس جگہ پر ہمارے معاشی حالات کھڑے ہیں، اگر اس وقت یہ سازش کامیاب ہوگئی تو ہماری ملک کی معیشت کو بہت نقصان ہوگا۔ آج میں اپنے نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں یہ جو باتیں کر رہے ہیں کہ عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ میں عوام سے پوچھتا ہوں کہ نواز شریف اور آصف زرداری میرے خلاف غداری کا مقدمہ چلائیں گے۔ وہ لوگ جن کا سب کچھ باہر ہے، وہ آصف زرداری جس نے حسین حقانی کے ذریعے امریکیوں کو کہا کہ مجھے پاکستانی فوج سے بچاؤ۔ کیا وہ شخص مجھ پر غداری کا مقدمہ کرے گا۔ کیا سزا یافتہ، جھوٹ بول کر مفرور نواز شریف مجھ پر غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرے گا۔ کیا وہ فیصلہ کرے گا کہ میں غدار ہوں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سازش عمران خان کے خلاف اس لیے کی گئی تھی کیونکہ اگر عمران خان راستے سےہٹتا ہے تو پھر ملک کو لوٹنے والے اس طرح کے لوگوں کے لیے راستہ صاف ہے جو 30 سالوں سے حکومت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کو مقروض کیا ہے، ہم نے ملک کو مشکل حالات سے نکالا۔ مستحکم معیشت کے راستے پر ڈالا تو سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرایا اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم اس سازش کو سمجھ چکی ہے تو آج یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان پر غداری کا مقدمہ کرکے اس کو راستے سے ہٹائیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت الیکشن میں دھاندلی کرکے جیتنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو ساتھ ملایا ہوا ہے۔ حلقہ بندیوں میں پورا میچ فکس کیا ہوا ہے۔ پہلے سے تیاری کی ہوئی ہے، کیونکہ ویسے تو یہ الیکشن جیت نہیں سکتے۔ یہ جب بھی عوام میں جائیں گے تو ان کے خلاف 2 نعرے لگیں گے، ایک چور اور دوسرا غدار۔ عوام میں تو یہ جا نہیں سکتے، اس لیے الیکشن کمیشن کو ساتھ ملا کر پورا میچ فکس ہونے کی کوشش ہو رہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین کہتے ہیں کہ عمران خان کو جیل میں ڈالو۔ جیل تو چھوٹی چیز ہے، میں تو اپنی جان بھی دینے کے لیے تیار ہوں۔ میں یہاں سپریم کورٹ کو بھی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مجھے 40 سال سے قوم جانتی ہے، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا۔ ہمیشہ پرامن احتجاج کیا، 126 دن پرامن دھرنا دیا۔ کبھی قانون توڑ کر ملک کا نقصان نہیں کرنا چاہیں گے۔

میں اپنے ججز سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ نے جو کمیٹی بنائی ہے وہ ساری سرکاری کمیٹی ہے، بڑے احترام سے کہتا ہوں کہ اس میں سول سوسائیٹی سے لوگوں کو ڈالیں۔ تاکہ آپ کو دوسری طرف سے بھی پتا چلے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔