جوڈیشل ایکٹیو ازم اور ہماری کمزور جمہوریت (2)

بات شروع ہوئی تھی ’’جوڈیشل ایکٹیو ازم اور ہماری کمزور جمہوریت؟‘‘ کے عنوان سے، آگے بڑھنے سے قبل درویش یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ ہمیں ذرا ذرا سی بات پر دوسروں کو غدار، ملک، وطن یا مذہب دشمن کے القابات بانٹنے کا وتیرہ ختم کر دینا چاہیے۔

نقطۂ نظر کی تفہیم یا ابلاغ میں اختلاف کسی سے بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں شعوری و منطقی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر جوابی وار کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن بات بے بات یہ پرچار کہ فلاں، دشمن قوتوں کا ایجنٹ ہے، قابل مذمت رویہ ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین سے جتنی شکایت اور مغائرت اس درویش کو روز اول سے ہے، اتنی پورے ملک میں شاید ہی کسی کو ہو اس کی نظر میں سرے سے یہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ایک ایسا پریشر گروپ ہے جو طاقتوروں کے فیضان سے بھان متی کے کنبے کی صورت، ادھر ادھر سے اٹھا کر جمع کیا گیا ہے۔ رہ گیا اس کا لیڈر تو اس کے چاہنے والے اگر اسے جناح ثانی قرار دے سکتے ہیں تو مخالفین ایڈولف ہٹلر سے اس کی مماثلت بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ وہ ان دنوں کے پی کے کے پہاڑوں میں حق و باطل کے معرکے بپا کرتے ہوئے اپنا جہادی بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔

موصوف کرسی اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد مینٹلی اتنے ڈسٹرب ہیں کہ وہ یہ صدمہ بھلائے نہیں بھول پا رہے ’’امریکی سازش‘‘ کا مراسلہ تو محض ظاہری طور پر عوامی جلسوں کے لئے ہے ورنہ انہیں اصل غصہ ملک کے حقیقی طاقتوروں پر ہے جن کی تضحیک وہ نیوٹرل کو جانور کہہ کر کرتے رہتے ہیں۔ اسی روا روی میں وہ ان کے خلاف انڈیا کی تعریف بھی کر جاتے ہیں اور ریاست پاکستان کے متعلق اپنے خدشات بھی بیان فرماتے رہتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ جب کسی ملک کی معیشت ڈوب جاتی ہے تو فوجی طاقت چاہے جتنی بڑی اور نیوکلیئر بھی ہو، وہ بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ سوویت یونین کی مثال پیش فرماتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے تین خوفناک خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اول یہ کہ ایسی صورت میں پاکستان کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ دوئم، ہماری طاقت ور فوج تباہ ہو جائے گی۔ سوئم، فورسز کی تباہی پر ہمارے نیوکلیئر پروگرا م کو لپیٹ دیا جائے گا یا بڑی طاقتیں اسے اپنے کنٹرول میں لے لیں گی۔ بلاشبہ ان کے یہ تینوں خدشات قابل مذمت ہیں۔ اس امر میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ وہ حکمرانی سے ہٹائے جانے کے بعد فرسٹریشن میں یہ سب کچھ کہے جا رہے ہیں ورنہ اگر انہیں آج کرسی پر بٹھا دیا جائے تو وہ پاکستان کو امریکا سے مضبوط ملک اور بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے افواج کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

مگر ان پر اس سلسلے میں بھرپور تنقید کے باوجود انصاف کی یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ انہوں نے یہ ہر گز نہیں کہا کہ ایسے ہو، نہ وہ ایسے کسی المیے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے اندر اس نوع کی حسرت ضرور محسوس کی جا سکتی ہے کہ انہیں ہر صورت وزیراعظم ہونا چاہیے، چاہے وہ سابقہ ریاست سوات ہی کیوں نہ ہو۔ ابھی سوات سے منسلک شانگلہ میں عوامی جلسے سے خطاب میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا ہے کہ خوف کے بت کی پوجا سب سے بڑا شرک ہے۔ خوف قوم کو غلام بنا دیتا ہے، ملک نیچے چلا جائے اور آپ یہ کہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں تو تاریخ کبھی آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ چوروں کا ٹولہ ملک کو جہاں لے کر جا رہا ہے ’’لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں اصل پاور آپ کے پاس ہے‘‘۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا سابق کرکٹر آئین و قانون کی طاقت سے زیادہ لٹھ یا بندوق وپسٹل کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔ اسی لئے وہ پیہم و ہمہ وقت طاقتوروں کو آوازیں دے رہا ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں نیوٹرل نہ بنو آگے بڑھو اور میرے جیسے مرد مومن ثانی کو برسراقتدار لے آؤ۔

نواز شریف کی طاقتوروں پر تنقید اس حوالے سے ہوتی تھی کہ تم لوگ اپنی آئینی حدود یا ذمہ داریوں کے اندر کیوں نہیں رہتے ہو، اپنے حلف سے آگے بڑھ کر پولیٹیکل انجینئرنگ کیوں کرتے ہو؟ جبکہ بھائی جان کی شکایت اس بیانیے کے الٹ آئینی کی بجائے جہادی ترغیب کے لئے ہے۔ اب یہ کام ہماری سپریم جوڈیشری کا ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لے کہ انہوں نے آئین کے کسٹوڈین بننا ہے یا جذبہ ایمان سے سرشار کرکٹر کے جہادی بیانیہ کی مضبوطی کے لئے آئینی موشگافیاں کرتے ہوئے قانون کی ناک مروڑنی ہے۔ پچیس مئی کو اسلام آباد پر جو مسلح یلغار ہوئی جس کا علانیہ اقبال و اعتراف خود اس کی یلغاری و جہادی قیادت نے کیا، جس طرح دو درجن سے زائد پولیس والوں کو زخمی کیا گیا، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جلائی گئیں، اسلام آباد میں میٹرواسٹیشن جلایا گیا، لاہور میں پولیس اہلکار کو سیدھی گولیوں سے مارا گیا، کراچی میں سرکاری گاڑیوں کو جلایا گیا، اسلام آباد میں پودوں کی ہری لہلہاتی کیاریوں اور سرسبز و شاداب درختوں کو باقاعدہ پٹرول ڈال کر جلایا گیا، کیا ان پُرتشدد کارروائیوں کو پُرامن احتجاج کہا جا سکتا ہے؟

کیا ہمیں تو حالت جنگ میں بھی درختوں کو نقصان پہنچانے سے روکا نہیں گیا ہے؟ آپ نے واضح الفاظ میں ریڈ زون یا ڈی چوک میں داخلے سے روکتے ہوئے ایک مخصوص مقام پر جلسے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی لیکن دوسری طرف مسلح کارواں کی قیادت کرنے والا کنٹینر پر اعلان فرما رہا تھا کہ سپریم جوڈیشری نے اجازت دے دی ہے لہٰذا سب لوگ ’’ڈی چوک‘‘ پہنچو۔ اس کا نائب کہہ رہا تھا کہ یہ ہمارے سیاسی ایشوز ہیں ان میں جوڈیشری کا ٹانگ اڑانا نہیں بنتا، اس کے بعد اور کون سے آسمانی ثبوت درکار تھے کہ نوبت کمیشنوں، اعلیٰ افسران کے بلاوے یا سات سوالوں تک جاتی؟۔ اس نوع کی توجیہات کیا اتنے بڑے ادارے کو زیب دیتی ہیں کہ ہوسکتا ہے پوری طرح اطلاع نہ پہنچ سکی ہو، ہوسکتا ہے ٹیئر گیس کی اثر آفرینی کو کم کرنے کے لئے آگ لگائی گئی ہو، ہوسکتا ہے .....؟

ہماری کمزور اتحادی حکومت کو بھی عقل سے کام لینا چاہیے جس کا مفتاح روز عوام پر پٹرول بم پھینک کر نئے بارود کی وعیدیں سناتا اور ڈراتا رہتا ہے۔ یہ شہباز حکومت کسی کے بیان کو پکڑ کر مقدمات بنانے پر وقت ضائع کرنے کی بجائے ٹھوس حقائق پر توجہ دے۔ کیا آئین میں واضح نہیں لکھا ہے کہ جب عدم اعتماد کی قرار داد جمع ہو جائے تو وزیراعظم اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتا؟ پاکستان میں اس گھناؤنی آئین شکنی کا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ اگر آئینی عدالت میں جانا ہے اور اس کے ضمیر کو جگانا ہے تو پھر اس آئین شکنی کے مرتکبین کو کٹہرے میں کھڑے کرنے کے لئے مشاورت فرمائیں۔ مولوی لوگ تو کہتے ہیں کہ ایک آیت کا انکار پوری کتاب کا انکار ہوتا ہے۔ (جاری ہے)