شہباز شریف کی وزارت عظمی یاذلت کا طوق؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 03 / جون / 2022
ملک میں ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم کی قیمتوں میں 60 روپے لیٹر اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اس کے علاوہ ہے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف تقریروں میں اپنے کپڑے بیچ کر غریبوں کا پیٹ بھرنے کا پرجوش اعلان کرتے رہے ہیں یا پھر اب ان کے ترجمان میڈیا کو دل گرفتگی سے یہ بتاتے دکھائی دیتے ہیں کہ وزیر اعظم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ا ضافے کی سمری پر دستخط کرتے ہوئے آنسو بہانے لگے۔ واضح رہے ملک کو آنسو بہانے اور نعرے لگانے والے لیڈر کی بجائے ایک ایسا رہنما درکار ہے جو بنیادی اصولی فیصلے کرسکے اور ان کی ذمہ دار قبول کرے۔
حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے لئے ڈیڑھ ماہ تک انتظار کیا۔ اس دوران یہ چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ کیا یہ حکومت کام کرے گی یا آئی ایم ایف کے سامنے ڈھیر ہونے کی بجائے یہ مشکل کام انتخابات سے پہلے قائم ہونے والی کسی عبوری حکومت کے حوالے کرکے خود عوام کے سامنے سرخرو ہونے کی کوشش کرے گی۔ اس طرح عمران خان کا نئے انتخابات کا مطالبہ بھی پورا ہوجائے گا اور اتحادی جماعتوں کو ممکنہ انتخابات میں عوام کے سامنے شرمسار ہوکر ان کی حمایت سے محروم ہونے کا اندیشہ بھی نہیں رہے گا۔ شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے کئی وزرا اور دیگر لیڈروں کی لندن میں نواز شریف کے ساتھ سہ روزہ مشاورت اسی حوالے سے ضروری سمجھی گئی تھی۔ اسی تناظر میں حکومتی ترجمان یہ اعلان کرتے دکھائی دیتے تھے کہ اگر ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تو ہم حکومت میں بیٹھنے کی بجائے نئے انتخابات کا سامنا کرنے کو ترجیح دیں گے۔ گویا وہ عسکری قیادت سے تعاون اور سرپرستی کی بھیک مانگ رہے تھے۔ آئینی طریقے سے اقتدار میں آنے والی یہ عجیب بے اختیار حکومت ہے۔
اب پیٹرولیم ، بجلی و گیس کے علاوہ دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد سطحی قسم کی بیان بازی کی جارہی ہے جس سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ لوگ کس برتے پر خود کو 22 کروڑ آبادی کے ملک کی قیادت کا حقدار یا اہل سمجھتے ہیں۔ عوام کو رجھانے کے لئے کبھی شہباز شریف ڈائس پر مکے مارتے ہوئے اپنے کپڑے بیچنے کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی مریم اورنگ زیب یا مفتاح اسماعیل یہ کہانی سنا کر حکومت اور وزیر اعظم کی مظلومیت کی تصویر راسخ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ انتہائی مشکل میں کیا گیا ہے اور شہباز شریف نے لرزتے ہاتھوں اور اشک بھری آنکھوں سے قیمتوں میں اضافے کی سمری پر دستخط کئے تھے۔ شہباز شریف اگر اس قدر نرم دل ہیں کہ وہ وسیع تر ملکی مفاد میں کوئی اہم فیصلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تو انہیں آرام سے گھر بیٹھنا چاہئے تھا۔ وہ پشتینی امیر ہیں اور لاہور کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک میں آرام دہ بلکہ عیش کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ پھر انہیں بھاری دل کے ساتھ ’عوام دشمن‘ فیصلوں میں حصہ دار بننے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ شہباز شریف کو اس سوال کا جواب بھی دینا چاہئے کہ ایک بار نہیں بلکہ جب وہ تواتر سے اپنی تقریروں میں غریبوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کپڑے فروخت کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں تو اسے صریحاً جھوٹ اور دھوکہ دہی کے علاوہ کیا نام دیاجاسکتا ہے؟
نہ تو شہباز شریف کی پوشاکیں اتنی قیمتی ہوں گی کہ انہیں فروخت کرکے دس بیس ارب ڈالر جمع کرلئے جائیں تاکہ ملک کی فوری مالی ضرورتیں پوری ہوجائیں اور نہ ہی آج تک کسی امیر لیڈر نے کپڑے بیچ کر غریبوں کی مدد کا کوئی منصوبہ شروع کیا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ شریف خاندان تین دہائیوں سے اس ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور ’سیاسی قیادت‘ نسل در نسل منتقل ہورہی ہے لیکن ان میں کسی کو اب تک یہ خیال نہیں آیا کہ وہ تقریر کرنے اور کسی جلسہ میں عوام سے مخاطب ہونے کے کا سلیقہ سیکھ لیتا۔ اب تو ہر فن کی تربیت کے لئے ہمہ قسم ماہرین دستیاب ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس بھی پروفیشنل میڈیا پرسنز کی فوج ظفر موج موجود رہتی ہے۔ کیا مناسب نہیں ہوگا کہ سستی جذباتیت سے مرصع جھوٹی تقریریں کرنے کی بجائے شہباز شریف اور مریم نواز سمیت اس پارٹی کے سب لیڈر ذمہ داری سے ایسی گفتگو کرنے کا ڈھنگ سیکھیں جس پر تصنع اور بناوٹ کا گمان نہ ہو۔
ملک اس وقت شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے اختلافات صرف بعض امور پر مختلف نقطہ نظر رکھنے تک محدود نہیں رہے بلکہ ذاتی لڑائی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ عمران خان نے اس رویہ کو فروغ دیا ہے لیکن یہ نسخہ کس حکیم نے لکھا ہے کہ الزام تراشی، جذباتی دروغ گوئی اور تلخ کلامی کا وہی طریقہ اس سیاسی چیلنج کا مناسب جواب ہوسکتا ہے؟ کیا الزامات کے جواب میں حقیقت پر مبنی گفتگو اور ملکی معاملات میں رونما ہونے والی خوشگوار تبدیلی ، فریق مخالف کی الزام تراشی کا سب سے بہتر جواب نہیں ہوگا؟ کیا شہباز حکومت اپنی بے عملی اور جارحانہ رویوں سے یہ ثابت نہیں کررہی کہ اس کے پاس عمران خان کی پالیسیوں کاکوئی متبادل موجود نہیں تھا لیکن گزشتہ چار سال تک تحریک انصاف کی حکومت کے ہر فیصلہ کو مسترد کرکے ایک ایسی فضا پیدا کردی گئی جس سے یہ قیاس ہونے لگا کہ اپوزیشن پارٹیاں اگر اقتدار سنبھال لیں گی تو شاید ملک میں فوری بہتری کے آثار پیدا ہوں گے۔ جب صورت حال اس کے برعکس ہوگی تو چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود عوامی رد عمل کی تمام تر ذمہ داری اقتدار سنبھالنے والی اتحادی حکومت کو ہی قبول کرنا پڑے گی۔
موجودہ اتحادی حکومت میں شامل پارٹیوں نے خود شوق سے عمران خان کی اتحادی پارٹیوں کو توڑ کر قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اور شہباز شریف کو وزیر اعظم کی مسند پر فائز کردیا۔ عدم اعتماد اور نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے پہلے ہونے والی درجنوں ظاہر اور خفیہ ملاقاتوں میں یہ تو طے کیا گیا کہ کس پارٹی ، گروہ یا رکن کو کون سا لالچ دے کر توڑا جاسکتا ہے لیکن اس مشاورت میں کسی مرحلہ پر یہ طے نہیں کیا گیا کہ حکمرانی کا چیونٹیوں بھرا کباب ہاتھ میں پکڑ کر وہ معاملات کو کیسے طے کریں گے۔ کیا شہباز شریف، مفتاح اسماعیل یا آصف زرداری کو حکومت تبدیل کرنے سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بغیر ملکی معاشی معاملات درست نہیں کئے جاسکتے۔ اور اس عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اتفاق کرنے کے لئے کون سے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ اب پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھا کر اور مہنگائی میں تیزی سے اضافہ کا سبب بن کر یہ بتانےسے کیا حاصل ہوسکتا ہے کہ سابقہ حکومت نے فلاں فلاں کام نہیں کیا تھا یا فلاں غلطی کی تھی۔ اب تو یہ بوجھ آپ کے کاندھوں پر ہے اور کسی حجت یا الزام تراشی سے ان مالی مصائب کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی ، جو اس وقت ملک کا بچہ بچہ بھگت رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات میں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ اضافہ کے بعد سوشل میڈیا پر تسلسل سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ عوام پر یہ بوجھ ڈالتے ہوئے ملک کے حکمران طبقے کو حاصل مفت پیٹرول ، بجلی یا گیس کی سہولتیں کیوں ختم نہیں کی جاتیں؟ یہ مراعات لینے والے کثیر تنخواہ بھی پاتے ہیں لیکن نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے برعکس ان کی نقل و حمل اور گھریلو اخراجات سرکاری فنڈز سے پورے کئے جاتے ہیں۔ ان میں وزیر، جرنیل، ججز، سرکاری اعلیٰ افسران اور دیگر عہدیدران شامل ہیں ۔ کیا بہتر نہ ہوتا کہ اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی حکم دیا جاتا کہ کسی سرکاری ملازم کو خواہ وہ کسی بھی عہدہ پر فائز ہو اسے ملنے والی تمام اضافی سہولتیں ملکی مالی حالات بہتر ہونے تک معطل کی جارہی ہیں۔ اس کے برعکس ذبردست عوامی دباؤ کے بعد اب کابینہ ارکان اور سرکاری افسران کو فری پیٹرول میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان نامکمل ہے اور عملی طور سے اس پر کبھی عمل نہیں ہوگا۔ جب بھی کسی سرکاری حکم میں کوئی سقم برقرار رکھا جاتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ یہ اعلان عوامی جذبات کو قابو میں رکھنے کے لئے مصنوعی طور سے کیا گیا ہے۔ اسی طرح شہباز شریف مہنگائی پر آنسو بہانے یا غریبوں کے لئے کپڑے فروخت کرنے کی بجائے خود اور کابینہ میں شامل ان کے امیر کبیر ساتھی یہ اعلان کرسکتے تھے کہ وہ اپنی دولت کا نصف یا بڑا حصہ سرکاری فنڈز میں دے رہے ہیں تاکہ عوام کو اپنے لیڈروں کی نیک نیتی اور خلوص دکھائی دیتا۔
سابقہ وزیر اعظم عمران خان اس وقت کسی بھی قیمت پر اسٹبلشمنٹ کو اس بات پر مجبور کرنا چاہ رہے ہیں کہ وہ کوئی ’غیر آئینی ‘ اقدام کرتے ہوئے موجودہ حکومت کو چلتا کرے اور ملک کے واحد دیانت دار کو اقتدار کی مستقل منتقلی کا کوئی بند و بست کیا جائے۔ ورنہ ان کے بقول ملک کے ساتھ جو ہونے والا ہے اس کا بیان کرنا محض خود کو اور پڑھنے والے کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔ اس انتہائی پوزیشن کا جواب دینے کے لئے شہباز شریف کی حکومت اسٹبلشمنٹ کا دست و بازو بننے کے لئے دوسری انتہا پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ آج ہی ایک سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے آئی ایس آئی کو اسپیشل ویٹنگ ایجنسی کا اسٹیٹس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکم کے بعد تمام سرکاری افسروں یا اہم عہدوں پر تعیناتی ، تقرری اور ترقی کے لئے آئی ایس آئی سے انٹیلی جنس اسکریننگ کروائی جائے گی۔ سادہ الفاظ میں وزیر اعظم کے حکم کا یہ مقصد ہے کہ ملکی سول بیورو کریسی میں کسی اہم عہدہ پر فوج کی ’اجازت‘ کے بغیر کوئی تقرری عمل میں نہیں آئے گی۔ کسی سول حکومت کی طرف سے اپنی اتھارٹی پر اس سے بڑی مفاہمت اب تک نہیں کی گئی تھی۔
اس سے پہلے بلوچستان کے دورہ کے دوران جب بلوچ رہنماؤں نے لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنے کا مطالبہ کیا تو وزیر اعظم شہباز شریف نے فرمایا تھا کہ وہ یہ معاملہ متعلقہ بااختیار لوگوں تک پہنچائیں گے۔ اس سے سخت رائے کا اظہار تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس کی صورت میں ہی سننے میں آتا رہا ہے۔ شہباز شریف کو اگر بطور وزیر اعظم کوئی فیصلہ کرنے اور حکم دینے کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے تو انہیں عمر کے آخری حصے میں ذلت کا یہ طوق پہننے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی تھی؟