پاکستان میں دو تہائی افراد 2022 میں نئے انتخابات چاہتے ہیں: سروے

  • ہفتہ 04 / جون / 2022

ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت اسی سال عام انتخابات چاہتی ہے۔ وہ پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے متعلق مسلم لیگ نواز کی قیادت والی حکومت کے دلائل سے مطمئن نہیں ہے۔

اپسوس کے سروے میں جب لوگوں کے سامنے پاکستان کی اتحادی حکومت کی یہ دلیل رکھی گئی کہ اس وقت پٹرول و ڈیزل کی قیمت کا بڑھانا ناگزیر ہے اور یہ ملک کے لیے مجموعی طور پر اچھا ہو گا تو اس پر صرف 19 فیصد نے اتفاق کیا جبکہ 62 فیصد نے اس بیان سے اتفاق نہیں کیا۔

جب ان کے سامنے بیان رکھا گیا کہ اس وقت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھانا عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گا تو 59 فیصد نے اس بیان سے اتفاق کیا جبکہ 17 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ اسی سروے میں پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں نئے انتخابات کے انعقاد سے متعلق بھی شہریوں کی رائے لی گئی۔

سروے میں شامل ہونے والے دو تہائی افراد نے اس سال 2022 کے  اندر نئے انتخابات کے حق میں رائے دی۔ شہریوں سے سوال کیا گیاکہ آیا ان کے خیال میں موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے یا مڈ ٹرم الیکشن کا اعلان کرنا چاہیے۔ اس سوال کے جواب میں 64 فیصد یعنی تقریباً دو تہائی افراد نے کہا مڈ ٹرم انتخابات کا اعلان کردینا چاہیے۔ اور اسی سال ان انتخابات کا انعقاد بھی ہونا چاہیے۔ تاہم سروے میں شامل ہونے والے 36 فیصد افراد کا یہ کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے اور انتخابات کا انعقاد آئندہ سال ہونا چاہیے۔

اپسوس ’ مارکیٹ رسرچ‘ میں دنیا کا تیسرا بڑا بین الاقوامی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے راہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس سروے کے نتائج کو ایک ٹویٹ کی شکل میں پوسٹ کیا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین نے اس سروے کے نتائج کے اجرا سے ایک دن قبل اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں اور انتخابات سے متعلق عوام کی رائے پر مبنی جو اعدادوشمار سامنے آنے والے ہیں، ان پر شہباز حکومت کو جھٹکا لگے گا۔

 پاکستان میں اپریل میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کے راہنما عمران خان ملک بھر میں احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے اور فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں