ضمانت ختم ہونے پر عمران خان کی سیکیورٹی ہی انہیں گرفتار کرلے گی: رانا ثنااللہ
وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ کے باہر سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار ضمانت ختم ہونے کے بعد سابق وزیر اعظم کو گرفتار کر لیں گے۔
ٹوئٹر پر سلسلہ وار پیغامات میں وزیر داخلہ نے عمران خان کی پشاور سے اسلام آباد واپسی پر خوش آمدید کہا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ خیبرپختونخوا سے شروع ہونے والا پارٹی کا 'آزادی مارچ' اسلام آباد میں اچانک ختم ہونے کے بعد واپس خیبر پختونخوا آگئے تھے۔ پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل کی جانب سے تب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی ختم کردی گئی ہے۔
رانا ثنااللہ نے آج اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ عمران خان نیازی کو اسلام آباد واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں، قانون کے مطابق ان کو سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔ عمران خان نیازی ملک میں ہنگامہ آرائی، فتنہ فساد، افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلح حملوں کے جرائم کے تحت درج 2 درجن سے زائد مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ عدالتی ضمانت ختم ہونے پر قانون کے مطابق فراہم کی گئی یہی سیکیورٹی عمران نیازی کو بڑی خوش اسلوبی سے گرفتار کرلے گی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک میں فساد فی الارض برپا کرنے والا وہ شخص جو اخلاقی اور جمہوری قدروں سے یکسر عاری ہو اور اپنے مخالفین کو کبھی غدار اور یزید کہہ کر پکارتا ہوا، کس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ یہ پوری قوم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 25 مئی کو 'حقیقی آزادی مارچ' ختم کرنے کے ایک روز بعد اسلام آباد کے متعدد تھانوں میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے پشاور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کی 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 25 جون تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔
پی ٹی آئی چیئرمین کو 25 جون تک اسلام آباد کی سیشن عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ 3 جون کو ایک ٹوئٹ میں شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت نے تھریٹ الرٹس کے باوجود عمران خان کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔
گزشتہ شب اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ عمران خان کی متوقع آمد کے پیش نظر بنی گالہ کے اطراف سیکیورٹی کو مزید سخت کر کے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹ کیا کہ ’تاہم ابھی تک اسلام آباد پولیس کو عمران خان کی ٹیم کی واپسی کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی‘۔
سیکیورٹی ڈویژن نے بنی گالہ میں سخت سیکورٹی تعینات کر دی ہے، بنی گالا میں لوگوں کی فہرست اب تک پولیس کو فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کے مطابق کسی بھی اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔
ٹوئٹ میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کو قانون کے مطابق مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور عمران خان کی سیکیورٹی ٹیموں سے بھی تعاون کی توقع ہے۔