بنگلہ دیش میں آتشزدگی سے کم از کم 44 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

  • اتوار 05 / جون / 2022

چٹاگانگ کے قریب ایک سٹوریج ڈپو میں آتشزدگی اور زبردست دھماکے کے ایک واقعے میں کم از کم 44 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

شپنگ کنٹینرز میں آگ لگنے سے دھماکے ہوئے تو سینکڑوں لوگ وہاں آگ پر قابو پانے کے لیے پہنچے تھے۔ آگ لگنے کی وجہ تو ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم  خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ کنٹینرز میں کیمیائی مادے تھے جو آتشزدگی کا سبب بنے۔ علاقے کے ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ہسپتال انتظامیہ نے عوام سے خون کے عطیات کی اپیل کی ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

آگ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات نو بجے لگی اور واقعے کے فوری بعد سینکڑوں فائر فائٹرز، پولیس اور رضاکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ جیسے ہی آگ بجھانے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی تھی کہ اس دوران وہاں موجود چند کنٹینرز میں زور دار دھماکہ ہوا جس نے امدادی کارکنوں کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا اور چند افراد دھماکے کے بعد ہوا میں اڑنے والے ملبے سے بھی زخمی اور ہلاک ہوئے۔

دھماکے میں کم از کم پانچ فائر فائٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کئی صحافی جو دھماکے سے پہلے آگ کی رپورٹنگ کر رہے تھے لاپتہ ہیں۔ تصاویر میں دھات کے شپنگ کنٹینرز کی تباہ شدہ باقیات اور گودام کی مندھم چھت نظر آتی ہیں۔ ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوا میں تیز بدبو پھیلی ہوئی ہے۔

فائر فائٹرز اتوار کو بھی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فائر حکام کے مطابق مسلسل دھماکوں نے آگ بجھانے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی فائر سروس کے سربراہ معین الدین نے کہا کہ ’اس کیمیکل کی موجودگی کی وجہ سے ہم ابھی تک آگ پر قابو نہیں پا سکے۔‘ کیمیکل کو سمندر میں بہہ کر چلے جانے سے روکنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں میں کئی بڑی آتشزدگی کی وجہ سے سینکڑوں اموات ہوئی ہیں۔ گزشتہ سال ملک کے جنوب میں ایک فیری میں آگ لگنے سے کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اور رواں سال کے آغاز میں دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب روپ گنج میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 52 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔