ملک کو آگے چلانے کیلئے ہمیں گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے: وزیر اعظم

  • اتوار 05 / جون / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کی ضرورت ہے جس میں ملک کی ترقی سے منسلک تمام شعبے پر بات کی جائے۔

لاہور میں انڈس ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ملک کو آگے چلانا ہے تو ہمیں بڑے پیمانے پر مذاکرات کرنے ہوں گے، ہمیں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنی ہوگی۔ گرینڈ ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے اس میں صحت، تعلیم، صنعت اور زراعت کی ترقی کے لیے بات کی جائے، آئی ٹی سمیت متعدد ایسے شعبے ہیں جن سے یہ ملک بہت آگے بڑھ سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاست کی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن سابقہ حکومت نے پی کے ایل آئی جو خطے کا بہترین ہسپتال تھا، اسے سیاست کے نذر کردیا۔ اس کے بہترین عملے کو بے عزت کرکے نکال دیا گیا، اس میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر بیرون ملک سے اپنی نوکریاں چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔  صرف سیاست کے خاطر اتنا بڑا جرم کیا کہ لاکھوں لوگوں کو بے آسرا کردیا، یہ دروازہ بند ہو جانا چاہیے۔ کوئی آئے کوئی جائے صنعت، تعلیم، صحت، زراعت، معیشت پر سیاست کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے دل چاہیے، بڑی سوچ چاہیے، اس کے لیے ہمیں اپنی ذات سے بالاتر ہونا ہوگا، اپنی انا کو مارنا ہوگا۔ یہ سب ہمیں اپنی قوم کے لیے کرنا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اگلی حکومت آئی اور پچھلی حکومت کے ادارے تباہ کردیے۔ اگر ہم نے ملک کی تقدیر بدلنی ہے تو اقبال کے نظریے پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کہتا ہوں کہ قرض پر انحصار کرنے والا ملک کب تک زندہ رہے گا‘۔ آج پیٹرول، بجلی اور دیگر کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ یہ ابھی کا فیصلہ نہیں ہے، یہ معاملہ اس وقت سے چل رہا ہے جب تحریک عدم اعتماد کی بات ہو رہی تھی۔ اس وقت ہمیں دنیا میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔

بنگلہ دیش کو کہا جاتا تھا کہ وہ بوجھ ہیں، لیکن بنگالی بوجھ نہیں تھے انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا۔ آج ان کی برآمدات 40 ارب ڈالر ہے، ہم اب بھی 27، 28 ارب ڈالر پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دنیا میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی تھی، تو ہم نے مارچ کے مہینے میں یکایک قیمتوں کو گرا دیا۔

لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے پلانٹ موجود ہیں لیکن ساڑھے تین سال تک جو ہوا اس کا حساب کون لے گا۔ مجھے آئے ہوئے ڈیڑھ مہینہ ہوا ہے، میں حساب دینے کو تیار ہوں۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔ بجلی کے منصوبے موجود ہیں لیکن ایندھن مہنگا منگوانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت میں ایل این جی وقت پر نہیں لی گئی جبکہ اس وقت ایل این جی سستی مل رہی تھی۔