بھارت میں پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ بیان پر شدید رد عمل
انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو رہنماؤں کی طرف سے پیغبر اسلام سے متعلق متنازع بیانات کے بعد بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھ کر انڈیا اسلامی دنیا میں اپنے دوست ممالک کو وضاحتیں دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔
بی جے پی کی سرکاری ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی شو میں پیغمبر اسلام سے متعلق متنازع بیان دیا تھا جبکہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور رہنما نوین جندل نے اس معاملے پر ٹویٹ کیا۔ نوپور شرما کے بیان نے خاص طور پر انڈیا میں مسلمانوں میں غم و غصہ کو ہوا دی اور اس کے بعد ملک کی کچھ ریاستوں میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے بیانات پر معذرت کی ہے جبکہ بی جے پی نے نوپور شرما کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے جبکہ نوین جندل کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔
بی جے پی نے کسی بھی مذہبی شخصیت کی توہین کی سختی سے مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں پارٹی نے کہا ہے کہ بی جے پی ہر اس سوچ کے خلاف ہے جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی بے توقیری کرتی ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بی جے پی ایسے لوگوں اور فلاسفی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کے دونوں رہنماؤں کے بیانات ملک میں گزشتہ چند برسوں سے موجود گہری مذہبی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر بی جے پی کا ردعمل شاید اب کافی نہ ہو کیونکہ اب ملک کے اندورنی معاملے نے بین الاقوامی نوعیت اختیار کر لی ہے۔ کویت، قطر اور ایران نے اتوار کو انڈیا کے سفیروں کو بلا کر ان بیانات پر اپنا احتجاج ریکارڈ کیا ہے۔ پیر کو سعودی عرب نے بھی ان بیانات کی مذمت کی ہے۔
اتوار کو اس معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قطر کی وزارت خارجہ نے دوحہ میں انڈیا کے سفیر دیپک متل کو طلب کر کے انڈیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق اس طرح کے اسلام فوبیا پر مبنی ریمارکس کو بغیر سزا کے چھوڑ دینا، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور یہ مزید تعصب اور پسماندگی کا باعث بن سکتا ہے، جو تشدد اور نفرت کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے گا۔
سعودی عرب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی ’وزارت خارجہ نے انڈین بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان کے بیانات کی مذمت کرتی ہے، جس میں پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی ہے۔ اور یہ کہ سعودی عرب تمام مذاہب اور مذہبی شخصیات اور شعائر سمیت اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف اس طرح کے تعصب کی مستقل حوصلہ شکنی کی پالیسی کا اعادہ کرتا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور حکومت کی طرف سے بھی اس معاملے پر بیان دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسا نہ کرنے کی صورت میں انڈیا کے ان اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
پاکستان نے گستاخانہ ریمارکس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج کیا ہے۔ مسلح افواج نے بھی اشتعال انگیز عمل کو تکلیف دہ قرار دیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور پارٹی کے ایک اور رہنما نوین کمار جندال نے پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے۔ ان ریمارکس کی دنیا بھر میں مذمت کے بعد بھارت کی حکمراں جماعت کو ان کے بیانات سے خود کو الگ کرنا پڑا اور ان دونوں رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کیا۔
پیر کو وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا کہ یہ ریمارکس مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور اس سے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔