جوہری پروگرام پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کیا جائے: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی

  • سوموار 06 / جون / 2022

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  جنرل ندیم رضا نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تمام سیاسی جماعتوں اور پاکستانی عوام کی حمایت حاصل ہے اور اس پر غیر ضروری اور بے بنیاد تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔

جنرل ندیم رضا، جو کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے ڈپٹی چیئرمین بھی ہیں، نے اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالاجی کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (نِپس) میں ’علاقائی ماحولیات اور سلامتی کے تقاضے‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے طلبا، ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

خطاب میں جنرل ندیم رضا نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی اپنی تمام سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ اسٹریٹجک پروگرام کے لیے ثابت قدم ہے۔ انہوں نے مادر وطن کے دفاع اور ڈیٹرنس کے ضامن کے طور پر پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی اہمیت پر زور دیا۔ جنرل ندیم رضا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور یقین دلایا کہ پاکستان کسی بھی حالت میں اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُراعتماد اور ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جو قابل اعتماد کم از کم ڈیٹرنس کے حدود میں مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ہماری قومی سلامتی اور حفاظت کا فن تعمیر تمام قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔ دیگر جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک میں سے ایک ملک کے اسٹریٹجک پروگرام پر غیر ضروری اور بے بنیاد تبصروں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ جب ضروری ہوگا تو نیشنل کمانڈ اتھارٹی مخصوص ردعمل دینے کا درست فورم ہے۔

خیال رہے کہ اعلیٰ فوجی افسر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’صحیح فیصلے کرے ورنہ پاکستان  جوہری پرگرام سے محروم ہوسکتا ہے‘۔ عمران خان نے مزید کہا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال ملک کے ساتھ ساتھ اس اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی مسئلہ ہے جو مسلسل دعویٰ کرتی ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے جب کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے ملک سیاسی ہلچل سے گزر رہا ہے۔

عمران خان نے کہا تھا پاکستان ڈیفالٹ کی جانب جا رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو اس صورتحال میں کون سا ادارہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا؟ وہ ادارہ فوج ہوگا اور اس کے متاثر اور کمزور ہونے کے بعد ہم سے کیا مطالبہ کیا جائے گا؟ عمران خان نے کہا جوہری تخفیف۔  اگر اس وقت درست فیصلے نہ کیے گئے تو ملک خودکشی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

حکمران اتحاد کے سیاستدانوں نے عمران خان کو ان کے ریمارکس پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان پر ملک کے خلاف کھلی دھمکیاں دینے کا الزام لگایا تھا اور انہیں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔