اسٹبلشمنٹ کی خدمت گزاری میں سیاسی مکالمہ کیسے ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے  گزشتہ روز  لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔  یہ تصور اسی سوچ کا تسلسل ہے جو  وہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر معاشی چارٹر کے نام سے پیش کرچکے تھے۔  اس تصور کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ باہمی سیاسی لڑائیاں تو ہوتی رہیں گی لیکن ملک کو اس وقت جس شدید اور سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لئے پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر تعاون کیا جائے اور ملک میں سیاسی تصادم  کی کیفیت ختم کی جائے تاکہ  بیرونی سرمایہ کار کسی بھی طرح ملک میں آئیں اور معاشی نمو میں اضافہ کا سبب بنیں۔

یہ باتیں  کہنے میں جتنی آسان اور خوش نما لگتی ہیں، اس کی عملی شکل اسی قدر مشکل اور ناقابل عمل  دکھائی دیتی ہے۔ اس کا ایک پہلو شہباز  شریف کی اسی تقریر میں  دیکھا جاسکتا ہے  جب  وسیع بنیادوں پر باہمی مکالمہ کی دعوت دینے کے بعد  سابقہ حکومت اور وزیر اعظم کے بارے میں تند و تیز لب و لہجہ  اختیار کیا گیا اور مسائل کی جڑ تحریک انصاف اور عمران خان کو قرار دیا گیا۔ دوسرا   پہلو وزیر داخلہ رانا ثنااللہ  کے پے در پے بیانات یا ٹوئٹ پیغامات میں دیکھا جاسکتا ہے۔ گزشتہ روز ہی ملک میں امن و امان  کے ذمہ دار وزیر نے  عمران خان کے پشاور سے بنی گالہ پہنچنے  پر ’خیر مقدم‘ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ  ’جب گرفتاری کا وقت آئے گا تو   عمران خان کی حفاظت کے لئے تعینات سیکورٹی فورس ہی انہیں گرفتار بھی کرلے گی۔ اسی المناک تصویر کا ایک تیسرا پہلو  تحریک انصاف    کے رکن قومی اسمبلی عطااللہ ایڈووکیٹ کا یہ بیان ہے کہ اگر  عمران خان کا بال بھی بیکا ہؤا تو وہ موجودہ حکمرانوں میں سے ایک ایک کو ہلاک کردیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سب سے پہلے تو وہ خود خود کش بمبار بن کر حملہ آور ہوں گے لیکن حکمران  جمع خاطر رکھیں کہ  تحریک انصاف کے ہزاروں کارکن خود کش بمبار بننے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

عطااللہ ایڈووکیٹ ایم این اے کے بیان کو اگر  اسی تناظر میں سمجھا  اور قبول کیا جائے جن لفظوں میں اسے پیش کیا گیا   ہے تو قیاس ہوگا کہ تحریک انصاف کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے بلکہ  ’خود کش حملہ آووروں‘ کا گروہ ہے  جو ایک خاص شخص کو اقتدار دلانے یا ملک میں سیاسی طوفان برپا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں یعنی خود کش بمبار بن کر خود کو بارود سے اڑانے اور اپنے ٹارگٹ کو تباہ کرنے  کے ’حکم‘ کا انتظار کررہے ہیں۔ عطااللہ چوں کہ ایڈووکیٹ بھی ہیں اور قانون ساز ادارے کے رکن بھی لہذا ان کی باتوں کے بارے میں  یہ نہیں کہا جاسکتا کہ  انہوں نے قانونی اونچ نیچ  پرکھے بغیر ہی یہ بیان دیا ہوگا۔ بلکہ یہ سمجھنا  قرین از قیاس ہوگا کہ  عطااللہ  ایم این اے کو  یہ  بیان دیتے ہوئے یقین ہوگا کہ کوئی ان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں  دیکھ سکتا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت حکومت  کو بے لگام ہونے سے روکنے کے لئے  ’دیگر اہم امور‘ پر غور کرنے اور احکامات جاری کرنے میں مصروف ہے۔  عمران خان کی گرفتاری کا خواب دیکھنے والے رانا ثنااللہ کو یہ بھی علم نہیں کہ ان کی اپنی نوکری  کتنے دن کی ہے اور  ملک کی بیوروکریسی کے افسر و اہلکار نہیں جانتے کہ وہ کسے بااختیار سمجھیں اور کس کی باتوں کو ’غیر قانونی‘ سمجھ کر انصاف کا بول بالا کرنے کے لئے  سرگرم عمل ہوجائیں۔

تند و تیز بیان بازی کے اس گرما گرم ماحول میں  ملک کے   نمایاں صنعتکار اور تاجر میاں محمد  منشا سے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں ۔ جب تک ملک میں سرمایہ نہیں آئے گا، نہ تو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جاسکیں گے اور نہ ہی   روزگار کے مواقع پیدا کرکے معاشی پیداوار میں اضافہ کا اہتمام ہوسکے گا۔  جو  بات  میاں منشا نے اب کی  ہے، اسے متعدد بلکہ سارے ہی معاشی ماہرین گزشتہ کئی سالوں سے مختلف طریقوں سے  بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ویسے بھی یہ  جاننا کوئی  راکٹ سائنس نہیں ہے کہ  ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے ملک میں امن و امان قائم ہونا، سیاسی تناؤ میں کمی، اہم اور چیدہ چیدہ امور پر اتفاق رائے اور پارلیمنٹ میں خیر سگالی کا ماحول پیدا ہونا ضروری ہے۔   مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اگر سب سیاست دان  وسیع تر قومی مفاد میں مل جل کر ملک میں خوشگوار ماحول پیدا  کرلیں گے تو  عوام کے سامنے اپنی دیانت، صلاحیت اور ضرورت کا چورن کیسے فروخت کیا جائے گا؟

شہباز شریف  جو اب وزیر اعظم کے طور پر مفاہمت اور مکالمہ کی بات کررہے ہیں  ، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد  لانے سے قبل خود لائن کے اسی طرف کھڑے تھے   جہاں اب عمران خان موجود ہیں اور نہ کھیلوں گا اور نہ کھیلنے دوں گا منظر پیش کررہے  ہیں۔  شہباز شریف بھی معاشی بہتری کے لئے حالات  درست کرنے کی بات کررہے ہیں اور عمران خان بھی ملکی معیشت کو  ٹھیک کرنے کے لئے ’حق پرستوں‘ کو طاقت فراہم کرکے اقتدار میں لانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان  دونوں عناصر کا دعویٰ ہے کہ ان کے سوا ملکی معیشت کو کوئی درست نہیں کرسکتا۔ کل تک شہباز شریف تحریک انصاف کی حکومت کے اقدمات کو عوام دشمن قرار دے کر داد وصول کررہے تھے اور اب عمران خان پورے زور شور سے  پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی  مہنگائی و بیروزگاری کا ہوّا دکھا کر  عوام کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ’میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ چور اچکے  لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ بس میں  ہی تھا جو ملکی معیشت  کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور ساتھ ہی قومی وقار کو بھی سربلند کیا تھا‘۔ 

عمران خان کے اس دعوے کو ماننے والے  بھی بے شمار اور اسے مسترد کرنے والے بھی لاتعداد لیکن  یہ  پوچھنے اور بتانے  والا کوئی نہیں کہ مہربان! اب آپ   اسٹبلشمنٹ کے نام  سے موسوم جن اداروں کو ’غیر جانبداری‘ ترک کرکے اپنا  دست و بازو بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں جوڑتے ہیں، آخر  کیا وجہ تھی   کہ بڑے لاڈ دلار سے لانے کے بعد ان  ہی اداروں نے آپ سے جان چھڑانے کے لئے ہر جائز  و ناجائز ہتھکنڈا اختیار کرنا ضروری سمجھا۔  پاکستان جمہوری تحریک  اسے  سیاست سے فوج کی  غیر جانبداری  قرار دیتی ہے کیوں کہ تحریک انصاف ملک چلانے میں ناکام ہوگئی تھی اور عمران خان نیوٹرل ہونے کو حیوانی صفت بتا کر ایک بار پھر نظر عنایت کے متمنی و خواہاں ہیں۔

دریں  حالات یہ تو طےہے کہ نہ مکالمہ ہوسکتا ہے، نہ اپوزیشن میں موجود سیاسی طاقت کسی  طرح کا امن قائم کرنے میں تعاون کرے گی اور نہ ہی  غیر جانبداری کا تصور اس قدر ہمہ گیر ہے کہ اس سے ملکی سیاسی و آئینی  نظام میں کوئی استحکام پیدا ہونے کی امید پیدا ہوسکے۔  اس کے اشارے مختلف عدالتی احکامات سے بھی ملتے ہیں اور درپردہ سرگرمیاں بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔  یہ صورت حال  مختلف سیاسی گروہوں کی ایک دوسرے پر بداعتمادی ہی کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ  یہ بات پر بھی ثابت کرتی ہے کہ  جمہور  کے نام پر سیاست کرنے والی یہ ساری قوتیں درحقیقت  امور حکمرانی میں عوام کے آئینی اور اٹل حق کو دل سے تسلیم ہی نہیں کرتیں بلکہ اسے صرف نعرے یا  ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ’حقیقی طاقت‘ کو رجھانے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔   ورنہ کیا وجہ ہے کہ عمران خان  موجودہ حکومت کو نئے انتخابات کا اعلان کرنے پر مجبور کرنے کے لئے کبھی عدالت کو آواز دیتے ہیں اور کبھی اسٹبلشمنٹ کو قبلہ درست کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اور اس جوش میں بعض ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں  کہہ جاتے ہیں جس پر سوائے  پاکستان کے دشمنوں کے کوئی خوش نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف ’ووٹ کو عزت دو ‘ کا نعرہ  لگاتے ہوئے عمران خان کو ’نامزد وزیر اعظم‘ کا طعنہ دینے والی   سب پارٹیاں اب خود اپنی ’نامزدگی‘ پر اس قدر نازاں و فرحاں ہیں کہ اس جوش میں انہوں نے  تحریک انصاف کی حکومت  کی ناکامیوں کا کانٹوں بھر ا ہار گلے میں ڈال لیا ہے ۔ اب  یہ دعویٰ کرکے خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ  یہ تو سب سابقہ حکومت کا کیا دھرا ہے جس نے آئی  ایم ایف کے ساتھ ’خطرناک‘ معاہدہ کرکے ملک اور موجودہ حکومت کو پھنسا دیا ہے۔ حقیقت لیکن یہ  ہے کہ موجودہ حکومت تو خود اس جال میں  پھنسی ہے اور ملک کو سب سیاست دانوں نے  اقتدار کی حرص میں ایسے بھنور میں پھنسایا ہے جس سے باہر نکلنے کا راستہ کسی کو سجھائی نہیں دیتا۔

اس کے باوصف عمران خان بھی  طاقت کے اصلی مرکز کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں اور وزیر اعظم بھی  دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافے اور آئی ایس آئی کو تمام سول بیوروکریسی پر کامل اختیار دے کر وہیں سے اپنے لئے پناہ کے طلبگار ہیں۔   ایسی صورت حال میں ملکی معیشت یا عوام کی حالت زار سے کس کو غرض ہوگی؟ جب اقتدار ہی مطمح نظر ہو تو حکمت عملی اور منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ سیاسی طاقتیں جب صرف پروٹوکول اور جھنڈے والی گاڑی کے لئے ’فوج کی نوکری ‘ پر آمادہ رہیں گی تو  حالات میں تبدیلی کے لئے باہمی مکالمہ کیسے اور کس بنیاد پر منعقد ہوسکے گا؟  اصلاح احوال کے لئے سب سے پہلے سیاسی قوتوں کو یہ طے کرنا  ہے کہ وہ عوام کے منتخب نمائیندے بن کر کام کرنا چاہتے ہیں یا طاقت ور اداروں  کی خوشنودی کے لئے عوام کے اعتماد کا سودا کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے سیاست دان بہت زیرک ہوں گے لیکن انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ  طاقت کے جس مرکز سے وہ اختیار و اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں، اگر ان کے پاس  کوئی آپشن ہوتا تو وہ سیاست دانوں کا منہ نہ دیکھتے بلکہ ماضی کے متعدد  مواقع کی طرح ایک بار پھر ماورائے  آئین اقدام کر گزرتے۔ اسی طرح اگر  اسٹبلشمنٹ ہی  دانائی  اور فہم و فراست کا منبع ہوتی تو ملک کو موجودہ چومکھی کا سامنا نہ ہوتا جس میں ہر شخص  دوسرے کو چور کہہ کر اپنا الوّ سیدھا کرنا چاہتا ہے۔