وزیر اعظم نے بجٹ پر مشاورت کیلئے معاشی ماہرین کو طلب کرلیا

  • منگل 07 / جون / 2022

حکومت نے ملک کے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اقتصادی ماہرین، صنعتکاروں اور تاجروں کے ایک اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس مسئلے کے مختصر، درمیانی اور طویل مدتی حل تلاش کیا جا سکیں۔

اس اجلاس میں آئندہ وفاقی بجٹ 23-2022 میں مہنگائی سے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے بارے میں بھی غور ہوگا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف آج  ایک روزہ ’پری بجٹ بزنس کانفرنس‘ سے خطاب کریں گے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے پر مبنی معاشی اقدامات کی راہیں تلاش کی جائیں گی۔

وزیر اعظم کے 'چارٹر آف اکانومی' کے وژن اور ایک جامع اقتصادی پالیسی سازی کے نقطہ نظر کے مطابق یہ کانفرنس ایک متحرک اور باہمی گفتگو کے لیے مختلف شعبوں کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گی۔

وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ ایک روز پر محیط، بامعنی اور ٹھوس ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں زراعت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ اور دیگر کئی کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو اکٹھا کیا گیا تاکہ پاکستان کے موجودہ معاشی چیلنجز اور مختصر، درمیانی اور طویل مدتی حل کا باہمی طور پر جائزہ لیا جا سکے جبکہ تجارتی اسپیکٹرم کے لیے مالی سال 23-2022 کے بجٹ کے لیے سفارشات حاصل کی جائیں۔

وزیر اعظم ترقی کی مضبوط بنیادوں کے ساتھ خوشحال معیشت کے لیے شرکا کی جانب سے پیش کردہ سفارشات اور تجاویز کا جائزہ لیں گے۔ کانفرنس میں وزیر اعظم کے ایک ایسے پاکستان کے وژن پر توجہ مرکوز کی جائے گی جہاں لوگوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق کی ضمانت ہو، کانفرنس باہمی مشاورت کے ذریعے عوام کی معاشی کشمکش کو ختم کرنے اور قوم کو بہتر مستقبل کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ تقریب ایک متحرک معیشت کے ساتھ خوشحال پاکستان کے آگے بڑھنے کے راستے پر توجہ مرکوز کرے گی جہاں ترقی پائیدار اور جامع ہو، اس میں سب کے لیے روزگار، کاروبار، غربت کے خاتمے اور تمام شہریوں کے لیے ایک معقول معیار زندگی فراہم کرنے کے مواقعوں پر غور کیا جائے گا۔

یہ اقدام مکمل تجارتی میدان میں سال 23-2022 کے مالی بجٹ کے لیے ان ماہرین کی سفارشات کا بھی خیر مقدم کرے گا۔ مذاکرات میں پاکستان کے معاشی چیلنجز کے قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی حل کی وضاحت کی جائے گی۔ کانفرنس کے شرکا زراعت، برآمدات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، فوڈ سیکیورٹی، جنرل مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے قابل عمل سفارشات پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس دوران سیاسی غیر یقینی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کی وجہ سے ملک میں ترقی کی رفتار سست ہونے اور مہنگائی کی شرح آئندہ مالی بلند رہنے کا امکان ہے۔

پلاننگ کمیشن کی دستاویزات میں بتایا گیا کہ معیشت نے وسیع مارجن کے ساتھ 4.8 فیصد کے متوقع ہدف کو عبور کیا اور رواں مالی سال میں 5.97 فیصد کی مضبوط ترقی ظاہر کی۔ یہ ترقی زرعی شعبے کے 4.4 فیصد، صنعت کے 7.2 فیصد اور خدمات کے 6.2 فیصد کی وجہ سے ممکن ہوئی، تینوں شعبوں نے اپنے اپنے اہداف کو بھی عبور کیا۔ تاہم آئیندہ مالی سال میں قومی پیداوار سست رہنے کا امکان ہے۔

معیشت کی غیریقینی صورت حال کی وجہ سے اس دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی نوٹ کی گئی ہے۔ منگل کی صبح پاکستان میں ایک ڈالر 203 پاکستانی روپے میں فروخت ہؤا۔