اقوام متحدہ یوکرین سے اناج کی برآمدات کو یقینی بنانے کے معاہدے پر کام کر رہا ہے
اقوام متحدہ ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت یوکرین سے بحیرہ اسود کے ذریعے اناج کی برآمدات اور روسی خوراک اور کھاد کے لیے عالمی منڈیوں تک بلا روک ٹوک رسائی کی اجازت ہو۔
عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کو بتایا
کہ معاہدے کے بغیر ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں لوگوں کو یوکرین پر روسی حملے کے تین ماہ بعد بھوک کی ایک لہر کے خطرے کا سامنا ہے۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گوٹیرس نے کہا کہ جنگ کے باوجود یوکرین کی خوراک کی پیداوار اور روس کی طرف سے تیار کردہ خوراک اور کھاد کو عالمی منڈیوں میں لایا جانا چاہیے۔ ترکی اور روس نے دنیا میں خوراک کے بحران میں اضافے کے دوران یوکرین سے اناج عالمی منڈیوں میں لانے کے لیے کسی محفوظ بحری راستے کی حمایت کی ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے بدھ کے روز روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ انقرہ میں اقوام متحدہ کے اس مجوزہ منصوبے پر بات کی جس میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ قلزم میں یوکرینی بندرگاہو ں کو کھولا جائے اور ان کے ذریعے دو کروڑ بیس لاکھ ٹن اناج روانہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
بات چیت میں یو کرین کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔ یو کرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس کی بندرگاہوں سے سرنگیں صاف کر دی گئیں تو روس اس کے جنوبی ساحل پر دوبارہ حملہ کر دے گا۔جبکہ روسی وزیرِ خارجہ لاوروف نے وعدہ کیا ہے کہ روس بحری جہازوں کی بحفاظت روانگی یقینی بنانےکے لیے تمام اقدامات کرے گا۔