آئی ایم ایف نے سی پیک کے توانائی منصوبوں پر ازسرغور کا مطالبہ کردیا

  • جمعرات 09 / جون / 2022

عالمی مالیاتی فنڈ  نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ چینی پاور پلانٹس کو 3 کھرب روپے کی ادائیگی سے پہلے سی پیک کے تحت کیے گئے توانائی کے منصوبوں پر ازسرنو گفت و شنید کرے۔

آئی ایم ایف کی اس شرط نے حکومت کی پریشانی بڑھادی ہے۔ باخبر ذرائع نے ’ ایکسپریس ٹریبیون‘ کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ چینی سی پیک پاور پلانٹس کے ساتھ 1994اور 2002کی پاور پالیسی کے تحت قائم کردہ پاور پلانٹس کے مساوی برتاؤکرے۔

آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین ماضی میں آئی پی پیز کے معاہدوں کی شرائط پر نظرثانی یا دوبارہ بات چیت سے انکار کرچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو شبہ ہے کہ چینی آئی پی پیز پاکستان سے زیادہ  نرخ وصول کررہے ہیں چنانچہ ان معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چینی آئی پی پیز کو 41 ارب روپے کی زائد ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

وزارت خزانہ کے اعلیٰ ذرائع نے ’ ایکسپریس ٹریبیون‘ سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف نے چینی آئی پی پیز کو ادائیگیوں کو معاملہ اٹھایا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ معاہدوں پر آئی پی پیز سے دوبارہ مذاکرات کیے جائیں۔ رابطہ کرنے پر آئی ایم ایف کی  مقامی نمائیندے نے محدود مالیاتی گنجائش کے پیش نظر پاور سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مساوی سلوک پر زور دیا۔