اگلے مالی سال میں قومی پیداوار میں پانچ فیصد اضافہ کا تخمینہ

  • جمعرات 09 / جون / 2022

قومی اقتصادی کونسل  نے آئندہ مالی سال کے لیے پبلک سیکٹر میں 21 کھرب 84 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ اقتصادی ترقی کی شرح کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا ہے۔

 حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اقتصادی ترقی کی شرح کا ہدف موجودہ سال کے ہدف سے کچھ زیادہ تبدیل نہیں کیا گیا۔ قومی اقتصادی کونسل ملک کے معاشی فیصلے کرنے والا سب سے بڑا فورم ہے جس کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور کونسل کے دیگر اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں تمام شرکا نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اگلے سال تک ملک کی ترقی کی شرح کو 6 فیصد تک لے جانے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ قومی ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 21 کھرب 84 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جس میں وفاقی حکومت کو رواں سال کے 900 ارب روپے کے مقابلے میں 800 ارب روپے ملیں گے۔ کُل وفاقی اخراجات 550 ارب روپے تک ہوں گے۔

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے الگ سے 13 کھرب 84 ارب روپے مالیت کے سالانہ ترقیاتی منصوبے مرتب کریں گے جو کہ رواں برس 12 کھرب 35 ارب روپے تک تھے جس میں 12 فیصد کے لگ بھگ اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کا 60 فیصد جاری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا اور بقیہ 40 فیصد نئے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

اجلاس میں شریک ایک رکن نے کہا کہ اس فیصلے سے اگلے سال عام انتخابات سے قبل اتحادی شراکت داروں کے زیادہ سے زیادہ منصوبوں کو ایڈجسٹ کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک سرکاری بیان میں وزیر اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کونسل کے اراکین کو بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی پوری صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے اگلے سال کے ترقیاتی ایجنڈے کی اولین ترجیح عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔ حکومت بنیادی منصوبہ بندی، حکومتی نظام کو بہتر بنانے، بلا تعطل اور سستی توانائی، معیاری تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے پر توجہ دے گی۔

این ای سی نے 23-2022 کے سالانہ منصوبے کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک کی بھی منظوری دی ہے جس میں زراعت 3.9 فیصد، مینوفیکچرنگ 7.1 فیصد اور سروسز میں 5.1 فیصد کے ساتھ 5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے بھی سرمایہ کاری کو معتدل کیا جائے گا جبکہ افراط زر 11.5 فیصد تک رہے گا کیونکہ عالمی افراط زر کا اثر بہت جلد ختم نہیں ہوگا۔

زرعی شعبے میں 3.9 فیصد ترقیاتی شرح کا انحصار بنیادی طور پر کپاس اور گندم کی پیداوار کی بحالی، پانی کی فراہمی، تصدیق شدہ بیجوں، کھادوں، کیڑے مار ادویات اور زرعی قرضوں کی سہولیات کی دستیابی پر ہے۔