چمن میں تلخ نوائی میری گوارا کر
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 09 / جون / 2022
قدیم زمانوں میں ہیرو ورشپ کا نظریہ یا تصور دنیا میں چھایا ہوا تھا۔ لوگ کسی نہ کسی اولوالعزم ہستی یا نجات دہندہ کی تلاش یا انتظار میں رہتے تھے ۔ آج بھی قدامت پسندانہ اپروچ بالعموم یہی ہے لوگ اپنی من پسند کسی نہ کسی ’ہستی‘ کیلئے لڑ مر رہے ہوتے ہیں۔
ایک عظیم امریکی دانشور صدر نے کیا خوب کہا تھا کہ ’فوت شدگان کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ زندوں پر حکومت کریں‘۔ درویش اس سے بڑھ کر یہ کہتا ہے کہ کسی بڑی سے بڑی مدبرو دانا زندہ ہستی کا بھی یہ استحقاق نہیں ہے کہ وہ عوام الناس پر شخصی حکمرانی کرے۔ آج فرد واحد نہیں جمہور کی آواز پر لبیک کہا جائے گا۔ البتہ یہ پیش نظر رہے کہ جمہور کی قیادت کرنے والی بھی تو کوئی نہ کوئی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ مگر صدیوں کے انسانی شعوری ارتقا نے انسانیت کو یہ سکھایا ہے کہ قیادت کرنے والی کوئی بھی شخصیت اعلیٰ آدرشوں کی مطابقت میں تشکیل دیےگئے قواعدوضوابط کی پابندی کرتے ہوئے قوم کو اعتماد میں لے کر چلے گی من مانی کرنے یا شتر بے مہار بننے کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔
اسی سے جہاں اقتدار اعلیٰ کے وارث عوام قرار پائے ہیں، وہیں ان کی منتخب کردہ پارلیمینٹ کی بالادستی و سپرا میسی ہر ادارے اور ضابطے پر حاوی ہے ۔ مسلمانان جنوبی ایشیا کا المیہ یہ ہے کہ یہ کسی نہ کسی شخصیت کا طواف کرتے ہی نظر آتے ہیں جبکہ بت پرستی کا الزام ہمیشہ دوسروں پر دھرتے ہیں۔ لیکن اپنا عملی رویہ یہ ہے کہ ایک ’نجات دہندہ‘ سے جان چھوٹتی نہیں تو کوئی دوسرا فرستادہ بن کر ایستادہ ہو جاتا ہے۔ اندر سے وہ چاہے جتنا ہلکا یا کھوکھلا ہو لیکن اس کے گرد پروپیگنڈے کے زور سے عقیدت کا ایسا ہالہ بنا دیا جاتا ہے کہ جس کا تنقیدی جائزہ جیسے گناہ کبیرہ ہو۔
اس کے علاوہ یہاں دو طبقات شاہ دولے پیر کی گایوں جیسے مقدس ہیں۔ وہ گند بھی پھینکتے ہیں تو ارمغان قرار پاتا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا تنقید نگار سچا و کھرا دانشور ان ہر دو کا پوسٹ مارٹم کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جناح صاحب نے یہ ملک ان ہر دو طبقات کی خوشنودی، چاپلوسی اور حلال زدگی کیلئے بطور چراہ گاہ بنایا تھا ۔ ان دنوں ہماری تاریخ کا جو تیسرا بڑا لاڈلا ہم پر مسلط ہے اس نے اس ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ہماری معاشی بدحالی کیلئے ہمارے پاس روز اول سے موجود دو سفید ہاتھی ہی کافی تھے، اب اس نے اپنے لاڈلے پن میں پچھلے پونے چار سالوں میں قوم کی وہ معاشی ٹھکائی کی ہے کہ ہم پوری دنیا میں بھکاری کی نئی پہچان لے کر ابھرے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اسے ہٹانے کے بعد یہ جو نئے تجربہ کار آئے ہیں یہ ہماری قومی معیشت کی بھنور میں پھنسی کشتی کو پار لگا دیں گے۔ مگر یہ درویش ساون میں بھی سوائے خزاں کے کچھ نہیں دیکھ پا رہا۔
پٹرول اور بجلی کی قیمتیں اتنی بڑھا کر غریب قوم پر اتنے مہنگائی بم گرا کر آپ لوگ آئی ایم ایف سے جتنے بھی ڈالر وصول کریں گے، ان کے بعد اس قوم کی معیشت کیا ہمالہ سے جا ٹکرائے گی؟ یہ درویش بھی قوم کوسہانے خواب دکھا کر محب وطن قرار پا سکتا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ ایسا کچھ ہونے نہیں جا رہا۔ ذلت و مسکنت اس قوم کی تقدیر میں لکھ دی گئی ہے تاوقتیکہ سچائی سننے اور اس کی مطابقت میں ڈھلنے پر لٹھ بردار آمادہ نہ ہو جائیں۔ جتنی مرضی بڑھکیں ہانک لو اور چھلانگیں مار لو شو باز کے بیٹے سمیت پوتے کو بھی لے آؤ مگر یہاں کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔
آج ’جوڈیشل ایکٹوازم اور ہماری کمزور جمہوریت ؟‘ کی اگلی قسط پیش کرنی تھی مگر ایسی بد دلی ہے کہ یہاں اس قوم میں جیسے نظری و فکری کرفیو لگا ہوا یہاں ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ کی ٹرم استعمال نہیں ہو سکتی کیوں بھائی ؟ اس لئے کہ عدالت حضور ناراض ہو جائے گی۔ فلاں بات لکھو گے تو فلاں طاقت ور ناراض ہو جائیں گے۔ فلاں بات پر فلاں حضرت صاحب برا مان جائیں گے ۔ واہ بھئی واہ، یہ ملک ہے یا چڑیا گھر یا ہماری قومی بربادی کا میوزیم ؟ لگے رہو پھر روایتی چاپلوسیاں گھڑنے اور دل پشاوری کرنے۔ کیا ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ کا مطلب ’ہمارا عدالتی نظام‘ بنتا ہے ؟ ہے یہاں کوئی اردو دان جو اس کا جینوئن ترجمہ بھی کر دے۔ ناچیز نے کچھ عرصہ قبل تحریر کیا تھا کہ وہ موجودہ شہباز حکومت پر پھیرا آنا چاہتا ہے مگر کیا کرے ایک لاڈلا سابق کرکٹر ہر روز کوئی نہ کوئی نئی پھل جھڑی چھوڑ دیتا ہے تو پھر نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر نظر التفات کرنی پڑتی ہے۔ آج بھی ذہن یہی تھا کیوں کہ ناچیز کی نظر میں یہاں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ اورسچے لکھاری کو کبھی پارٹی باز یا طبلہ نواز نہیں ہونا چاہئے۔حتیٰ کہ مذہب یا عقیدے جیسا حساس معاملہ بھی آ جائے تو اس کی نگاہ انسانیت کے وسیع تر مفاد پر ہونی چاہئے ۔
نہ جانے یہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو شخصیت پرستی کی بیماری میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی حاذق حکیم یا جراح اس کا علاج کرنا چاہے تو حملوں اور دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ چمن میں تلخ نوائی میری گوارا کر کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی۔ حال ہی میں یہاں اسلام آباد میں سابق فوجیوں کی کسی تنظیم نے اپنی پریس کانفرنس کی جس میں کسی نجات دہندہ کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے گئے مگر ب ایک ہوشمند صحافی نے اس پر سوالات اٹھانے چاہے تو اتنے اہم عسکری عہدوں پر فائز رہنے والا اس پر شاؤٹ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’ تو اپنے جنازے کا بندوبست کر لے‘۔ کیا ایسی فضا میں کوئی بڑے چیری بلاسم کو یہ کہہ سکتا ہے کہ تو پیہم قوم کا پیٹ کاٹے جانے کی بجائے ایک کٹ ذرادفاعی بجٹ پر بھی لگا دے یا یہ پوچھے کہ غربا کے محلے میں مہنگائی بم پھوڑتے ہوئے ہمسائیگی میں ستر ارب کس خوشی میں پھینک رہے ہو؟
اگریہ جناح کا جمہوری پاکستان ہے تو یہاں کا جمہوری چیف ایگزیکٹو کس خوشی میں اس نوع کے ظالمانہ و آمرانہ ضوابط پر دستخط کر رہا ہے کہ یہاں سول افسران کی تعیناتی و ترقی میں چھان بین کا فریضہ فلاں طاقتور عسکری خفیہ ایجنسی کے سپرد ہو گا کیوں بھائی ؟ اے طاہر لاہوتی ایسی وزارت عظمیٰ سے موت اچھی جس میں بلند پرواز کرنے والا کیڑوں کی طرح یوں رینگ رہا ہو۔ اس کے باوجود نجات دہندہ چلا رہا ہے کہ ان لوگوں کو اوپر لانے سے بہتر تھا کہ اے طاقتورو! اس ملک پر ایٹم بم گرا دیتے یعنی اس قوم پر ایٹم بم مارے جانے کا اتنا نقصان نہیں ہونا تھا جتنا پنجاب سپیڈو جیسی شہرت رکھنے والے اس تجربہ کار اور تابعدار کو وزیر اعظم بنانے سے ہوا ہے۔
’نجات دہندہ‘ کی پارٹی کا ایک ممبر قومی اسمبلی کوئی عام کارکن نہیں یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر میرے لیڈر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم لوگ اس ملک اور اس کی اہم شخصیات کے خلاف خودکش حملے شروع کر دیں گے۔ ایک اور شہد نوش ممبر اسمبلی وزیر داخلہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہارے گھر اور خاندان کا ایڈریس معلوم ہے وہ حشر کر دوں گا کہ تمہاری نسلیں یاد رکھیں گی۔ خود نجات دہندہ صاحب بول رہا ہے کہ ’تین ٹکڑے ہو جائیں گے‘۔ کہاں ہیں وہ طاقتور جنہوں نے اپنے خلاف معمولی اظہار پر ملک کے مقبول ترین لیڈر کی گفتگو نشر کرنے پر ابدی پابندی لگا رکھی ہے؟
بلاشبہ آزادی اظہار نجات دہندہ سمیت سب کا بنیادی انسانی حق ہے لیکن یہ کانا انصاف بند ہونا چاہئے اور جوڈیشل ایکٹوازم کو بھی یہ تمامتر ننگی دھمکیاں سنائی دینی چاہئیں لیکن ممکن ہے کہ ننگی دھمکیاں دینے والوں کا مقصد یہ نہ ہو ممکن ہے اپنے تئیں وہ دعائیں دینا چاہ رہے ہوں۔