سخت فیصلوں کا نشانہ صرف غریب کیوں بنتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 09 / جون / 2022
حکومت نے بجٹ سے پہلے اقتصادی سروے رپورٹ پیش کردی ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دیگر متعدد وزرا کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجودہ مالی مشکلات کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب ملکی معیشت کو راہ راست پر ڈال دیا گیا ہے۔
یادش بخیر یہ پیغام پاکستان میں یکے بعد دیگرے اقتدار سنبھالنے والی سب سیاسی پارٹیوں کے لیڈر دیتے رہے ہیں۔ مشکلات کا بوجھ ہمیشہ سابقہ حکومتوں پر ڈال کر یہ بتایا جاتا ہے کہ اب مناسب منصوبہ بندی اور سخت محنت کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کئے جارہے ہیں اور جلد ہی ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ ملک میں جمہوریت کا ڈھونگ ضرور کیاجاتا ہے لیکن کوئی سیاسی پارٹی یا کوئی حکومت اس کی بنیادی ضرورت پورا کرتی دکھائی نہیں دیتی یعنی ذمہ داری قبول کی جائے، حقائق سے عوام کو آگاہ کیا جائے، معروضی معاشی حالات و ضرورتوں کے مطابق بجٹ بنایا جائے اور اگر امیر طبقات کو اس کی قیمت ادا کرنے پر آمادہ و مجبور کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی ’غیر پیداواری‘ اداروں مثلاً عسکری اداروں کو فعال بنانے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ان پر اٹھنے والے اخراجات کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔
موجودہ اتحادی حکومت میں شامل پارٹیاں اقتدار سنبھالنے سے پہلے تحریک انصاف کی معاشی پالسیوں کے بارے میں بعینہ وہی بیان دیتی تھیں جو اس وقت تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کے بیانات کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ اقتصادی سروے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے بجا طور سے اس میں دکھائے گئے مثبت پہلوؤں کا کریڈٹ لیا ہے لیکن بہتر ہوتا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل یہ بتاتے کہ سابقہ حکومت کے دور میں کئے گئے کن اقدامات سے معیشت کو ابھرنے کا موقع ملا تھا اور کون سے اقدامات کے نتیجہ میں ملک کو موجودہ مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس کے بعکس طرز عمل کو اگر سیاسی بددیانتی نہ بھی کہا جائے تو بھی اقتصادی نقطہ نظر سے یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ معیشت کے اعداد و شمار کا تعلق کسی سیاست سے نہیں ہوتا۔ یہ اشاریے اگر مثبت ہوں گے تو اس کا فائدہ ملک اور اس کے عوام کو ہوگا اور اگر یہ منفی رجحان ظاہر کریں گے تو اس کا بوجھ بھی عام شہریوں کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔
تاہم خود کو بری الذمہ سمجھنے اور دوسروں کے سر پر سارا بوجھ ڈالنے کی روش کی وجہ سے نہ تو حکومتیں درست معاشی فیصلے کرپاتی ہیں اور نہ ہی عوام کو براقتدار لوگوں کی باتوں پر یقین آتاہے۔ ایسے میں اپوزیشن چونکہ ہر حکومتی کام میں عیب نکال رہی ہوتی ہے تو عام سماعت کو یہ باتیں اچھی لگتی ہیں اور انہیں غور سے سنا جاتا ہے۔ لیکن سیاسی پارٹیاں توازن قائم کرنے، متبادل معاشی منصوبہ سامنے لانے اور سادہ الفاظ میں مسائل کو عام لوگوں تک پہنچانے اور انہیں عملی طور سے ان مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں کرتیں۔ سیاسی بنیادوں پر اعداد و شمار کا جائزہ اور گرمجوش بیانات کا سلسلہ عوام کو حقائق سے بے بہرہ کرتا ہے اور ہر حکومت کے بارے میں یہی تصور پیدا ہوتا ہے کہ اس نے صرف فوائد اٹھانے اور سرکاری وسائل لوٹنے کے لئے اقتدار حاصل کیا ہے۔ ہر اپوزیشن نے اس تاثر کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
تحریک انصاف کے چئیرمین اور سابق وزیر اعظم نے ملکی اقتصادی سروے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جو بیان دیا ہے ، وہ انہیں تبصروں اور الزامات کا عکس ہے جو اپوزیشن میں رہتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی یا دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈر دیتے رہے تھے۔ اب عمران خان کہتے ہیں کہ ’یہ میرے دور میں مہنگائی کی باتیں کرتے تھے، عوام کو اب پتہ چلے گا کہ مہنگائی کیا ہوتی ہے‘؟ اس طنزیہ تبصرے کا سیاسی جواز تلاش کرنا تو ممکن ہے لیکن اس کے لئے معاشی یا عملی دلیل لانا ممکن نہیں ۔ پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی یا برآمدات کے مقابلے میں بڑھی ہوئی درآمدات کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا ہے۔ کم آمدنی اور زیادہ اخراجات والے ملک پر کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو، اسے ان ہی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا اور اس کا سیاسی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا۔ حالانکہ کسی بھی مہذب جمہوری ملک میں ساری سیاسی قیادت یکساں طور سے اس بوجھ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر نہ ت وحقائق سے انکار کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی غیر ضروری وضاحت کے ذریعے خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ البتہ بعض اہم فیصلوں کے حوالے سے اختلاف رائے ضرور سامنے لایا جاتا ہے اور متبادل تجاویز دی جاتی ہیں۔ کہ کسی خاص معاشی مسئلہ سے نمٹنے کے لئے کسی حکومت کے تیار کردہ لائحہ عمل کی بجائے کون سا طریقہ بہتر نتائج دے سکتا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے بنیادی مسئلہ اور سچائیوں سے روگردانی نہیں کی جاتی۔
عمران خان نے شہباز حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ اگر آپ کے پاس معیشت درست کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا تو اقتدار سنبھالنے کی کیا جلدی تھی۔ عمران خان متعدد مواقع پر یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت میں شامل سیاسی پارٹیوں کے پاس کوئی بہتر متبادل پلان ہی موجود نہیں تھا تو عدم اعتماد کی مشقت میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ عمران خان پر ناکام معاشی حکمت عملی کا جیسا بھی الزام عائد کیاجائے لیکن ان کے اس سوال کا جواب بہر حال شہباز شریف یا ان کے وزیر خزانہ کے پاس نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل تو یہ ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد فوری فیصلے کرنے کی بجائے ملکی معیشت کو ڈوبنے کا تماشہ دیکھا گیا اور پانچ ہفتے بعد بعض اشارے ملنے اور کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ہوسکا۔ عمران خان کے مؤقف کی حمایت میں دوسری یہ دلیل موجود ہے کہ حکومت اور اس کے نمائیندے مسلسل تمام مشکلات کا الزام سابقہ حکومت پر عائد کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں تو حقیقی معاشی صورت حال کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ اگر ان تجربہ کار لیڈروں اور پارلیمنٹ کے ارکان کو حقیقی اعداد و شمار اور مسائل کا ادراک ہی نہیں تھا تو وہ اندھیرے میں عدم اعتماد کا تیر چلانے کے لئے کیوں بے چین تھے؟
اقتصادی سروے رپورٹ کے علاوہ دیگر ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات اور ماہرین کے تجزیوں سے یہ واضح ہورہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران پیدا کرنے اور اس کا بوجھ مخالفین کی طرف موڑنے کے جوش میں حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی گئی ۔ جیسے اس وقت عمران خان موجودہ حکومت کے لئے خطرہ بن کر مسلسل اسے کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی عالمی ادارہ اس حکومت پر اعتبار نہ کرے، اسی طرح موجودہ حکومت کے شرکا عمران خان کی حکومت کو پریشان کرنے اور اس کی عالمی شہرت کو گہن لگانے میں مصروف رہے تھے۔ جیسے اب عمران خان عوام کو یہ بتا رہے ہیں مہنگائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ملک پر ’چوروں‘ کی حکومت ہے ، اسی طرح تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور میں موجودہ حکومت کی پارٹیاں مہنگائی اور معاشی مسائل کی وجہ عمران خان کی غلطیوں، نااہلی اور بدانتظامی کو قرار دیتی تھیں۔ پیٹرلیم کی قیمتوں میں اضافے پر جیسی تنقید اب تحریک انصاف کررہی ہے، ویسی ہی نکتہ چینی شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری، تحریک انصاف کی حکومت میں ہر اضافے کے بعد کرتے تھے۔ عوام کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ پاکستان میں تیل پیدا نہیں ہوتا، اس لئے اسے اسی قیمت پر عوام تک پہنچایا جاسکتا ہے جس پر یہ عالمی منڈی میں دستیاب ہوگا۔ گزرے ہوئے کل میں بھی اپوزیشن پارٹیاں حکومت ہی کو مورد الزام ٹھہراتی تھیں ۔ اب تحریک انصاف بخوبی یہ فریضہ انجام دے رہی ہے۔
عام فہم میں آئی ایم ایف کو ملکی معاشی مسائل کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن ہر دور کی اپوزیشن یہ مؤقف اختیار کرتی ہے۔ اور اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف ہی واحد سہارا بن جاتا ہے۔ اگر اقتدار اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس حوالے سے سیاسی رویہ میں توازن پیدا کیا جاسکتا تو عوام کے لئے حالات کو سمجھنا اور ان کا سامنا کرنا آسان ہوجاتا۔ موجودہ حکومت نے مشکل صورت حال میں اقتدار سنبھالا ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے ان پارٹیوں کو تحریک انصاف کی پیدا کردہ مشکلات کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی لیکن سیاسی فائدے اور فعالیت کے نقطہ نظر سے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔ تو اب مسائل کی ذمہ داری بھی اسی خوش دلی سے قبول کرنی چاہئے جس منظم طریقے سے عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
شہباز حکومت کی بے عملی و بے یقینی موجودہ حالات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ملک میں ایک ’جمہوری‘ حکومت قائم ہے لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ اصل فیصلے کرنے کا مجاز کون ہے۔ یہ فیصلے لندن میں بیٹھے نواز شریف کرتے ہیں، بظاہر حکومتی امور سے لاتعلق آصف زرداری کی اجازت درکار ہوتی ہے یا ان دونوں کی بجائے براہ راست جی ایچ کیو کی منظوری اہم سمجھی جاتی ہے۔ شہباز حکومت کے اقدامات سے یہ تو واضح ہورہا ہے کہ وہ مسائل کی جڑ کو پکڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ یعنی غیر پیداواری اخراجات کو کم کرنے کے لئے کوئی مؤثر اور واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی۔ بلاشبہ ان اخراجات میں سب سے اہم فوجی مصارف ہیں لیکن بحران زدہ حکومت بجٹ پیش کرنے سے پہلے ہی یہ اعلان کرنے پر مجبور ہے کہ دفاعی اخراجات میں 6 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ دفاعی اخراجات کی بات کرتے ہوئے یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ ان مصارف کی زیادہ مقدار حاضر سروس ا ور ریٹائرڈ فوجیوں کو تنخواہیں، پنشن اور مراعات دینے پر صرف ہوتی ہے۔
موجودہ مشکل مالی حالات میں دفاعی بجٹ میں اضافہ کے ذریعے ’فوج‘ کو راضی رکھنے کی کوشش کی بجائے عسکری قیادت کے ساتھ یہ طے کرنا ضروری تھا کہ ملکی دفاعی صلاحیت پر مفاہمت کئے بغیر کون سے اخراجات کم کئے جاسکتے ہیں۔ ان میں خاص طور سے سابقہ فوجیوں کو ملنے والی فراخدلانہ مراعات کو زیر بحث لانے اور ختم کرنے کے اقدامات کرنا بے حد ضروری ہوتا۔ اسی طرح فوجی یا غیر فوجی افسروں کو انعام کے طور پر زرعی رقبہ یا رہائشی پلاٹ فراہم کرنے کا طریقہ ختم کرنا اہم ہوگا۔ اس ایک اقدام سے آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کو حکومت پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی کی سنجیدگی کے بارے میں واضح اور مضبوط اشارہ دیا جاسکتا ہے۔ انہیں یقین دلوایا جاسکتا ہے کہ حکومت کیسے غیر پیداواری اخراجات کم کرنے کے لئے ملک کے باوسیلہ لوگوں کو ذمہ داری لینے پر مجبور کررہی ہے۔
اسی طرح پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ غریبوں میں دو ہزار روپے ماہانہ امداد کا اعلان کرنے اور اس کی تشہیر پر میڈیا کو خوش کرنے کے لئے کروڑوں کے اشتہار بانٹنے کی بجائے اگر یہ اعلان کیا جاتا کہ سرکاری بیوروکریسی، ججوں، فوجیوں اور حکومتی عہدیداروں کو مفت فراہم کیا جانا والا پیٹرول فوری طور سے ختم کیا جارہا ہے۔ اسی طرح ان تمام موجودہ یا سابقہ افسروں یا ججوں کو پنشن کے علاوہ دی جانے والی غیر ضروری مراعات ختم کرکے ملک کے غریب عوام کو وہ خوشی فراہم کی جاسکتی تھی جو شاید دو ہزار کا امدادی چیک ملنے سے حاصل نہیں ہوگی۔
پاکستان بلاشبہ مالی مشکلات کا شکار ہے لیکن اب یہ تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان مشکلات کا سارا بوجھ ملک کے غریب عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ حکومت کو بجٹ کے دوران یہ واضح کرناچاہئے کہ یہ مالی بوجھ مفلسوں و نادار لوگوں کی بجائے ملک کے امیر، باوسیلہ اور خوشحال طبقے کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ ایسے کسی دوٹوک فیصلہ کے بغیر کسی حکومت پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔