سوشل میڈیا اور چرب زبانی ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 11 / جون / 2022
ان دنوں ایک شور ہے کہ سوشل میڈیا ہر چینل، ہر طاقت ، ہر چیز پر چھا گیا ہے باقی سب دبکتے یا کارنر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کتاب یا تحریر کی اثر آفرینی کے سامنے بھی فی زمانہ سوشل میڈیا سب سے بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے ۔
سوشل میڈیا کے ناقدین کا اصرار ہے کہ یہ شتر بے مہار یا بے لگام گھوڑا ہے جسے فوری طور پر قواعد و ضوابط یا قوانین کی نکیل ڈالی جانی چاہئے۔ سوشل میڈیا درحقیقت ہمارے سماج کی آواز یا طاقت ہے۔ اب جیسا سماج ہوگا ویسی ہی آوازیں آئیں گی، جیسا دودھ ہو گا ویسی ہی بالائی آئے گی۔ پتلے دودھ سےبھاری مکھن کی توقع عبث ہے، آج اگر آپ کی توقع کے مطابق کریم نہیں نکل رہی یا اس میں فاسد مادے ہیں تو ایک کھوجی کی طرح ڈھونڈ لیں کہ اس دودھ میں یہ مضر صحت کیمیکلز یا بے تحاشا پانی کی ملاوٹ کس کس عظیم ہستی، نام نہاد دانشور یا بے لگام مبلغ نے کی ہے ۔ اس نوع کی اپروچ کہ ظالمانہ قوانین سازی کے ذریعے سماج کی اس نمائندہ یا غیر نمائندہ آواز کا گلا گھونٹ دیا جائے، ایک آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں۔ اور نہ ہی آپ بزورِ لٹھ اسے دبانے کا یارا رکھتے ہیں۔
ایسے نیکو کاروں کیلئے مفت مشورہ ہے کہ وہ طالبان یا چائینہ جیسے استبدادی سماج میں شاید خوش رہیں، کسی بھی جمہوری و آزاد سماج کیلئے ایسی ذہنیت شہد میں سرکہ کی مانند ہو گی ۔ شراب کے متعلق یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی البتہ اس میں نقصان کا احتمال زیادہ ہے۔ اسی روشنی میں یہ عاجز عرض گزار ہے کہ سوشل میڈیا کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی البتہ اس کے فائدے نقصانات سے کہیں زیادہ اور بھاری ہیں۔ عقل والوں کیلئے اس میں بڑی نشانیاں یا انفارمیشن کے خزینے ہیں ۔ بارہا یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری نئی یا اصلی زندگی کا آغازہی اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کی ہوشربا ترقی سے ہوا ہے جس نے ہمیں لائبریریوں کے روایتی قصد و خبط سے بڑی حد تک مکتی دلا دی ہے۔ یا اس پلئیر سےدور کر دیا ہے، اب ایک بٹن دبانے پر معلومات یا نالج کا سیلاب ہماری دسترس میں ہوتا ہے۔ بالخصوص وہ حقائق جن تک عام آدمی کی رسائی نہیں تھی یا جن کا اظہار قابلِ گردن زدنی خیال کیا جاتا تھا اب کچھ بندشوں یا حفظ ماتقدم جیسے سیکورٹی اہتمام کے ساتھ دسترس میں ہے۔
سوشل میڈیا یا سماج کی آواز پر جو “صالحین”، ناک بھوں چڑھاتے ہیں ان کی اس غلط فہمی کا ازالہ یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہماری سوسائٹی میں بگاڑ پھیل رہا ہے۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ یہ بگاڑ یا خرابی چاہے اسے جو بھی نام دے لیں پہلے سے سوسائٹی میں موجود تھی اور موجود ہے جسےآپ لوگوں نے اپنے جیسے تیسے اخلاقی لبادوں سے محض ڈھانپ رکھا تھا یا آپ ایسے سمجھ رہے تھے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ترقی نے ان لبادوں کی نقاب کشائی کی ہے کچھ حقائق کی مزید تفہیم کیلئے ہمیں اپنی اسلامی یا مسلم سوسائٹی یا سماج کا تقابل جدید مغربی سوسائٹی یا سماج سے ضرور کرنا چاہئے۔
درویش نےکافی عرصہ قبل اس نوع کی کاوش ’’اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب ؟‘‘ کے ٹائٹل سے کی تھی ، آج ہمیں اگر مغرب میں سائنٹیفک علمی و فکری ترقی دکھتی ہے اور اپنے پاکیزہ سماج میں تنزلی و جنونیت ہمیں پریشانی میں ڈالتی ہے تو ایک مرتبہ ہمیں اپنی اور ان کی روٹس میں ضرور جھانک لینا چاہئے ۔ آج مغرب جہاں کھڑا ہے اس کی مضبوط بنیادوں میں سب سے زیادہ قدیم یونانی فلاسفرز کی محنت ، عقلیت پسندی اور عرق ریزی کی طاقت ہے۔ اور پھر ان کے عظیم الشان جدید فلاسفرز، جنہوں نے عقل و منطق، شعور و استدلال کے ساتھ انسان نوازی کو اپنے وژن کی بنیاد بنایا۔ آج اسی کا مظہر و عکس ہمیں مغربی سوسائٹی میں چھایا دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ ہمارے جتنے بھی مدبرین و علما و فقہا تشریف لائے سوائے چند ایک کے جن کی درگت خود ہمارے لوگوں نے ایسی بنائی کہ غیروں کی کمی محسوس نہ ہوئی بالخصوص معتزلہ کے ساتھ جو “حسن سلوک “روارکھا گیا، وہ ہماری افسوسناک تاریخ کا تلخ ترین حصہ ہے۔
شاہ ولی اللہ تو ابھی کل کی بات ہیں جنہیں ہمارے مدبرین میں اچھا خاصا روشن خیال سمجھا جاتا ہے جنہوں نے کتاب مقدس کا پہلا فارسی ترجمہ کیا تو فتاویٰ کےتیروں کی زد میں آگئے۔ شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین کے اردو تراجم تو بعد میں آئے، اتنا بڑا متکلم انسانی غلامی اور خریدوفروخت کے متعلق حجتہ البالغہ میں جو کچھ لکھ گیا ہے، درویش اگر وہ یہاں نقل کر دے تو یہ آرٹیکل روک لیا جائے گ۔ا لیکن حضرت شاہ صاحب آج بھی ہماری روایتی مسلم سوسائٹی میں سرسید جیسے عقلیت پسندی کے علمبردار سے کہیں زیادہ پاپولر گردانے و مانے جاتے ہیں۔ حضرت علامہ اقبال آج ہمارے کتنے بڑے قومی ہیرو ہیں۔ ان کے متعلق اگر کوئی تنقیدی سچائی بیان کرے گا تو بہت برا سمجھا جائے گا، حتی کہ ان کے لاڈلے بیٹے جاوید نے اگر عقل و شعور کی کچھ باتیں کی ہیں تو ہمارے راسخ العقیدہ سماج میں اگر مطعون نہ بھی کئے جاتے ہوں انہیں اچھا پھر بھی نہیں سمجھا جاتا ۔
اپنے سماج یا سوشل میڈیا پر تنقید کے تیر و نشتر چلانے سے قبل اس امر پر غور ضروری ہے کہ ہمارے موجودہ سماج کی تشکیل میں کس کا کتنا یا کیا کردار ہے؟ درویش کا پہلا دھیان محلے کے مولوی صاحب کی طرف جاتا ہے جن کے فرمودات کو سکول ماسٹر کی باتوں سے کہیں زیادہ تقدس حاصل ہے۔ لیکن اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہمارے سماج کی موجودہ تشکیل میں بیسیوں عناصر سامنے آئیں گے مگر فی الحال ہم محض پانچ کے رول پر اکتفا کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ہمارے مدارس یا سکولوں کا روایتی اور قدامت پسندانہ سلیبس ہے جس کا پشت پناہ ہمارا نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا محافظ محکمہ ہے اور کسی میں اتنی تاب نہیں کہ سرتابی کی جسارت کر سکے ۔ پھر ہمارا الیکٹرانکس اور پرنٹ میڈیا آجاتا ہے جہاں تقدس کے نام پر ہر رطب و یابس سند ہے لیکن کہیں عقل کی کوئی بات آ گئی تو گویا بخار چڑھ جائے گا۔ مابعد ہمارے شعرا و ادیب آ جاتے ہیں جن کا اثرو رسوخ وقت کے ساتھ کم سے کمتر ہوتا جا رہا ہے اگرچہ اقبال جیسے بڑے شاعر کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہمارے اساتذہ کی طرح بی ڈی سسٹم سے جڑے لوکل چودھری صاحبان یا لیڈران کا بھی اپنے اپنے محدود ایریاز میں اثر ضرور ہے مگر یہ زیادہ تر میڈیا یا مولوی صاحبان کو فالو کرتے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ جب سکھایا ہی یہ گیا ہو کہ عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے تو پھر اس کے زیر اثر جنون ہی ابھرے گا اور چرب زبان ہی اس سماج کی فکری و عملی قیادت کرتے ہوئے ہجوم کو پیچھے لگائے گا یا سوشل میڈیا میں چھایا دکھائی دےگا۔ اقبال نے اس حوالے سے کیا خوب فرما رکھا ہے:
عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
رہبر ہو ظن و تخمیں تو زبوں کار حیات