ادیب ۔۔۔۔عبدالفتور کا قاری

یہ ان دنوں کی بات ہے تب میں خیر سے ایک قاری تھا۔ کتابوں کا قدر شناس تھا اور اچھی اچھی کتابیں جمع کرنا میرا مشغلہ بن چکا تھا۔ اورمکمل مطالعہ کیے بغیر کسی بھی کتاب کو خود سے الگ کرنے کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔

بے شمار کتابیں پڑھ رکھیں تھیں کچھ بہت اچھی تھیں تو کچھ کم اچھی۔ بعض ادیب ایسے تھے جن کو پڑھنا عادت سی بن چکی تھی۔ مگر وہ اتنی تیزی سے کتابیں لکھ کر شائع نہ کراسکتے تھے جتنی تیزی سے میں ان کی ہر کتاب ہضم کر جایا کرتا تھا۔ اب ہر وقت انتظار رہتا کہ ان کی کب کوئی نئی کتاب آئے اور میں سارے صفحات چاٹ ڈالوں۔ انہی ادیبوں میں عبدالفتور بھی شامل تھے
کیا غضب کا لکھتے تھے۔ کتاب ہاتھ آجائے تو مجھے آس پاس کی کوئی خبر نہ ہوتی۔ جب تک کتاب کو شروع سے آخر تک نہ پڑھ لیتا کسی کام میں دل ہی نہ لگتا۔

ان دنوں کسی ادیب یا شاعر کو ذاتی طور پر جاننا بعید از قیاس تھا اور ملنا تو ناممکنات میں سے تھا۔ سوچتا کہ جو شخص، ادیب یا خاتون اتنا اچھا لکھتا ہے یا لکھتی ہے وہ کیسا دکھتا ہوگا۔ مگر ان دنوں لکھنے والے سے ملنے جلنے کا شاید رواج ہی نہ تھا۔ بھلا کوئی کسی سے کیسے ملتا۔ حالانکہ کتاب کے آخر میں مصنف کا، اگر وہ خود ہی ناشر ہوتا تو اس کا پتہ لکھا ہوتا تھا۔ مگر کیا کوئی کسی کے گھر یا دفتر جاکر یونہی کھڑا ہو جاتا ہے کیا۔ اور اگر بالفرض محال ایسا کرنے کی ہمت بھی ہو تو پھر آنے کی وجہ کیا بتائے گا۔ کیا یہ تاویل پیش کرتا کہ "جناب آپ کی کتاب مجھے بہت پسند آئی اس لیے آپ سے ملنے چلا آیا۔ لکھنے والا مجھے پاگل ہی سمجھتا۔ یا جواباً یہ کہہ کر گھر ہی بھیج دیتا شاید کہ ’میاں اچھی لگی تو جاؤ بازار سے کوئی دوسری خرید لو، اگر میری ساری کتابیں پڑھ چکے ہو تو کوئی اور ادیب تلاش کرلو۔ میرے پاس کیا لینے آئے ہو‘۔

صاحب وہ دور سوشل میڈیا اور فیس بُک یا واٹس ایپ کا تو تھا نہیں کہ مصنف ان ذرائع کو استعمال کر کے اپنی تشہیر کرتا، ملاقات کے بہانے نکالتا اور  اپنی کتاب سے زیادہ اپنی شہرت کا خواہاں ہوتا۔ شومئی قسمت کہ ایک دن میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ عبدالفتور صاحب سے مجھے ملوانے کا بندوبست کر آیا ہے۔ جناب عبدالفتور میرے پسندیدہ ادیب سے ملنے کا تصور ہی دلفریب تھا۔ عبدالفتور صاحب سے ملاقات تو مگر وائے حسرت پوری ہوتے ہوتے رہ گئی کہ اسی دوران وہ ملک عدم روانہ ہوگئے۔ مگر میری بے کلفتی کو دیکھتے ہوئے میرے دوست نے مجھے اپنے محلے کے ایک دوسرے ادیب سے ملاقات کرانے کا عندیہ دیا۔ مگر میری نظروں  سے ان کی کبھی کوئی کتاب گزری ہی نہیں تھی۔ اس لیے مجھے ان سے ملنے کا کوئی خاص شوق تھا نہیں مگر میرے دوست نے بتایا کہ وہ صاحب تم سے ملنے کے بہت مشتاق ہیں۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ یہ کیسا ادیب ہے۔ اس کے پاس اتنا وقت کہاں سے آیا کہ وہ مجھ ایسے قاری سے ملنے کا شوقین ہے۔

خیر ملاقات ہوئی میں دیکھ کر بہت ملول ہوا کہ ادیب تو بس میرے ہی جیسا عام سا شخص ہوتا ہے۔ اس میں عبدالفتور والی کوئی بات ہی نہ تھی۔ کوئی خاص خوشی تو مجھے ہوئی نہیں البتہ اس مصنف نے اپنی چند کتابیں مجھے پکڑا دیں۔  گھر آکر مطالعے سے پتہ چلا کہ کتابیں بھی کچھ خاص نہیں تھیں۔ البتہ ان صاحب سے ملاقات کے بعد  میری تو دنیا ہی بدل گئی۔ میں نے سوچا کہ میں تو خود ان سے اچھا لکھ سکتا ہوں۔ کیوں نا میں بھی طبع آزمائی کروں۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، اب میں خود لکھتا ہوں فیس بک پر تشہیر کرتا ہوں۔ اور کوئی پڑھے نہ پڑھے خود کو ادیب نہیں بلکہ زمانے کا سب سے بڑا ادیب مانتا ہوں۔

کہاں میں ایک ہر دم نئی کتاب کا متلاشی قاری تھا۔ جس کی معلومات وسیع تھی۔ جورات کو پرسکون نیند لینے کے لیے بستر پر لیٹا کتاب پڑھتا اور حیرت واستجاب کی دنیا میں کھو کر خواب غفلت کے مزے لوٹتا تھا۔ اب جب سے لکھنے کا خناس سر میں سمایا ہے تو پڑھنا بالکل ختم ہوچکا ہے۔ کتابوں کو ہاتھ لگانا۔۔۔۔۔ کسی دوسرے کی گناہ سمجھتا ہوں۔ راتوں کو بے چینی سے کسی نیرنگی خیالات کا منتظر رہتا ہوں۔ ہر وقت لکھنے کی دھن سوار رہتی ہے۔ معلومات صفر رہ گئی ہیں۔ کتنی ہی اچھی کتاب کیوں نا ہاتھ لگے پڑھنا کفر سمجھتا ہوں۔