بھارت میں گستاخانہ بیان پر مظاہرہ کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن
بھارتی پولیس نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز کلمات پر ملک بھر میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ مغربی بنگال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو اراکین کی جانب سے کیے گئے اسلام مخالف تبصروں کے خلاف مسلمان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں بی جے پی نے اپنی ترجمان نوپور شرما کو معطل کردیا تھا اور ایک اور رہنما نوین کمار جندال کو نبی کریم ﷺ کے بارے میں متنازع تبصروں پر پارٹی سے نکال دیا تھا۔
ان گستاخانہ تبصروں نے کئی مسلم ممالک کو بھی ناراض کیا، جس سے نریندر مودی کی حکومت کو ایک بڑے سفارتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کے دو سابق عہدیداروں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
قطر، سعودی عرب، یو اے ای، عمان، اور ایران جسے بھارتی تجارتی شراکت داروں کی جانب سے سفارتی چینل کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا، جبکہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تبصرے اور ٹوئٹس حکومت کے نظریات کی عکاسی نہیں کرتے۔
دوسری جانب رہنماؤں کی جانب سے کیے گئے تبصروں پر ملک بھر میں احتجاج ہوئے ہیں۔ اقلیتی مسلمان برادری کے کچھ لوگ بی جے پی کے دور حکومت کو تذلیل اور دباؤ کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کی تازہ ترین مثالوں میں عبادت کی آزادی سے لے کر خواتین کے سر پر حجاب پہننے تک درپیش مسائل شامل ہیں۔
گزشتہ روز مشرقی شہر رانچی میں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ کے 2 نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔ ادھر شمالی اتر پردیش ریاست میں ہنگامہ آرائی کے دوران 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب بنگال کی مشرقی ریاست میں حکام نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ہاورا کے صنعتی ضلع میں 16 جون تک عوامی جلسوں پر پابندی عائد کردی ہے۔
پرتشدد واقعات کے بعد تقریباً 70 افراد کو فساد پھیلانے اور امن و امان کی صورتحال میں خرابی پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے بھارت میں برسرِ اقتدار جماعت کی سابقہ ترجمان نوپور شرما کے خلاف ویڈیو جاری کرنے پر ایک شہری کو گرفتار کرلیا۔
خیال رہے کہ نوپور شرما نے نبی ﷺ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیے تھے۔ یوٹیوب پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کو حکام نے ملک بھر میں پھیلنے والی مذہبی بدامنی کو روکنے کی وسیع تر کوشش کے تحت اسے انٹرنیٹ سے خارج کردیا ہے۔
بی جے پی کے رہنماؤں نے سینیئر اراکین کو ہدایت جاری کی ہیں کہ عوامی جلسوں کے دوران مذہبی معاملات پر بات کرتے ہوئے ’انتہائی محتاط‘ رہیں جبکہ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے