سپریم کورٹ کی جانب سے شوکت صدیقی برطرفی کیس جلد ختم کرنے کا عندیہ

  • سوموار 13 / جون / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کےخلاف کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ کیس جلد ختم ہو، کیوں کہ بینچ میں شامل 2 ججز ریٹائر ہورہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے سابق جج کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دیے۔ چیف جسٖٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ کیس جلد ختم ہو۔ 14 سماعتیں ہوچکی ہیں، حامد خان صاحب جلد دلائل مکمل کریں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ بینچ میں شامل دو ججز جولائی اور اگست میں ریٹائر ہورہے ہیں، ججز کی ریٹائرمنٹ سے قبل کیس ختم کرنا چاہتے ہیں۔ زیر التوا مقدمات کے بوجھ کے باعث لارجر بینچ مشکل سے بنتا ہے۔

حامد خان نے کہا کہ کیس کی سماعت دوپہر 12 بجے شروع ہو تو دلائل کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ میں بیٹھنے کے لیے حاضر ہیں، آپ رات 9 بجے بھی کہیں تو سپریم کورٹ میں کیس سننے کے لیے تیار ہیں۔ عدالت نے حامد خان کو آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ کل اٹارنی جنرل کے دلائل سن لیں گے۔

حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے مؤکل کو میڈیا کے ذریعے جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کا علم ہوا، نہیں معلوم کونسل رپورٹ وزیر اعظم کی ایڈوائس کے ذریعے صدر کو بھیجی گئی یا نہیں۔ کونسل نے رپورٹ کے لیے سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کانسی کے مؤقف پر انحصار کیا حالانکہ جوڈیشل کونسل کو دو الگ الگ مؤقف پر انکوائری کرانا چاہیے تھی۔

حامد خان نے کہا کہ میرے مؤکل کے خلاف گواہ بننے پر انور کانسی کے خلاف ریفرنس ڈراپ کردیا گیا اور شوکت عزیز صدیقی کےخلاف تین ریفرنسز کی کارروائی روک کر چوتھا ریفرنس چلایا گیا۔

چیف جسٹس نے حامد خان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ اپنی گزارشات بتائیں مقدمے کے حقائق ریکارڈ پر ہیں۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے الزامات پر انکوائری ضروری تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کے خلاف آئینی درخواست قابل سماعت ہے۔ حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے مؤکل کو سنا ہی نہیں گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے یہ سارے دلائل نوٹ کر لیے ہیں، کیس کی سماعت کل مکمل کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے بیرون ملک جانا ہے ان کو بھی سننا چاہیں گے۔

یاد رہے کہ 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔ 22 جولائی کو چیف جسٹس  سپریم کورٹ ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔