سیاسی عدم استحکام اور یوکرین جنگ پاکستان کی مالی مشکالت میں اضافہ کا سبب ہیں

  • سوموار 13 / جون / 2022

حکومت نے سابقہ دور حکومت میں کیے گئے معاہدوں کی بدانتظامی کو پہلی بار تسلیم کرتے ہوئے اسے توانائی کے شعبے میں بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ اور نشاندہی کی ہے کہ ملکی سیاست میں عدم استحکام، روس  یوکرین جنگ، صوبائی خسارے، اور ریاستی اداروں ملکی معیشت کے لئے خطرہ ہیں۔

وفاقی بجٹ کے حصے کے طور پر پبلک فنانس ایکٹ کے تحت پارلیمنٹ کو درکار بیان میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور سیکریٹری فنانس حامد یعقوب شیخ نے اضافی سبسڈی اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے اور طلب کے برعکس درآمد سے محصولات میں کمی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی ترقی، مالیاتی استحکام اور مالیاتی تخمینے کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کے نقصانات کے پیچھے بنیادی وجوہات میں پیداوار کی زیادہ لاگت، مہنگی ٹیکنالوجیز اور ناقص ڈیزائن کردہ معاہدے شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاروں کے لیے بے تحاشا منافع اور پلانٹ کے آپریشنز کے پہلے 10 سالوں کے دوران قرض کی ادائیگیوں کی فرنٹ لوڈنگ، اوسط سے زیادہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات اور بجلی کے بلوں کی وصولی اوسط سے کم ہو گئی ہے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ان تمام عوامل کے نتیجے میں اس وقت حکومتی سبسڈی کا سب سے بڑا وصول کنندہ توانائی کا شعبہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو کئی مالیاتی خطرات کا سامنا ہے اور ایسے خطرات کے ممکنہ منفی اثرات پر قابو پانے یا ان کو کم کرنے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے۔

امید افزا بات یہ ہے کہ ملک نے پہلے ہی کچھ شعبوں میں کافی ترقی کر لی ہے اور باقی شعبہ جات میں خطرات سے نمٹنے کے لیے متعدد طریقہ کار موجود ہیں۔ اس میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اصلاحات کے تحت خطرے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کا عزم کیا گیا ہے تاکہ بجٹ سائیکل کے تمام مراحل میں نظم و ضبط، شفافیت اور ساکھ میں اس طرح کے خطرات کو روکنے یا کم کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔

درآمدی ایندھن کی لاگت میں اضافہ چاہے وہ بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کی وجہ سے ہو یا روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے، یا دونوں کی وجہ سے ہو، یہ جی ڈی پی کو کم اور محصولات میں اضافے کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، افراط زر، شرح سود، سود کی لاگت، مالیاتی خسارہ اور عوامی قرض معیشت کو متاثر کرنے والے عوامل میں شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس وقت درآمدی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں یا مالی مسائل اور خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی فریم ورک موجود نہیں ہے۔ بیان میں نشاندہی کی گئی کہ صوبوں کی طرف سے ’سخت مالیاتی نظم و ضبط‘ اور اس کے نتیجے میں ان کے کیش سرپلس میں اضافہ ملک کے مجموعی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے حوالے سے اہم جزو ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کو پاکستان کے مثبت اقتصادی نقطہ نظر کے لیے ایک اہم خطرے کے عنصر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ طویل تنازع تیل اور خوراک کی بین الاقوامی قیمتوں میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ تنازع سپلائی میں رکاوٹوں کے ذریعے عالمی تجارت میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔