بجٹ کے بعد ڈالر مہنگا، اسٹاک مارکیٹ میں مندی

  • سوموار 13 / جون / 2022

نئے مالی سال کے بجٹ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں ڈالر کی قدر میں مزید ایک روپے 85 پیسے کا اضافہ ہوگیا۔ جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا ہے۔ 100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس سے زائد گر گیا۔

کاروباری ہفتے کے آغاز پر انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں ایک روپے 85 پیسے اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ڈالر 204 روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔ پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے ڈالر کی اونچی اڑان کو رواں مالی سال کے اختتام سے منسلک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ جون میں مالی سال 22-2021 کا اختتام اور تیل کے درآمدی بل کی ادائیگیاں ہیں۔

آئی ایم ایف سے معاہدہ حتمی مراحل میں پہنچنے تک روپے پر دباؤ جاری رہ سکتا ہے۔ اگلے مالی سال کے لیے درآمدات اور برآمدات کے جو اہداف رکھے گئے ہیں ان میں خاصا فرق ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ سال بھی اس فرق کو کم کرنے کے لیے مزید قرض لینے کی ضرورت ہو گی۔

ملک بوستان کے مطابق بینکاری کے شعبے میں ڈالر کے سٹہ باز بھی میں سرگرم ہیں اور انہوں نے تجویز پیش کی کہ ڈالر کی فاروڈ ٹریڈنگ پر پابندی عائد کرکے روپے کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔

کرنسی ڈیلر ظفر پراچا نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جون میں مالی سال اختتام پذیر ہونے پر بیرونی کمپنیاں منافع باہر بھیج رہی ہیں جبکہ برآمد کنندگان بھی زائد منافع کے سبب غیر ملکی زرمبادلہ ملک میں نہیں لارہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے سبب ڈالر کی طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوگیا ہے، اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ برآمد کنندگان کو برآمدی آمدنی ملک میں لانے کا پاب

دوسری جانب کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے آغاز سے ہی کے ایس ای 100 انڈیکس کمی دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں نے اس کمی کو آئندہ مالی کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے شعبہ بینکاری پر ٹیکسز سے منسوب کیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی ویب سائٹ کے مطابق 3 بجے تک انڈیکس میں ایک ہزار 16.79 پوائنٹس یا 2.42 فیصدکی کمی دکھنے میں آئی جس کے بعد 100 انڈیکس 42 ہزار 69.65 پوائنٹس پر آگیا۔