امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کی تعیمرِ نو چاہتا ہے: ڈونلڈ بلوم

  • منگل 14 / جون / 2022

پاکستان میں امریکا کے نئے سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملک کی حکومت، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے تنازع سے آگے بڑھنے کے واشنگٹن کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔

ڈونلڈ بلوم گزشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان پہنچے تھے۔ انہوں نے مشکل وقت میں امریکی مشن کا چارج سنبھالا ہے۔ اگرچہ پاکستانی معاشرے میں امریکا مخالف جذبات بہت گہرے ہیں لیکن یہ جذبات اس وقت بھڑک اٹھے جب سابق وزیراعظم عمران خان نے الزام لگایا کہ انہیں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکی سازش کے ذریعے بے دخل کیا گیا اور 'بیرونی طاقتوں کے غلاموں' سے 'آزادی' کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عوامی مہم چلائی۔

بڑھتے ہوئے امریکا مخالف جذبات واشنگٹن کے لیے پاکستان میں اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف کو پورا کرنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔  نئے مواقع بھی ابھرے ہیں۔ ڈونلڈ بلوم تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد اسلام آباد میں پہلے کل وقتی امریکی سفیر ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری اس وقت سنبھالی جب گزشتہ سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بظاہر یہ اب کوئی اہم مسئلہ نہیں رہا۔

امریکی سفیر نے ڈان سے انٹرویو میں عمران خان کے حکومت کی تبدیلی کے الزام کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ واشنگٹن اس بارے میں بہت واضح ہے۔ میرے خیال میں سب سے بہتر چیز جو ہم آگے بڑھنے کے لیے کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی معاشرے کی تمام سطحوں پر رابطے رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رابطے صرف حکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سیاسی رہنماؤں، تاجر برادری، سول سوسائٹی اور نوجوانوں تک پھیلیں گے۔ ان دو طرفہ رابطوں میں وہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ’سنیں اور سمجھیں گے‘ اور واشنگٹن تک اسے پہنچائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ یہاں حاضرین کے ساتھ امریکی نظریات اور پوزیشن واضح اور شفاف طریقے سے شیئر کریں گے۔

امریکی تعلقات پر ملکی سیاست میں انتشار پسندی سے ہٹ کر، اسلام آباد میں نئی حکومت ہمیشہ دوطرفہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے تیار رہی ہے۔ اس کا پہلا موقع امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو اقوام متحدہ میں فوڈ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے دیے گئے دعوت نامے کی شکل میں سامنے آیا۔

بلاول بھٹو زرداری اور انٹونی بلنکن نے 18 مئی کو نیویارک میں کانفرنس کے موقع پر بھی ملاقات کی، جو کئی ماہ میں دونوں فریقین کے درمیان پہلی اعلیٰ ترین سطح کا براہِ راست رابطہ تھا۔ ڈونلڈ بلوم نے انکشاف کیا کہ دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں طے شدہ ایجنڈے کی بنیاد پر متعدد فالو اپس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سے کچھ میں یہاں کروں گا اور مجھے امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں ہم پاکستان میں مختلف قسم کے امریکی وزیٹرز کو دیکھیں گے تاکہ اسے مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ طویل عرصے سے معطل دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کی جانب بظاہر ایک قدم کے طور پر دونوں فریقین صحت کے مسائل پر  تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے واشنگٹن میں امریکا پاکستان صحت مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی سفیر نے عالمی وبا کووڈ 19 کے خلاف دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو صحت کے حوالے سے تعاون کی ایک اچھی مثال کے طور پر یاد کیا۔ خیال رہے کہ امریکا نے کووِڈ ویکسین کی 6 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ خوراکیں، 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی مالی مدد اور 90 لاکھ ڈالر کی اضافی امداد پاکستان کی وبائی بیماری کے خلاف جنگ میں فرہام کی تھی۔

ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ ہم اس کام کو نہ صرف امداد میں بلکہ صحت کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی شراکت کے ذریعے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات کے دوران سرمایہ کاری اور تجارت پر زور دینے کی طرح ڈونلڈ بلوم نے بھی کہا کہ وہ  دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا انسداد دہشت گردی پر پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے اور اسلام آباد سے تمام عسکریت پسند اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف پائیدار اور بلا امتیاز کارروائی کی توقع رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان میں یا کہیں بھی دہشت گردی کے خطرات کے دوبارہ نمودار ہونے کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان پر طالبان پر افغان سرزمین دہشت گردی کے اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے، انسداد دہشت گردی، جامع حکومت اور خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق وعدوں کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔