پیٹرول کا ٹرینڈ اور ہجوم کی نفسیات
- تحریر رضی الدین رضی
- منگل 14 / جون / 2022
ہم نے لڑکپن میں ایک جملہ تواتر کے ساتھ سنا اور اب بھی بسا اوقات سنتے ہیں کہ ہم ایک قوم نہیں ہجوم ہیں۔ بہت عرصہ تک تو ہمیں اس جملے کا مفہوم ہی سمجھ نہ آیا کہ ایک قوم کو ہجوم کیوں قراردیا جارہاہے۔
پھر کسی نے سمجھایا کہ ہجوم کی ایک اپنی نفسیات ہوتی ہے جو کسی قاعدے قانون کی تابع نہیں ہوتی۔ ہجوم بھیڑبکریوں کے ریوڑ کی مانند ہوتا ہے جسے جو جب چاہے کسی بھی جانب ہانک سکتا ہے۔ وہ سیاسی رہنما ہو یا فوجی آمر، مولوی ہو یا انتہا پسندوں کاکوئی سرغنہ، یہ قوم ڈگڈگی کے تابع ہے۔ کوئی مداری آتا ہے اور کھیل دکھا کر چلا جاتا ہے۔لیکن ہجوم کامفہوم ہمیں پھربھی سمجھ نہ آیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہجوم نہ صرف یہ کہ ہمیں اچھی طرح سمجھ آگیا ہے بلکہ ہجوم نے ہمیں خوفزدہ بھی کردیا ہے:
جانے کب کون کسے ماردے کافر کہہ کے
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
شہرمسلمان ہی نہیں اب منصف بھی ہوا پھررہاہے۔ جو جہاں چاہتا ہے عدالت لگالیتا ہے۔ قارئین کرام آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک ایسے ماحول میں جب پیٹرول کی قیمت ٹاپ ٹرینڈ بن چکی ہے اورلوگ صرف پیٹرول پر بات کرنا یا سننا پسند کرتے ہیں ہم ہجوم کو زیربحث کیوں لے آئے۔ لیکن ابھی ہجوم کی بات ہی کرتے ہیں پیٹرول کی کہانی آپ کو خود سمجھ آجائے گی۔ پاکستان میں ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل کی خبریں اب اس تواتر کے ساتھ سامنے آتی ہیں کہ میڈیا بھی ان سے لاتعلق ہوتاجارہاہے۔ یوں تو بہت سے واقعات ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں آج بھی سوچیں تو روح تک لرز جاتی ہے، ہاتھ جوڑتے، فریاد کرتے، جان کی امان مانگتے بے گناہ لوگوں کو ہجوم نے بارہا موت کے گھاٹ اتارا۔ کسی کی ہڈیاں توڑیں، کسی کے ٹکڑے کیے پھربھی غصہ کم نہ ہوا تو لاش کودرخت کے ساتھ لٹکا دیا۔ اور اگر مذہبی رنگ دینا مقصود ہوا تو پھر نعش کو نذر آتش بھی کرنے سے گریز نہ کیاگیا۔ ہجوم کے ہاتھوں اموات کے ابتدائی واقعات میں تو ہم نے یہ دیکھا کہ حکومت بھی سرگرم ہوئی۔ میڈیا نے بھی شور مچایا، این جی اوز بھی حرکت میں آئیں اور کئی کئی گھنٹے کی مسلسل نشریات بھی دیکھنے کو ملیں۔ لیکن پھررفتہ رفتہ ہم نے ان واقعات کوبھی معمول کی خبروں کاحصہ بنادیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایسے واقعات اب چند ٹکرز کے بعد ہی میڈیا سے غائب ہوجاتے ہیں۔
جو ردعمل ہجوم کے ہاتھوں مشعال خان کے قتل پر سامنے آیا تھا وہ اب دیکھنے کونہیں ملتا اور شاید اسی لیے نہیں ملتا کہ مشعال خان کے قاتل کونسا کیفرکردار کو پہنچ گئے۔ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہجوم کا نشانہ بننے والے مشعال خان کی برسی پر اب بھی سوشل میڈیا حرکت میں آتا ہے لیکن سوشل میڈیاکا کیا ہے، سوشل میڈیا تو غیر ضروری طورپربھی حرکت میں آجاتا ہے۔ مشعال کے حوصلہ مند والد نے اب حالات کے جبرکو قبول کرلیا ہے۔ بااثر افراد کے بری کیے جانے کے بعد اس مقدمے کے ایک ملزم کو ہی سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن وہ بھی بعدازاں عمر قید میں تبدیل ہوگئی اور صرف اس ملزم ہی کی نہیں مشعال کے والد کی ’عمر قید‘ بھی مزید اذیت ناک ہوگئی۔ج ب سیالکوٹ کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارکو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد ان کی نعش کو نذرآتش کیاگیا تو لوگوں کو اسی شہرمیں رونما ہونے والا ایک اور واقعہ بھی یاد آیا جب کئی برس پہلے سیالکوٹ کے دوسگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو چور قراردے کر رسیوں سے باندھا گیا اور پھر انہیں مارمارکر موت کے گھاٹ اتاردیاگیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد بہت سے لوگ گرفتارہوئے تھے جوبالآخراسی طرح رہا کردیے گئے جیسے مشعال کے قاتلوں کورہائی ملی۔
2014میں کوٹ رادھا کرشن میں ایک مسیحی جوڑے کو ہجوم نے وحشیانہ تشدد کے ساتھ قتل کیا اور پھران کی نعشیں اینٹوں کے بھٹے میں جلا دی گئیں۔ 2012 میں بہاولپورکے علاقے چنی گوٹھ میں بھی ایک شخص کو توہین مذہب کے الزام میں زندہ جلادیاگیا تھا۔ہجوم نے اسے تھانے سے نکال کر قتل کیا تھا۔ اوراسی برس تلمبہ میں ہجوم کے ہاتھوں مرنے والے ذہنی مریض کی اذیت ناک کہانی کسے بھولی ہوگی۔ ہاں البتہ یہ ہم بھول چکے ہیں کہ اس کی موت کے بعد خانہ پری کے لیے گرفتار کیے گئے 62ملزمان کا بعد میں کیا بنا تھا؟
قارئین محترم ہمیں یہ سب کہانیاں اس لیے یاد آئیں کہ گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ میں ایک محنت کش کوچورقراردے کر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ محمد اشرف گوجرانوالہ کے علاقے گھوڑے شاہ کے رہائشی تھے۔ وہ شہر کے مختلف علاقوں سے سکریپ جمع کرتے اور کباڑ کا کام ان کے روزگار کا ذریعہ تھا۔ اشرف کباڑ کا سامان لے کر اپنی دکان کی طرف جارہے تھے کہ ان کی موٹرسائیکل کا پیٹرول ختم ہوگیا۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ موٹرسائیکل کا پیٹرول ختم نہیں ہوا اس کے ساتھ ہی ان کی زندگی کاسفر بھی ختم ہوگیاہے۔ اشرف نے پیٹرول پمپ کے احاطے میں اپنی موٹرسائیکل کھڑی کی اور باتھ روم کی طرف چلے گئے۔ واپس آئے تو انہوں نے وہاں موجود چار پانچ موٹرسائیکلوں میں سے کسی اور کی موٹرسائیکل کو انجانے میں ہاتھ لگادیا۔ بس یہی ان کاقصور تھا۔ لوگوں نے چور چور کا شور مچایا اوران پر حملہ آور ہوگئے۔ اشرف نے شاید انہیں یہ بتانے کی کوشش بھی کی ہوگی کہ میری موٹرسائیکل کی چابی میرے پاس ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتانا چاہا ہوگا کہ وہ تو صرف واش روم تک گئے تھے اور صرف پیٹرول ڈلوانے کے لیے یہاں رکے تھے لیکن ہجوم بھلا کس کی سنتا ہے۔ لوگوں کاخیال ہے کہ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم میں برداشت ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہم معاشرتی طورپر الجھنوں اورغصے کاشکارہیں۔ یہ غصہ غربت کی وجہ سے بھی پروان چڑھا، مذہب کی وجہ سے بھی، سیاست اور ریاست کی وجہ سے بھی۔ وجہ کچھ بھی ہو یہ سوچنا بہرحال ضروری ہے کہ ہم اتنے وحشی کیوں ہوگئے ہیں۔ ہم نے سڑکوں پر عدالتیں لگانا کیوں شروع کردی ہیں۔ کیا ہمارا عدالتوں پر سے اعتماد ختم ہوگیا ہے۔ کیاہمیں یہ یقین نہیں رہا کہ اگر ملزم کو قانون کے حوالے کردیا تو قانون خود انصاف کردے گا یا پھر ہم نے موت کوبھی تفریح بنالیا ہے۔
ان سوالات کے جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا لیکن اس واقعہ سے میڈیا کی لاتعلقی پر ہمیں بہرحال حیرت ہے۔ اشرف کباڑیے کے ساتھ اگریہ واقعہ پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد رونما ہوتا تو پھر میڈیا اسے ضرور اپنا موضوع بناتا کہ حکومت کے خلاف مہم چلانے کے لیے اس سے اچھا واقعہ بھلا اورکون سا ہوسکتا تھا ۔قارئین کرام اب یقیناً آپ کو یہ اندازہ ہوگیاہوگا کہ ہم نے پیٹرول کے ٹرینڈ میں ہجوم کو موضوع کیوں بنایا۔
( بشکریہ روزنامہ پاکستان )