شخصیات میں گھری پاکستانی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- منگل 14 / جون / 2022
پاکستان کی مجموعی سیاست کا تجزیہ کیاجائے تو اس میں سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی او رمنصفانہ شفاف حکمرانی کے نظام کے مقابلے میں ’شخصیات کے گرد گھومتی سیاست‘کا غلبہ نظر آتا ہے۔سیاست او رجمہوریت کسی آئینی، قانونی او رجمہوری فریم ورک کی بجائے ہمیں شخصی یا خاندانی سیاست کے تابع نظر آتی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کی سیاست او رجمہوریت کا عمل کمزور جبکہ شخصیات یا خاندانی سیاسی غلبہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ سیاست اورجمہوریت کا ایک بنیادی نقطہ یا کامیابی کی کنجی سیاسی اداروں کی مضبوطی کا عمل ہوتا ہے جہاں عملی حیثیت شخصیات کے مقابلے میں ادارہ جاتی عمل کو ہوتی ہے۔ افراد آتے ہیں او راپنے وقت پر چلے جاتے ہیں جبکہ سیاسی ادارے عملا اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ مگر ہمارا سیاسی المیہ مختلف ہے جہاں سیاسی جماعتوں کو کمزور رکھنا ہماری سیاسی قیادت کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی کمزوری ہی اس کی ذاتی یا خاندانی سیاسی طاقت کو تقویت دے سکتی ہے۔
مسئلہ محض سیاست یا سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر قومی سیاست کا بیانیہ ہی سیاسی شخصیات کے گرد کھڑا نظر آتا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر مختلف سیاسی، سماجی، انتظامی، قانونی فریقین یا اہل دانش کا بڑا طبقہ اپنا بیانیہ پیش کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا ادارے جو بظاہر یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہمارا بیانیہ غیر جانبدار او رحقایق پر مبنی ہے مگر درحقیقت ان کا پیش کردہ عملی بیانیہ وہی ہوتا ہے جو بڑی سیاسی شخصیات یا اسٹیبلیشمنٹ کی طاقت کے گرد گھومتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا ادارے کی سوچ ا و رفکر میں عام آدمی کے مقدمہ سے زیادہ طاقت ور طبقات کی حمایت او رخوشنودی حاصل کرنا او ران ہی طاقت ور فریقین کی مدد سے اپنی طاقت کو قائم کرنا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے یہ اعتراف مجموعی طور پر کیا جانا چاہیے کہ بطور قوم اداروں کی تشکیل کرنے یا ان کو عملا مضبوط کرنے کی بجائے افراد یا شخصیات کو مضبوط کرنے کے ایجنڈے کا حصہ بن کر دہ گئے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار بڑے قومی راہنما کو ملک کے بڑے اہم سیاسی منصب پر کئی برس تک رہے ان سے کہا گیا کہ اب آپ ملک میں سیاسی مقبولیت رکھتے ہیں تو آپ سیاسی نظام او راپنی سیاسی جماعت کو مضبوط بنائیں۔ اہل دانش کی اس فکر پر اس بڑی سیاسی شخصیت نے بڑا قہقہ لگایا ہے او رکہا کہ جناب آپ لوگ دانشور ہیں سیاسی شخصیت نہیں۔ ایک بنیادی بات آپ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر سیاسی جماعت کسی نظام یا ادارے کی شکل میں مضبوط ہوگی تو ہم نہ صرف کمزور ہوں گے بلکہ ان کے سامنے جوابدہ بھی ہوں گے۔ جبکہ اگر ہم مضبوط ہوں گے تو سیاسی نظام یا جماعت کسی قانون کے دائرہ کار میں بلکہ ہمارے تابع ہوگی۔یہ محض ایک سیاسی راہنما کے فرموادت نہیں بلکہ مجموعی طو رپر ہماری پوری سیاسی قیادت کی کہانی ہے جو سیاسی جماعت سے ذیادہ خود کو یا اپنے خاندان کو سیاسی جانشینی کے طور پر مضبوط بنانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں کم اور سیاسی لمیٹیڈ کمپنیاں زیادہ ہیں جو افراد کی خدمت کے مقابلے میں ’سیاسی منافع‘کی بنیاد پر چلائی جاتی ہیں جو سیاست کو کاروبار سے جوڑنے کا سبب بن رہی ہے۔
اس پورے کھیل کا سب سے بڑا سیاسی او رجمہوری نقصان یہ ہورہا ہے کہ ہم ایشوز کی سیاست سے بہت دور چلے گئے ہیں او ریہاں شخصیات کی سیاست چلتی ہے۔منطق یا دلیل یہ دی جاتی ہے کہ شخصیات پر مبنی حکمرانی ہی ہماری ضرورت ہے۔ اگر یہ سیاسی شخصیات یا خاندان نہ ہوں تو ہماری سیاسی جماعتیں یتیم ہوجائیں گی او رکوئی ان کی سیاسی سرپرستی نہیں کرے گا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اگر ہم اپنی تمام سیاسی جماعتوں کو دیکھیں تو وہ خاندانی نظام میں جکڑی ہوئی ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی، جے یو آئی)ف(،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی،خاندانی بنیادوں پر کھڑی ہیں اور دیگر جماعتوں میں اگر قیادت کی سطح پر خاندان نہیں تو ددیگر سطحوں پر موجود قیادت نے اپنے خاندان کی بنیاد پر ان جماعتوں پر بھی اپنا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔سیاسی جماعتوں کے انتخابات کو دیکھیں تو ایک بڑا سیاسی تماشہ ہے جوہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ تمام قیادت بلامقابلہ منتخب ہوتی ہے اور کسی میں کوئی جرات نہیں کہ وہ اپنی قیادت کے مقابلے میں اپنی ہی جماعت میں انتخاب لڑسکیں۔ سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام، الیکشن کمیشن سب ہی بے بس یا یرغمال نظر آتے ہیں او رکوئی سیاسی سطح پر ان کی جوابدہی کا نظام موجود نہیں۔
ہمارا مجموعی میڈیا بھی اسی کھیل میں نمایاں نظر آتا ہے۔ قومی، علاقائی یا عالمی سیاست یا معیشت سے جڑے معاملات پر بحث یا تجزیہ کم بلکہ یہ شخصیات کے گرد ہی حمایت یا مخالفت میں اپنا بیانیہ جو درحقیقت ان ہی طاقت ور طبقہ کا بیانیہ ہوتا ہے پیش کرتے ہیں۔ٹاک شوز سیاسی طور پر شخصیات کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر ہوتے ہیں جہاں ان بڑی سیاسی شخصیات کو بنیاد بنا کر قومی سیاست کا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس پورے کھیل میں اگر کسی کا سیاسی استحصال ہوتا ہے تو وہ عوام یا کمزور طبقہ ہوتا ہے جن کے مفادات کو قربان کرکے طاقت ور طبقہ کے مقدمے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا قومی مقدمہ سیاسی شخصیات کا ہے یا ایک ایسے سیاسی، سماجی، انتظامی، قانونی او رمعاشی سطح کے نظام کا ہے جو ایک ذمہ دار ریاست، حکومت، اداروں سمیت معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار اداکرسکے۔شخصیات پر بحث کی جائے مگر اس کی بنیاد ان کی جوابدہی او رنظام کے تابع ہونے کی ہونی چاہیے۔حالیہ دنوں میں نوجوانوں کے ایک بڑے گروپ سے دو گھنٹے ایک مکالمہ کا موقع ملا جو قومی سیاست او رمیڈیا سے جڑا ہوا تھا۔ یقین کریں ان کے بقول اب ہمیں ان ٹاک شوز میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ یہ سارا کھیل شخصیات کے گرد گھومتا ہے اور عام آدمی کو اس کھیل میں بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ کھیل سیاست یا میڈیا تک محدود نہیں بلکہ جو بھی اہم فریقین ہیں یا جن کو ہم رائے عامہ کی تشکیل کے ادارے کہتے ہیں سب ہی قومی حقیقی سطح کے مسائل کو نظر انداز کرکے غیر ضروری مسائل یا شخصیات کی سیاست میں پھنسا دیتے ہیں۔یہ کھیل لاشعوری طو رپر نہیں بلکہ طاقت ور طبقہ کی منظم حکمت عملی کے تحت کھیلتا ہے او رپوری قوم کو اس کھیل میں حصہ دار بنا یا جاتا ہے۔ہمارا مسئلہ یا مقدمہ افراد یا شخصیات کی بڑی مضبوطی کا نہیں بلکہ ہماری ضرورت ادارہ جاتی عمل کو مضبوط بنانے پر ہونی چاہیے۔سب سے بڑا مقدمہ تو سیاسی محاذ پر یہ ہی ہے کہ سیاست اوراس سے جڑے سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو کیسے جمہوری بناسکتے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان میں سیاست او رجمہوریت کی کامیابی کی واحد کنجی سیاسی جماعتوں کا اپنا داخلی جمہوری نظام ہوتا ہے او راس کے بغیر اس ملک میں جمہوریت یا عملی سیاست کا مقدمہ مضبوط بنیادوں پر تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔
اس لیے اگر پاکستانی سیاست نے واقعی عالمی ضرورتوں یا اپنی داخلی ترجیحات کو بنیاد بنا کر مثبت طور پر آگے بڑھنا ہے تو موجودہ سیاسی روش کو بدلنا ہوگا۔ بت برستی کے اس کھیل کو بنیاد بنا کر ہم قومی سیاست کا تماشہ تو بناسکتے ہیں لیکن اس میں سیاست او رجمہوریت کی حقیقی مقدمہ نہیں لڑا جاسکتا۔