ویسٹ انڈیز کا دورہ ملتان اور1981 کا قاسم باغ سٹیڈیم

کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جوکسی اور یاد کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں کسی خاص واقعے کے ساتھ ان کا تعلق ہوتاہے اورجب کوئی ایساواقعہ رونماہوتاہے توماضی کے جھروکوں میں موجودوہ یادیں بھی تازہ ہوجاتی ہیں۔

جیسے گزشتہ ہفتے ملتان میں ویسٹ انڈیز اورپاکستان کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایک روزہ میچوں کی سیریز منعقد ہوئی اوراس دوران کرکٹ ٹیموں کی سکیورٹی کے پیش نظر ملتان کے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کردی گئیں توہمیں یاد آیا کہ کیسا شاندارزمانہ تھا جب کرکٹ صرف ایک کھیل تھا، ایک ایسا کھیل جسے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا اورہم اپنے ہیروز،اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو اپنے درمیان موجودیکھ کر حیران ہوجاتے تھ۔ اور ان سے باتیں کرتے تھے۔ آج کے نوجوانوں کو یہ بات بہت عجیب لگے گی لیکن یہ ایسی حقیقت جوخود ہمیں بھی خواب دکھائی دیتی ہے۔ یہ ہمارے کالج کازمانہ تھااورملتان میں ویسٹ انڈیز کی کر کٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کھیلنے آئی تھی۔ یہ میچ 30دسمبر1980 سے 4جنوری 1981 تک قاسم باغ سٹیڈیم میں کھیلاگیا تھا۔ویسٹ انڈیزکی ٹیم اس زمانے میں کالی آندھی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ویون رچرڈ، ڈسمن ہینز، میلکم مارشل، سلوسٹرکلارک، کیسے کیسے عظیم کھلاڑی ویسٹ انڈیزکی ٹیم میں شامل تھے۔ پاکستانی ٹیم میں بھی نامور کھلاڑی موجودتھے، جاویدمیاں داد (کپتان)عمران خان، ظہیرعباس، وسیم راجہ، سرفراز نواز، صادق محمد پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔
میں اورشاکرحسین شاکراس زمانے میں سول لائنز کالج میں فرسٹ ایئرکے طالب علم تھے، ہمارامعمول تھاکہ ہم چوک کچہری میں کواپریٹوبینک کے سامنے واقع بک سٹال پراخبارات اوررسائل کی ورق گردانی کے لئے جایاکرتے تھے۔ اسی چوراہے کے قریب گرلز کالج کے سامنے شیزان ہوٹل میں پاکستانی کھلاڑی ٹھہر ے ہوئے تھے۔ جنوری کی ایک صبح میں او رشاکر بک سٹال پرموجود تھے کہ ہمیں ہوٹل سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑ ی بک سٹال کی جانب آتے دکھائی دیے۔ جاویدمیاں داد، ظہیرعباس، صادق محمد، وسیم راجہ کواپنے سامنے دیکھ کر ہماراکیا حال ہوا ہوگا۔ اس کاآپ خود اندازہ کرسکتے ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی چہل قدمی کے لئے ہوٹل سے نکلے تھے اورپھربک سٹال پرآکرانہوں نے بھی اخبارات کی ورق گردانی شروع کردی۔  اگروہ سیلفیوں کازمانہ ہوتاتوہماری ان کے ساتھ سیلفی بھی بن چکی ہوتی لیکن وہ توآٹوگراف کادورتھا اور آٹوگراف بک ہم کالج لے کر تونہیں آئے تھے۔ کھلاڑیوں کو اپنے سامنے دیکھ کر ہمیں آٹوگراف بک اسی طرح یاد آئی جیسے آج کے نوجوانوں کوکسی اہم شخصیت کودیکھ کر موبائل فون کاکیمرہ یاد آتاہے۔ آٹوگراف کی غیرموجودگی میں ان کھلاڑیوں کے دستخط کیسے حاصل کئے جائیں کہ ہمارے پاس صرف کالج کی فائلیں تھیں یادوچارکتابیں اورکاپیاں جوہم نے ہاتھوں میں تھام رکھی تھیں۔ ہم نے وہی کاپیاں اور وہی کاغذ اپنے ہیروزکے سامنے رکھ دیے اور وہ مسکراتے ہوئے ہمیں آٹو گراف دے کر واپس چلے گئے۔ میری آٹوگراف بک میں ظہیرعباس سمیت بہت سے اہم کھلاڑیوں کے آٹوگراف اسی روز کے ہیں جومیں نے کاغذ سے کاٹ کے اس پرچسپاں کردیے تھے۔

اس مرتبہ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کی آمد پر ملتان کے شہری جس عذاب میں مبتلارہے اس کا تذکرہ اخبارات اورسوشل میڈیا پرتسلسل کے ساتھ ہوتارہا۔ یہ ٹیمیں جن ہوٹلوں میں ٹھہری ہوئی تھیں ان کے باہرسڑکیں بلاک رہیں کسی چڑیا کو بھی پرمارنے کی اجازت نہیں تھی۔ ابدالی روڈ، چوک نواں شہر، ایل ایم کیو روڈ اورگردونواح کے تمام علاقوں میں سکیورٹی کے ایسے سخت انتظامات تھے کہ جنہوں نے شہریوں کو اذیت سے دوچارکردیا۔ کم وبیش ایک ہفتہ ہم ملتانیوں نے ٹریفک کی قطاروں میں گزارا۔ ابدالی روڈ پرہی امراض قلب کاہسپتال موجودہے اوردوسری جانب ایک راستہ نشترہسپتال کی طرف بھی جاتاہے لیکن ملتان کے شہریوں کو کرکٹ سے لطف اندوزہونے کی بڑی بھاری قیمت اداکرناپڑی۔عام شہریوں کے ساتھ ایمبولینسیں بھی کئی کئی گھنٹے ٹریفک میں پھنسی رہیں۔ کس مریض کے ساتھ کیا ہوااس کی تفصیل جاننے کی بھی کسی کوضرورت محسوس نہ ہوئی۔

یہ 1981 تونہیں تھاکہ جب کھلاڑی عام لوگوں کی طرح سڑکوں پرنکل آتے تھے اورجن ہوٹلوں میں ان کاقیام ہوتا تھا، ان کے سامنے ٹریفک بھی رواں رہتی تھی۔1981 اور2022 کے درمیان پورے 41سال موجود ہیں اوران اکتالیس برسوں کے دوران بہت کچھ تبدیل ہوگیاہے۔ وہ عمران خان جو1981 میں جاویدمیاں داد کی کپتانی میں میچ کھیلنے ملتان آئے اورمین آف دی سیریزقرارپائے تھے بعدازاں نہ صر ف یہ کہ 1992 کے ورلڈکپ کے فاتح بنے بلکہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پربھی فائزہوئے اور پھرمعیشت برباد کرنے کے الزام میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدارسے نکال دیے گئے۔ اکتالیس برس پہلے کرکٹ ایک کھیل تھاجواب کاروبار بن چکاہے اوریہ اسی کاروبارکا نتیجہ ہے کہ اس کھیل میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی سیاست بھی درآئی ہے۔ 3مارچ 2009 کولاہور میں سری لنکن ٹیم پرحملے کے بعد پاکستانی کرکٹ جس مشکل سے دوچارہوئی یہ اسی کانتیجہ ہے کہ اب اس کھیل کے حوالے سے کسی قسم کا رسک لینے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔
ٹیموں کی حفاظت پرکروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور یہی کچھ ملتان میں ہوا۔ کھلاڑیوں کی سٹیڈیم آمدورفت کے دوران شہر کس طرح بند رہا اس کے ہم سب عینی شاہد ہیں،اس دوران بہت سی تجاویز زیربحث آئیں، یہ سوال کیاگیا کہ سارے شہر کواذیت میں ڈالنے کی بجائے ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوٹلوں کے سامنے واقع ایم سی سی گراؤنڈ سے سٹیڈیم تک منتقل کیوں نہیں کیاگیا۔ اوراس سوال کاجواب یہ ملا کہ اگرعوام کی سہولت مدنظررکھی جاتی تو سکیورٹی کے نام پرکروڑوں روپے کمیشن مافیامیں بھلا کیسے تقسیم ہوتے۔

آئیے آپ کو اب اکتالیس برس پہلے کے سٹیڈیم کا احوال بھی سنادیتے ہیں۔ جس ٹیسٹ میچ کاابھی ہم نے ذکرکیااسے سردیوں کی بارش نے متاثرکردیاتھا اوربارش کے بعد جب میچ کاڈرا یقینی ہوگیا توآخری روز انتظامیہ نے سٹیڈیم کے دروازے سب کے لئے مفت کھول دیئے۔ہم توجیسے اس دن کاانتظارہی کررہے تھے بس پھرسائیکل اٹھائی اورشاکر کے ہمراہ سٹیڈیم پہنچ گئے۔ بارش رک چکی تھی لیکن ابھی میچ شروع نہیں ہواتھامیں اورشاکر سیدھاپریس گیلری میں چلے گئے جہاں ریڈیو اوراخبارات کے شناساچہرے موجودتھے اورہمارے سامنے کمنٹری باکس میں چشتی مجاہد آنکھوں دیکھا حال سنارہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ شاکر نے انہیں حیرت سے دیکھا اورپھرمیرے کان میں کہا یار رضی ٹی وی پرتویہ بہت گورے دکھائی دیتے ہیں یہاں ایسے کیوں ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ چشتی مجاہد کے پاس جاکر یہی جملہ ان کی جانب اچھال دیتا، میں اسے کمنٹری باکس سے باہر لے آیا کہ بارش کاماحول دوبارہ سے بن رہا تھا اور اگر بارش  شروع ہوجاتی توہمیں سردی میں ٹھٹھرنا پڑتا۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )