شخصیت کا طلسم اور تلخ زمینی حقائق؟

ن لیگ کی ایک اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی تو اندر کی بات پوچھنے پر فرمانے لگے کہ تلخ حقیقت تو یہی ہے کہ ہمیں کرکٹر کا ساڑ ھے تین سالوں پر محیط گند نہیں اٹھانا چاہئے تھا۔ اگر یہ اپنی مدت پوری کرتا تو اتنا غیر مقبول ہو جاتا کہ آنے والے انتخابات میں کوئی الیکٹ ایبل اس کی ٹکٹ نہ لیتا ۔

آج پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھاتے ہوئے مہنگائی کی صورت جو شدید فیصلے کرنے پڑرہے ہیں ان کی قیمت ہم اپنی پاپولیریٹی کو نقصان پہنچا کر ادا کر رہے ہیں۔ عرض کی، سوچ تو درویش کی بھی یہی ہے لیکن ن لیگ نے ملک کی بدلتی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ البتہ حکمت عملی یہ ہونی چاہئے تھی کہ دونوں بڑے عہدوں پر باپ بیٹے کو بٹھانے کی بجائے ن لیگ کی قیادت خود پیچھے رہ کر اپنے قابل اعتماد اتحادیوں کو آگے کرتی۔ اس طرح وہ بدلے ہوئے حالات کے تیور کی مطابقت میں پوری طرح مستفید بھی ہوتی اور عوامی غم و غصے سے زرداری صاحب کی طرح بڑی حد تک محفوظ بھی رہتی۔

سابق کرکٹر کے چاہنے والوں کی نظروں میں اس کے اندر ضرور اتنی خوبیاں ہوں گی جن کی بدولت وہ اسے تیس مار خاں خیال کرتے ہیں۔ جمہوریت میں ہر شخص کو آزادی ہوتی ہے وہ پکی یا کچی کوئی بھی رائے قائم کرے اور اس کا برملا اظہار کرے۔ یہ حقائق کی بھٹی یا کسوٹی ہوتی ہے جو اس کی اصابت یا خام خیالی کو واضح کرتی ہے۔ اس شخص میں بلاشبہ ایک خوبی ضرور نوجوانی سے رہی ہے ’’ پرکشش خدوخال اور بولنے کا اتار چڑھاؤ‘‘۔ کرکٹر تو اس سے اچھے بھی کئی تھے مگر اس کی ظاہری شخصیت نے نہ صرف نئی نسل کو بلکہ قومی میڈیا کو بھی اس کا دیوانہ واسیر بنایا ہوا تھا۔ سچائی تو یہ ہے کہ ہمارا میڈیا بالعموم خوش شکلوں اور چرب زبانوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا چلا آ رہا ہے چاہے دماغ میں بھوسا اورکر توت کتنے گھناؤنے ہوں۔

اس سلسلے میں اپنی ہسٹری سے کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ محترم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب بلاشبہ ایک لیجنڈ و نابغہ تھے جن کی پہچان ان کی قوم کو آج تک نہیں ہو سکی۔ ان سے قربت، ملاقاتوں اور باتوں کے حوالے سے کبھی ضرور تفصیلات تحریر کی جائیں گی۔ اپنے آخری دنوں میں ایک ملاقات کے دوران جب انہوں نے اس سابق کرکٹر کے متعلق یہ کہا کہ ’’اس کی عقل اس کے گھٹنوں میں ہے‘‘ تو عرض کی ڈاکٹر صاحب کاش وہاں بھی ہوتی۔ ناچیز کی رائے میں تو عقل نام کی چیز اسے چھو کر بھی نہیں گزری۔ لیکن جب کسی بھی شخصیت کے متعلق پروپیگنڈے کے زور پر ایک طرح کے کرزمے یا ہیرو شپ کا خول یا لبادہ چڑھا ہو تو لوگ سچائی یا حقیقت کو سننے پر آمادہ و تیار نہیں ہوتے۔ چھاپنے والے بھی بالعموم توصیفی لائنوں کو ہی مثبت رپورٹنگ کا نام دیتے ہیں اور پھر جب وہ پیرا شوٹ کے ذریعے کرسی اقتدار پر متمکن ہو گیا تو ظاہری چمک دمک کے روایتی متاثرین نے اسے صادق و امین کے جعلی القابات پر ہی اکتفا نہیں کیا، بھٹو ثانی اور جناح ثانی سے بھی کچھ اوپر ہی اٹھانا چاہا۔

پروپیگنڈے کے زور پر مصنوعی شخصیت سازی کا طلسم یا بھرم ایسی صورت میں تو ابدی طورپر قائم رہ جاتا ہے اگر وہ بندہ اپنے امڈتےعروج میں ہی رخصت ہو جائے۔ اصلیت واضح ہونے کی نوبت ہی نہ آئے لیکن اگر اسی روا روی میں چند بڑے بحران آ جائیں تو بندے کو قائد ملت سے قائد قلت بننے میں دیر نہیں لگتی۔ تمام تر چکا چوند یا چمک دمک کے ساتھ وہی شخصیت منہ کے بل گرتی ہے چاہے وہ بڑھک باز صدام حسین ہو یا معمر قذافی۔ ہمارے وڈے بابا کا جلد جانے سے بھرم رہ گیا، چھوٹے کی پھانسی ڈھال بن گئی اور تیسرا بیچارہ اچھی صحت کے باوجود اناڑی پن یا ٹخنوں والی بات پر مارا گیا۔ آج اس کا وزیر خزانہ تصحیح کر رہا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس ملک نے جتنے قرضے لئے گئے ہیں اس میں ہمارے لیڈر (کرکٹر بابا ) نے جو لئے ہیں وہ 76فیصد ہیں 80فیصد والی بات درست نہیں ہے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے مہمان کو بیس روٹیاں پیش کی گئیں تو ان میں سے دو واپس لوٹاتے ہوئے بولا یہ واپس لے جائیں۔ کیا بابا کوئی جن ہے جو اتنی زیادہ کھا جائے گا۔ پچھلے تو کم از کم لئے گئے قرض کے بالمقابل اپنی آؤٹ پٹ بھی دکھاتے رہے ہیں، اپنے ترقیاتی منصوبہ جات یا انفراسٹرکچر کی تفصیلات بھی بتاتے ہیں لیکن لچھے دار تقاریر کرنے والا آج بھی جواب میں ایک نئی تقریر سنانے پر تیار و آمادہ دکھتا ہے ۔

یہ تھے وہ حالات جن میں لانے والوں کو سمجھ آئی کہ ’تجھے کیا سمجھا تھا جے اور تو کیا نکلا‘۔  تیری سیم پیج والی ناؤ میں بیٹھ کر اس ملک کی محض معیشت نہیں ڈوب رہی، ہمارا ادارہ اور اس کا پورا وقار بھی ڈوب رہے ہیں۔ ہمیں معاف کرو بابا ہم نیوٹرل ہو رہے ہیں۔ اس تلخ سچائی پر ریٹائرڈ عاشقان کے سینوں میں چوٹ لگنی ہی تھی سو لگی۔ مگر جو اس اذیت کو براہ راست فیس کر رہا تھا، اس نے اندر کی بات کھول کر سامنے رکھ دی کہ ہماری تنخواہیں ہی نہیں تمہاری پنشنوں کے لئے بھی پیسے نہیں بچے تھے، ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔ ایسے جب کوئی آپشن بچا ہی نہیں تھا تو کیا کرتے؟

بہت سمجھایا بہت تعاون بڑھایا بچے کی طرح انگلی پکڑ پکڑ کر چلایا مگر کچھ نہ جاننے والا خود کو عقل کل سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہو جائے تو کیا کیا جائے ؟ حالات کی سنگینی بارہا خود نئی راہیں نکال دیتی ہے۔ وقت کے تیور بدلنے سے ن لیگ اور اتحادیوں کی قسمت بدلی وہ اس کالی بلا سے جان چھڑانے کیلئے ترکیبیں سوچ سوچ کر تھک چکے تھے۔ مفتی صاحب کا فضل انہیں جس سنگلاخ راستے پر لے جانے کیلئے بےتاب تھا، ان کے کارکنان ایسی مشقت کے کبھی عادی نہ تھے۔ وہ بشمول الیکشن کمپین بیلٹ باکس کے تو شیر تھے لیکن جنگل کے بادشاہ کی طرح برسر پیکار ہونا ان کے مزاج میں نہیں تھا۔ جب کہ ون پیج کی تکرار انہیں کھائے جا رہی تھی، میں کسی کو چھوڑوں گا۔ نہیں میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ ایسے میں وہ آسمانوں کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر محض مناجات ہی کر پا رہے تھے جسے بنی گالہ کا تعویذ گنڈا ماورائی طاقتوں کی مدد سے ناکام بنا رہا تھا ۔

منصوبہ بہت گہرا تھا۔ مدت پوری ہونے پر کمان بدلی جانی تھی اور اٹھارہ کا ڈرامہ تئیس میں ایک مرتبہ پھر دہرایا جانا اٹل تھا۔ پلان اٹھائیس تک برسراقتدار رہنے اور اپوزیشن کی اتنی ٹھکائی کا تھا کہ یہ چور کچھ کرنے کے قابل ہی نہ رہ سکیں۔ آپ لوگ دھاندلی کا جتنا چاہے شور مچا لیتے جب طاقتور ساتھ ہوں تو آپ لوگوں نے کون سا تیر چلالینا تھا۔ اٹھارہ کے بعد مولانا کی جذباتی و مذہبی معاونت اور انصار الاسلام کی قوت بھی آپ کو کسی نوع کے نتائج دینےسے قاصر رہ گئی تھی۔ شکر کریں کہ قدرت کے باران رحمت کی برکت سے ون پیج پھٹا اور کھال پر چڑھایا گیا منصوعی رنگوں والا لبادہ ننگا ہوا۔ سارا کریڈٹ جاپان اور جرمنی کے بارڈر کو جاتا ہے، ہٹلر کی ذہنیت کو آج کوئی بھی قبول نہیں کرسکتا۔

اناڑی پن عقل کل کے جتنے بھی دعوے کر لے اصلیت بالآخر سامنے آ کر رہتی ہے۔ عاجزی و حلیمی کے ساتھ باہم جڑے رہو۔ مفادات کی بجائے خدمت پر ایمان رکھو بدقسمت ملک کے تین ٹکڑے ہوں نہ ہوں پریشر گروپ کے تین ٹکڑے ضرور ہو جائیں گے۔ ضمنی الیکشن میں ہی بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔