قوم کو مل کر مشکل صورت حال سے نکلنا ہے: وزیر دفاع
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر ہم بیرونی سازش کے بیانیے پر کمیشن بنا دیں تو بھی میں شرطیہ کہتا ہوں کہ یہ کمیشن کا فیصلہ بھی منظور نہیں کریں گے کیونکہ عمران خان صرف حکمرانی چاہتے ہیں۔
وفاقی وزرا کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خاندانوں میں جب آمدن کم ہو جاتی ہے تو آپ دو کی جگہ ایک پکوان بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ کفایت شعاری شروع کر دیتے ہیں لیکن قومی سطح پر نہ ہماری حکومتوں نے اس چیز کو متعارف کرانے کی کاوش کی اور نہ متعلقہ طبقات نے کفایت شعاری کی کوشش کی۔
عام آدمی کی زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے لہٰذا قوم کو موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنی پڑے گی، لیکن میں آپ کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ اتحادی حکومت اس بات کی ذمے داری اٹھائے گی کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کم کی جائے اور عام آدمی کی مشکلات میں جو اضافہ ہوا ہے وہ واپس ہو۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر یوکرین اور روس کی جنگ بند ہو جاتی ہے تو تیل اور گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے جائیں گی، جس سے ہمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے میں مدد ملے گی لیکن اس وقت ہم بین الاقوامی سیاست کے دائرے کی زد میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت آج کے دور کے مقابلے میں نصف تھی لیکن اس کے باوجود انہون نے 37 روپے بڑھایا، ہم نے اب جا کر تین مرتبہ بڑھائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی کا اعلیٰ ترین فورم قومی سلامتی کمیٹی ہے جس میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوتی ہے۔ فوجی سربراہان بھی ہوتے ہیں، اس میں عمران خان کی زیر سربراہی ہونے والے آخری اجلاس میں بھی وہی فیصلہ ہوا جو بعد میں ہوا۔ ان کی صدارت میں کیا گیا فیصلہ ہمارے دور میں کیے گئے فیصلے سے مختلف نہیں تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کسی ابہام کے بغیر سازش کے معاملہ کی دو مرتبہ وضاحت کی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر یہ اصرار کرتے رہیں تو ہم کمیشن بھی بٹھا دیں گے تو بھی میں آپ کو شرطیہ بتاتا ہوں کہ یہ کمیشن کا فیصلہ بھی منظور نہیں کریں گے۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ یا تو مجھے حکمرانی دو ورنہ فوج تباہ اور ملک تباہ ہو۔
انہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نازک اور حساس معاملہ ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس پر کسی بھی قسم کا بیان ایف اے ٹی ایف میں ہماری پوزیشن اور بات چیت کے عمل کو نقصان پہنچائے۔ البتہ ہماری کوشش ہے کہ اس کی گرے لسٹ سے جلد نکل آئیں۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور کشمیر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت کو انتہائی مشکل اور ناپسندیدہ فیصلہ کرنا پڑا۔ جب سے حکومت آئی ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے حکومتی خزانے پر بوجھ پڑ رہا تھا اور سبسڈی کی مد میں جتنا پیسہ نکل رہا تھا اس پر پورے ملک کا میڈیا اور ماہر معاشیات کہہ رہے تھے کہ ممکن نہیں کہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے، لہٰذا حکومت جلد فیصلے کیوں نہیں کررہی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے 80 لاکھ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور اب مزید 60 لاکھ گھرانوں کو یہ رقم دی جائے گی۔ یہ رقم کافی نہیں ہے لیکن جس شخص کی تنخواہ 20 ہزار روپے ہے اس کے بجٹ میں اس رقم سے ضرور تھوڑا بہت اثر پڑے گا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ کسے شوق ہے کہ عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرے لیکن یہ ہماری حکومت ہے کہ جس نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سیاسی نقصان برداشت کر لیں گے، لیکن ہم سابقہ حکومت کی طرح پاکستان کا نقصان نہیں کریں گے کہ سستی شہرت کے لیے ہم عوام کو گڑھے میں پھینک دیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت پر تنقید آپ کا حق ہے۔ ہم مشکل فیصلے کر رہے ہیں لہٰذا ہمیں تنقید کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن قومی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے جائز اقدامات کو سپورٹ کیجیے تاکہ مل کر اس مشکل کا سامنا کر سکیں۔