کراچی میں ضمنی انتخاب کے دوران تشدد، ایک شخص جاں بحق

  • جمعرات 16 / جون / 2022

کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

جاں بحق ہونے والے شخص سیف الدین کلیم کو لانڈھی کے علاقے سے مردہ حالت میں جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر لایا گیا تھا جس کے سر پر گولی لگی تھی۔ ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک افتخار عالم کو پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات میں گولی لگی تھی جنہیں لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ افتخار عالم سابق رکن صوبائی اسمبلی اور پی ایس پی کے مرکزی رہنما ہیں۔

پاک سرزمین پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور انتخابی دفتر پر حملہ کیا گیا۔ سلسلہ وار ٹوئٹس میں پی ایس پی نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں پر میڈیا سے گفتگو کے دوران پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال پر فائرنگ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے مرکزی رہنما بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں پی ایس پی کی جانب سے کہا گیا کہ پارٹی کے مرکزی انتخابی دفتر پر اس وقت حملہ کیا گیا جب مصطفیٰ کمال اور پارٹی کے صدر انیس قائم خانی دفتر میں موجود تھے۔ پی ایس پی کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پر لانڈھی میں مصطفیٰ کمال پر جان لیوا حملہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔

پی ایس پی ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں ایم کیو ایم (پاکستان)، الیکشن حکام اور پریزائیڈنگ افسر پر ضمنی انتخاب میں دھاندلی کے لیے ملی بھگت کا الزام عائد کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اب ٹھپہ اور دھندلی کے ذریعے نہیں جیتنے دیا جائے گا۔

دریں اثنا ایم کیو ایم (پاکستان) کے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے دعویٰ کیا کہ ضمنی انتخاب کے دوران ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف تشدد کے 10 سے زائد واقعات ہوئے۔ خواجہ اظہار الحسن نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں صاف اور شفاف بلدیاتی الیکشن کس طرح ممکن ہے؟ اسلحہ اٹھانے والے کارکنوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے جھگڑے میں ایم کیو ایم کو ملوث کردیا۔ جھگڑا پی ایس پی اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان شروع ہوا، دونوں جماعتوں کے جھگڑے میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کرنے والے مسلح افراد آزاد گھوم رہے ہیں، صرف ہمارے کارکنوں کو تشددکانشانہ بنایا گیا، ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن پر بھی فائرنگ کی، فائرنگ سے ہمارے 8 کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ہمارے ادارے کی گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی گئی، تاہم فائرنگ سے کوئی رضاکار زخمی نہیں ہوا۔

حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔ حلقے میں مجموعی طور پر 25 امیدوار میدان میں ہیں جن میں ایم کیو ایم پاکستان کے محمد ابوبکر، ٹی ایل پی کے شہزادہ شہباز، پیپلز پارٹی کے ناصر رحیم، پی ایس پی کے شبیر احمد قائمخانی اور ایم کیو ایم کے سید رفیع الدین سمیت آزاد امیدوار شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) نے حلقے میں پیپلز پارٹی کے حق میں انتخابی عمل سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے دوران پرتشدد واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیں۔