گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعرات 16 / جون / 2022
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے جاری اجلاس میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد امریکہ، جرمنی اور اٹلی سمیت کئی ملکوں کی اسلام آباد سے متعلق آرا میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان گزشتہ ایک دو سالوں سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے سنجیدگی سے ہوم ورک کرتا چلا آ رہا ہے تاہم پہلے افغان جنگ اور بعد ازاں سفارتی محاذپر ناعاقبت اندیش حکمت عملیوں کی وجہ سے امریکہ اور فرانس سمیت کئی ممالک پاکستان کی حمایت کرنے پر تیار نہیں تھے۔ بھارت اب بھی پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کی مخالفت کر رہا ہے تاہم اٹلی، جرمنی اورامریکہ کے موقف میں حوصلہ افزا تبدیلی آئی ہے۔ واضح رہے کہ اٹلی اس وقت ایف اے ٹی ایف کا کو چئیرپرسن جب کہ جرمنی حالیہ اجلاس کی صدارت اور میزبانی کر رہا ہے اور اس لحاظ سے دونوں ملکوں کی آرا کی اہمیت زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔
توقع ہے کہ کئی ایک یورپی اور امریکی حلقہ اثر کے ممالک کے علاوہ چین اور بیشتر مسلم ممالک پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی حمایت کریں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے جاری اجلاس میں ایجنڈے پر موجود دوسرے پوائنٹس کے علاوہ پاکستان کی رپورٹ پر بحث اور ووٹنگ ہو نی ہے۔ حالیہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کر رہی ہیں جو پاکستان کی قومی ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے گزشتہ کئی مہینوں سے اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاونٹر فنانسنگ آف ٹیررازم رجیم کو لاگو کرنے سے متعلق بہت اہم کام کیا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ کے ساتھ ساتھ بیشتر یورپی ممالک کے دوروں میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق پاکستانی موقف اور اقدامات کو بڑے موثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ڈیوس کے دورے کے دوران امریکی آن لائن ادائیگیوں کی کمپنی پے پال کے عہدے داروں سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں انہوں نے پاکستان میں اپنی سروس شروع کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان گزشتہ ایک دو سالوں سے ایف اے ٹی ایف کی شرائط اور اہداف کو پورا کرنے کے لیے کوششیں کر تا رہا ہے تاہم عالمی ادارے کی جانب سے ہر اجلاس میں ایک دو پوائنٹس پر مزید سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ ہوتا رہا۔ ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات بہت روشن ہیں تاہم حتمی فیصلہ ووٹنگ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ہر صورت میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت میں ووٹ دے گا تاہم حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں ہونے والے کسی بھی فیصلے کی منظوری میں ایک رکن ملک کی مخالفت سے فرق نہیں پڑتا۔ صرف بھارت کی مخالفت مسئلہ نہیں لیکن کسی بھی دوسرے ملک کا ہمارے خلاف ووٹ دینا ہمیں گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاسوں میں امریکہ، فرانس، چین اور خلیجی ممالک بھی پاکستان کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ حالیہ اجلاس میں فرانس کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے پاکستان کی مخالفت کا خدشہ نہیں۔ زیادہ امکانات یہی ہیں کہ جاری اجلاس میں بھارت کے سوا کسی دوسرے ملک کی جانب سے مخالفت نہ ہونے کے نتیجے میں پاکستان کا نام فیٹف کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کا اعلان ہو جائے گا۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جی سیون ممالک کی ایما پر بنایا گیا ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی نگرانی اور روک تھام ہے۔ اگرچہ اس ادارے کو کسی ملک پر مالی و اقتصادی پابندیاں لگانے کا اختیار نہیں لیکن یہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے گرے اور بلیک کیٹیگری وضع کرکے کسی ملک کے لئے معاشی وتجارتی مشکلات پیدا کرنے کی اہلیت ضرور رکھتا ہے۔ مذکورہ ادارہ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی روک تھام کیلئے موثر میکنزم نہ رکھنے والے کسی بھی ملک کو گرے کیٹیگری میں ڈال سکتا ہے جبکہ ایسے ممالک جو نوٹس اور وارننگ کے باوجود منی لانڈرنگ اوردہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات اٹھانے پر تیار نہ ہوں، بلیک کیٹیگری میں شامل کر نے کا مجاز ہے۔ قابل ذکر بہتری دکھانے والا ملک گرے لسٹ (نگرانی لسٹ) سے نکل بھی سکتا ہے۔ پاکستان کو سب سے پہلے2008میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا لیکن ایک سال کے مختصر عرصے میں ہی پاکستان گرے لسٹ سے نکل آیا تھا۔
اس کے بعد پاکستان 2011 میں گرے لسٹ میں شامل ہوا لیکن دوسری بار اسے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے تین سال لگ گئے تھے۔ تیسری بار پاکستان کوجون2018میں بینکنگ اور دوسرے مالیاتی اداروں کے نظاموں میں مبینہ طور پر اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے کمی کی بنیاد وں پر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ 2008 اور2012میں پاکستان کو اس لسٹ میں ڈالنے کے پیچھے زیادہ تر منی لانڈرنگ کے عوامل کارفرماتھے لیکن 2018میں گرے لسٹ میں جانے کے پیچھے دہشت گردوں کی مالی معاونت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اوراسی نکتے کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف بار بار پاکستان کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتا رہا۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گرے لسٹ میں شامل ہونے سے کسی ملک پر کوئی معاشی و تجارتی پابندیاں عائد نہیں ہوتیں اور یہ کافی حد تک درست بھی ہے لیکن اس کے باوجود گرے لسٹ میں شمولیت کسی بھی ملک کی معاشی و تجارتی ترقی کیلئے کسی نہ کسی حد تک ضرررساں ضرور ثابت ہوتی ہے۔
گرے لسٹ میں شامل ممالک کے نہ صرف بین الاقوامی لین دین کے تمام چینلز کڑی نگرانی کی زد میں آجاتے ہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں سے امداد اور قرضے لینے میں بھی سنجیدہ نوعیت کی مشکلات درپیش آ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک کو مخصوص حالات میں علاقائی اورسفارتی سطح پر تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ گرے لسٹ میں رہنے کی قیمت متعلقہ ملک کو معاشی، تجارتی یا سفارتی سطح پر کہیں نہ کہیں چکانی ہی پڑتی ہے جب کہ گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے سے مقامی اور عالمی سطح پر معاشی بہتریاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ گرے لسٹ سے اخراج کی خبروں کا اثر اسٹاک مارکیٹ میں قابل ذکر بہتری کی صورت میں نکلا ہے۔ اگر پاکستان واقعتا فیٹف کی گرے لسٹ سے باہر آ جاتا ہے تو مشکلات میں گھری ملکی معیشت کے جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی توقع رکھی جا سکے گی۔