عدالت نے عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا

  • ہفتہ 18 / جون / 2022

کراچی کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان کی معروف ٹی وی شخصیت اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو وفات پانے والے عامر لیاقت کو جمعے کو کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا تھا تاہم ایک درخواست کی سماعت کے بعد مقامی عدالت نے یہ حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سنیچر کی صبح فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ کراچی کے شہریوں میں یہ شک پایا جاتا ہے کہ کہیں کسی نے تنازعے پر ان کو قتل نہ کر دیا ہو اس لیے موت کی وجہ کا تعین ہونا ضروری ہے۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل سجاد علی دشتی نے عدالت کو بتایا کہ ورثا پوسٹ مارٹم کرانا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورثا کہتے ہیں پوسٹ مارٹم کرانے سے ان والد صاحب کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔ ورثا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں کسی پر شک بھی نہیں ہے۔ پولیس سرجن نے عدالت کو بتایا کہ جب تک جسم کا اندرونی جائزہ نہیں لیتے موت کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکتے۔ درخواست گزار ایک عام شہری ہے جس نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کروانے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ عامر لیاقت کی وفات کے بعد اور ان کی تدفین سے پہلے بھی پوسٹ مارٹم پر تناغ کھڑا ہوا تھا۔

اس وقت پولیس کی جانب سے پوسٹ مارٹم پر اصرار کے بعد عامر لیاقت کے اہلخانہ نے جمعے کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت سے رجوع کیا جہاں مختصر سماعت کے بعد عدالت نے پولیس سرجن کو حکم دیا ہے کہ وہ میت کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں جس کے بعد ہی پوسٹ مارٹم کرنے نہ یا کرنے کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔