مشرف کی سنگین بیماری اور نواز شریف
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 18 / جون / 2022
ان دنوں ہمارے میڈیا میں سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی سنگین بیماری زیر بحث ہے بالخصوص سوشل میڈیا میں تو آئے روز اس نوع کی خبریں آتی ہیں کہ مر گیا مر گیا۔ اور پھر وضاحتی تردید آ جاتی ہے کہ نہیں ابھی نہیں مرا۔
بلاشبہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس نے بالآخر ہر کسی کو نگل لینا ہے کسی کو اس سے مفر نہیں۔ لیکن اصل موت سیاہ کرتوتوں کے ہاتھوں واقع ہوتی ہے جس کے بعد اگر وہ شخص بظاہر چل پھر بھی رہا ہو تو زندہ لاش کی صورت ہی دکھتا ہے۔ کسی سیاسی جوکر نے اپنی سیاہ کاریوں پر نظر ڈالتے ہوئے اپنے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ میں تاریخ کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا، بھائی اگر تاریخ میں زندہ رہنے کی اتنی حسرت ہے تو پھر اپنے اندر انسان بیزاری نہیں انسان نوازی کے اوصاف پیدا کرو تاکہ بلھے شاہ کی طرح کھل کر یہ کہہ سکو بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گورپیا کوئی ہور۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو پرویز مشرف چاہے جتنا بڑا ڈکٹیٹر یا جنرل تھا مر اسی دن گیا تھا جب 12اکتوبر 1999 کے روز اس نے آئین شکنی کرتے ہوئے منتخب پارلیمینٹ کو توڑا، آئینی و جمہوری طور پر منتخب عوامی قیادت پر گھناؤنے الزامات عائد کرتے ہوئے شب خون مارا۔ آئین، پارلیمینٹ، جمہوریت یا قانون میں جان رہنے دی گئی ہوتی تو اپنے اس سنگین جرم کی پاداش میں اسے پھانسی گھاٹ لے جایا جانا چاہیے تھا لیکن ہماری قوم کی فکری صلاحیتوں کو شاید غربت و جہالت یا جنونیت اتنا چاٹ گئی ہے۔ یا ہمارے لٹھ بردار اس قدر طاقتور و حاوی ہیں کہ یہاں آئین شکنی کے مرتکب نہ صرف یہ کہ زندگی بھر دندناتے رہے بلکہ مرنے کے بعد بھی قومی پرچم میں لپیٹ کر سرکاری پروٹوکول کے ساتھ دفنائے جاتے رہے۔
آئین سے کھلواڑ کرنے والے جنرل ایوب، جنرل یحییٰ اور جنرل ضیاء کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اس حوالے سے زندہ برٹش قوم کی آئین، پارلیمینٹ اور جمہوریت سے لازوال محبت کی ایک تابناک مثال بھی پیش نظر رہے۔ ان کے ایک طاقتور جنرل اولیور کرامویل (1658 تا 1599) نے آئین شکنی کرتے ہوئے1653 میں منتخب پارلیمینٹ کو توڑا اور 1658 میں مرنے پر پروٹوکول کے ساتھ ویسٹ منسٹرایبے کے شاہی قبرستان میں دفن ہوا مگر اس عظیم قوم کا نظام انصاف پوری انسانیت کے لئے قابل فخر و احترام ہے کہ 30 جنوری 1661 کو اس کی لاش قبر سے نکال کر ویسٹ منسٹر کے مین چوک میں لٹکائی گئی اور اس کی کھوپڑی چوبیس برس تک اس کھمبے پر لٹکتی رہی۔ اگر کسی قوم کے خمیر میں اس نوع کی روایات ہوں تو ڈکٹیٹر ذہنیت اپنی قوم پر حملہ آور ہونے سے قبل ایک سو ایک بار سوچے گی۔
2013 میں جب ن لیگ عوامی اعتماد کے ساتھ برسراقتدار آئی تو درویش نے اپنا کالم اس عنوان سے جنگ میں لکھا :’’قوم ڈکٹیٹر مشرف کو جیل میں دیکھنا چاہتی ہے‘‘۔ لیکن ہماری سوسائٹی میں جبر کی بلائیں کس قدر طاقتور ہیں اور جمہوریت ہمیشہ سے کتنی ناتواں رہی ہے، اس کا ادراک جنرل پرویز مشرف پر ہاتھ ڈالنے والوں کے ساتھ روا رکھے گئے ’’حسن سلوک‘‘ سے کیا جاسکتا ہے اور تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیر اعظم نواز شریف اس کی قیمت آج تک بھگت رہا ہے۔ بلاشبہ پہلے ڈکٹیٹروں نے لٹھ کے جبر سے اپنے لئے جیسے تیسے منتخب ایوانوں سے انڈیمینٹی لے لی تھی خود پرویز مشرف نے بھی پہلی آئین شکنی بخشوانے کا اہتمام کرلیا تھا لیکن عادی مجرمانہ ذہنیت نے دوبارہ اس سے جو آئین شکنی کروائی، اس کے بعد آنے والی پارلیمینٹ نے اسے شرف قبولیت بخشنے سے انکار کردیا تھا۔ اس لئے پکی سزا بنتی تھی مگر پھر بندوق کی طاقت اس کے کام آئی، قانونی کٹہرے کی طرف جاتی گاڑی کو رستے سے اس ہسپتال کی طرف موڑ دیا گیا جہاں جاتے ہوئے سپریم جوڈیشری کے بھی شاید پر جلتے تھے۔ اور پھر پوری ڈھٹائی کے ساتھ جس طرح اس کا نام ای سی ایل سے نکالتے ہوئے اسے قانون کے شکنجے میں لانے کی بجائے بیرون ملک بھیج دیا گیا جس پر اس نے کھلے بندوں جنرل راحیل شریف کا نام لیتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔
بعد ازاں جوڈیشری کا وقار بحال کرنے کی کاوش میں جسٹس وقار سیٹھ کی خصوصی عدالت نے دسمبر 2019 میں جو تاریخی فیصلہ صادر کیا وہ ایک لحاظ سے جنرل کرومویل کے خلاف سنائے گئے تاریخ ساز فیصلے کا پرتو و مظہر تھا۔ اس میں آئین و پارلیمان شکن کی لاش کو تین دن تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں لٹکائے جانے کی سزا سنائی گئی تھی مگر افسوس یہ یونائیٹڈ کنگڈم نہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا یہاں آئین اور جمہوریت سے ایسی کمٹمنٹ کیسے ہضم ہو سکتی تھی۔ اس کے بعد جو ہوا اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یہ کوئی بات ہے کہ اتنے آئین شکنوں کی نشاندہی کیسے کی جائے کیا ان کے سرغنے پر کسی کو شک تھا؟ کہا تو یہ گیا ہے کہ ظلم کے امام کو سب سے پہلے پکڑو مگر ....
آج ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے پرویز مشرف کی بیماری کے حوالے سے جو بیان دیا ہے اور جس پر میڈیا میں بہت کچھ لے دے ہو رہی ہے۔ اتنے راسخ الخیال لوگ میاں صاحب سے پہلے ذرا گیلانی صاحب کی طرف رجوع فرمائیں جو سرنگونی و چاپلوسی کی آخری حدوں کو چھورہا ہے۔ جیالوں کی غیرت جاگتی ہے تو پوچھیں اپنے سابق وزیر اعظم سے ....رہ گیا نواز شریف تو وہ آئین کی سربلندی، پارلیمینٹ کی بالادستی اور عوامی رائے کی طاقت کو منوانے کے لئے اب تک جو کچھ کر چکا ہے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آج نواز شریف سے مظلوم اس دنیا میں شاید ہی کوئی سیاستدان ہو۔ یہاں تو ایسے لالچی طاقتور ہو گزرے ہیں جو محض اپنی ایک سال کی نوکری کے لئے ملک و قوم اور پورے سسٹم کوتہہ وبالا کردیتے ہیں۔ آئین کی عین مطابقت میں ہٹائے جانے پر بھی کھلاڑی لوگ پھٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ نواز شریف کا جگر اور حوصلہ ہے کہ آئین شکنی کرتے ہوئے اس سے دو تہائی اکثریت والی حکومت چھین لی گئی، عوام کا مقبول ترین لیڈر ہوتے ہوئے پورے قومی میڈیا پر بلیک لسٹ کرتے ہوئے کردار کشی کا کونسا گھناؤنا الزام ہے جو اس پر عائد نہیں کیاگیا۔ اس کے دشمن بھی میڈیا کے سامنے یہ کہتے سنائی دیتے رہے کہ وہ آج بھی اس ملک کا وزیر اعظم ہوتا اگر جبر کے سامنے سرنگوں ہو جاتا۔
یہ بھی اس شخص کی قائدانہ عظمت ہے کہ اپنے بدترین اور کینہ پرور دشمن کے حوالے سے یہ کہہ رہا ہے کہ میری اس سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میں منتقم نہیں ہوں، میں نہیں چاہتا کہ جو صدمے مجھے پہنچے ہیں کسی اور کو بھی وہی دکھ پہنچیں۔ یہ الفاظ بولنے کے لئے مہاتما گاندھی اور نیلسن منڈیلا کا کلیجہ اور دل گردہ چاہیے۔ تنقیدی تجزیہ کار ذرا ان الفاظ کے کرب کو محسوس کریں۔ جب نعرے لگائے جاتے تھے نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر جب قدم بڑھایا اور پیچھے مڑ کے دیکھا تو کھوکھلےنعرے باز سب غائب تھے۔ اس شخص نے کسی کو منع تو نہیں کیا کہ وہ ڈکٹیٹر کے خلاف آواز نہ اٹھائے یا اس کی آخری رسومات سرکاری پروٹوکول کے مطابق ہوں۔ بلاشبہ جنرل کروم ویل جیسا انجام ہر جابر، ہر آمر کا ہونا چاہیے مگر شاید یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔