بھارت اور بنگلہ دیش میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر
بھارت اور بنگلہ دیش میں طوفانی بارشوں ,سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ نے تباہی مچادی ہے۔ رواں ہفتے کے دوران طوفانی بارشوں کےباعث حادثات میں بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بنگلہ دیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کی دوپہر سے طوفان کے باعث آسمانی بجلی کڑکنے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
گزشتہ ہفتے سے ہونے والی بارشوں کے باعث شمال مشرقی بنگلہ دیش کے کئی علاقے زیرِآب ہیں جس کی وجہ سے اسکولوں کو امدادی پناہ گاہوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث سلہٹ میں بنگلہ دیش کے تیسرے بڑے ایئرپورٹ کو بھی جمعہ کو بند کردیا گیا تھا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے شمال مشرقی بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث آئندہ دو دنوں میں سیلابی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے کی بارشوں سے قبل سلہٹ گزشتہ ماہ بھی شدید سیلاب سے متاثر ہوا تھا جسے تقریباً دو دہائیوں کا بدترین سیلاب قرار دیا گیا تھا۔ اس سیلاب کے باعث 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری جانب بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی سیلابی صورتِ حال ہے۔ بھارت کی ریاست میگھالیہ میں بھی بارشوں، لینڈسلائیڈنگ اور دیگر واقعات سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ریاست کے وزیرِاعلیٰ کونراڈ سنگما نے ٹوئٹر پر ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے رپورٹ کیا کہ بھارت کی ریاست آسام کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سیلاب کے باعث کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ براہماپترا دریا کے حفاظتی بند ٹوٹنے سے آسام کے 33 میں سے 28 اضلاع میں تین ہزار گاؤں اور فصلیں زیرِ آب آگئی ہیں۔
بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں میں موجود لاکھوں لوگ ہمیشہ سیلاب کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سیلاب غیر متوقع اور شدید ہو رہے ہیں۔