جلسے پاکستان کے مسائل کا حل نہیں
- تحریر فیضان عارف
- سوموار 20 / جون / 2022
برطانیہ یعنی یونائیٹڈ کنگڈم دنیا بھر کے سیاسی نظام جمہوریت کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہاں لوگ ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے پارلیمنٹ تک پہنچاتے ہیں۔
دوتہائی اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی پارٹی اپنی حکومت بناتی ہے اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں اور قوانین کی منظوری دے کر انہیں ایوان بالا یعنی ہاؤس آف لارڈز میں بھیجتی ہے جہاں سے منظوری کے بعد انہیں ملکہ برطانیہ کے پاس حتمی منظوری کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ گریٹ برٹین میں بادشاہت بھی قائم ہے اور جمہوری نظام بھی کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس ملک میں انتخابات سے پہلے نہ تو کسی پارٹی کے بڑے بڑے انتخابی جلسے ہوتے ہیں اور نہ ہی یہاں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے خلاف جلوس نکالتی اور دھرنے دے کر معمولات زندگی کو معطل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ برطانیہ میں جمہوری استحکام کی سب سے بڑی وجہ یہاں کی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا ہونا ہے۔
سیاسی پارٹیز میں مستحکم جمہوریت کے باعث نہ تو شخصیت پرستی کو فروغ ملتا ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت ایک خاندان کے لوگوں کو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے۔ اس ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں ستمبر اور اکتوبر میں اپنی سالانہ کانفرنس کا اہتمام کرتی ہیں۔ ان کانفرنسز میں ہر پولیٹیکل پارٹی اپنی پالیسی، حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا جائزہ لیتی ہے۔ اپنی کامیابی اور ناکامی کے اسباب پر غور کرتی ہے۔ اپنے اراکین کی تجاویز کی روشنی میں فیصلے کرتی ہے۔ اپنی لیڈر شپ کا محاسبہ کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔ ان کانفرنسز کو سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے تناظر میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ برطانیہ میں جمہوریت اور جلسوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں کے سیاستدانوں کے رویے خالصتاً جمہوری ہیں۔ اس لئے پورے ملک میں انتخابی یا احتجاجی جلسوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی کیونکہ سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں کو اکٹھا کرکے ان کا وقت اور وسائل ضائع کرنے یا پاور شو کرنے پر یقین نہیں رکھتیں۔
امریکہ نے جب برطانیہ سمیت اپنے اتحادیوں کی مدد سے مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کیا تھا تو برطانوی دارالحکومت لندن میں لاکھوں لوگوں نے جمع ہو کر اس جنگی جارحیت کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا اور اس پرامن مظاہرے میں مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی طرح جب برطانیہ میں ریفرنڈم کے بعد یورپی یونین سے علیحدگی کا مرحلہ درپیش تھا تو اس موقع پر ہزاروں لوگوں نے لندن شہر میں جمع ہو کر بریگزٹ کے حق میں ریلی کا اہتمام کیا اور یہ اجتماع کسی سیاسی جماعت کے ایما پر نہیں ہوا تھا۔ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بڑے بڑے انتخابی یا احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کو جمہوریت کا ناگزیر حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وطن عزیز کے سیاستدان ہوں یا حکمران ان کا طرز عمل اور طرز سیاست بالکل غیر جمہوری ہے لیکن وہ بڑے بڑے جلسوں اور دھرنوں کو اپنی جمہوری جدوجہد کی شان سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اجتماعات میں زیادہ سے زیادہ لوگ اکٹھے کر لینا ان کی عوامی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
جمہوریت صرف لوگوں کے ہجوم کو اپنے پیچھے لگا لینے کا ہی نام نہیں بلکہ یہ تو ایک سیاسی شعور، طرز فکر، لوگوں کی اکثریت کی رائے کا احترام اور ان کے حقوق کے تحفظ کا نام ہے۔ ویسے تو دنیا میں بہت سے ملک جمہوری ریاست کہلاتے ہیں لیکن وہاں صرف نام کی جمہوریت ہے۔ اسی طرح بہت سی ریاستیں اسلامی ملک ہونے کی دعویدار ہیں لیکن وہاں اسلامی نظام رائج نہیں ہے۔ پاکستان بھی اسلامی جمہوری ملک ہے۔ کیا ہمارے اس وطن عزیز میں حقیقی جمہوریت یا اسلامی نظام قائم ہے؟ سیاسی جماعتوں پر خاندان نسل در نسل مسلط چلے آ رہے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کی قیادت اپنے حامیوں کو صرف اور صرف سبز باغ دکھاتی اور فریب دیتی ہے۔ عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دینے والے مذہبی رہنما وزارت اور منصب ملنے پر حرام کو حلال قرار دے دیتے ہیں۔ پورا معاشرہ سود او ر ناانصافی کی لپیٹ میں ہے تو کیا پھر ہمیں اسلامی جمہوری پاکستان کہنا زیب دیتا ہے۔ ویسے تو پاکستان میں رکشوں اور ٹرکوں کے پیچھے بھی ایف 16لکھا ہوتا ہے۔
ہمیں اس خود فریبی کے حصار سے نکلنا چاہئے۔ اگر ہم واقعی اپنے ملک میں جمہوریت قائم کرنا اور اسے استحکام بخشنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان ملکوں کی پیروی کرنی ہوگی، جہاں حقیقی جمہوری نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور اس نظام کی وجہ سے وہاں کے عام لوگوں کو اپنی زندگی میں آسانیاں اور سہولتیں میسر ہیں۔ جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں سے جمہوریت مستحکم نہیں ہوتی۔ ملک میں جمہوری استحکام کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز سیاسی جماعتوں کے اندر حقیقی جمہوریت کا فروغ ہے۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لیاقت علی خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے لے کر ایم کیو ایم اور ڈاکٹر طاہرالقادری سے عمران خان تک درجنوں ایسے جلسے اور سیاسی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں جن میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا لیکن کیا ایسے جلسے جلوسوں سے پاکستان میں جمہوریت کو کوئی فائدہ ہوا؟ بلکہ جن شہروں اور جن مقامات پر یہ جلسے اور اجتماعات ہوئے وہاں عام لوگوں کے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے۔
ہم مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی بنیادی طور پر جذباتی لوگ ہیں۔ ہم لوگوں کی اکثریت نعرے بازی کی سیاست اور شخصیت پرستی کی بدعت کو فروغ دینے اور اس کی پیروی کو فخر سمجھتی ہے۔ اس لئے ہر پاکستانی سیاست دان ہمارے مجبور اور لاچار عوام کے جذبات سے کھیلتا ہے اور جب مفاد پرست سیاستدان اور حکمران یہ دیکھتے ہیں کہ عوام کے سیاسی جذبات ٹھنڈے پڑنے لگے ہیں تو وہ مذہبی رہنماؤں کی مدد سے ان کے دینی جذبے کو بھڑکانے کا حربہ آزمانے لگتے ہیں۔ گزشتہ 70برسوں سے ہمارے سیاسی دانشور اورتجزیہ نگار آج تک یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ اس معاملے میں ہمارے سیاسی اور مذہبی قائدین زیادہ چالاک اور عیار ہیں یا ہمارے ملک کے عوام زیادہ بیوقوف اور ناسمجھ ہیں کہ بار بار دھوکے اور فریب کھا کر بھی ان مفاد پرست سیاستدانوں سے ہی مسائل کے حل کی آس لگائے ہوئے ہیں جو درحقیقت ان مسائل کو جنم دینے کے ذمہ دار ہیں۔ ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں میں جمہوریت کے فروغ اور استحکام کی ایک بڑی وجہ وہاں پر خواندگی کی شرح بھی ہے اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ سیاستدانوں کے نعروں، دعوؤں اور وعدوں کی بجائے ان کی کارکردگی کو دیکھتے اور پھر ان کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان میں راولپنڈی کا لیاقت باغ ہو یا اسلام آباد کا ڈی چوک، لاہور کا موچی دروازہ ہو یا مینار پاکستان، ملتان کا قلعہ کہنہ قاسم باغ ہو یا کراچی میں مزار قائد جہاں جہاں بھی سیاسی جلسے، احتجاجی جلوس یا اجتماعات ہوتے رہے یہ مقامات ہمارے ملک کے سیاسی اتار چڑھاؤ کے گواہ ہیں۔ ان مقامات نے بڑے بڑے سیاسی قائدین کو بڑے بڑے دعوے اور جذباتی تقریریں کرتے دیکھا ہے لیکن وقت کا دھارا ان سب دعویداروں اور نعروں کو بہا کر لے گیا۔ اگر کچھ باقی رہ گیا ہے تو وہ اچھے کام اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے کئے گئے اقدام ہیں جن سے آج بھی لوگ استفادہ کر رہے ہیں لیکن ایسے کام اور اقدام ہیں ہی کتنے جن پر ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ فخر کر سکے۔ وگرنہ جو بھی باغباں آیا اس نے اس چمن کی آبیاری کرنے کی بجائے پھولوں کو نوچ کر اپنے گھر کے گلدان سجائے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے ملک کے سادہ لوح عوام اپنے شعور کی آنکھیں کھولیں اور سیاستدانوں کے بہکاوے میں آنے اور ان کے جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کا ایندھن بننے کی بجائے اپنے مقدر کے ستاروں کو خود چمکانے کی جستجو کریں۔ اگر ہمارے ملک کے عوام دیانتدار، انصاف پسند، قانون کے رکھوالے اور نظم و ضبط کے پابند ہونے کا تہیہ کر لیں تو کوئی ظالم، جھوٹا، مفاد پرست اور بددیانت حکمران ان کے سروں پر مسلط نہیں ہو سکتا۔
اگر ہم پاکستان کو خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا اور جائزہ لینا ہو گا کہ ہم جس درخت کی چھاؤں میں بیٹھنا چاہتے ہیں اس کی آبیاری اور دیکھ بھال میں ہمارا کردار کیا ہے۔ پہلے یہ سوچیں کہ آپ نے پاکستان کو کیا دیا۔ پھر اس کے بعد یہ سوچنا آپ کا حق ہے کہ پاکستان نے آپ کو کیا دیا۔