لوڈشیڈنگ، موم بتی اور اگربتی

بجلی کے بحران میں تاجروں کو جلدی دکانیں بند کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں سردست توناکام ہو گئیں جس کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ بازاروں کی بجلی شام سات بجے کے بعد بند کردی جائے تاکہ تاجر دکانیں بند کرنے پر مجبورہوجائیں۔

یہ الگ بات کہ اس کی سزا ان گھریلو صارفین کو بھی ملے گی جن کے گھر بازاروں یا ان سے ملحقہ محلوں میں ہیں۔ اس دوران حکومتی عہدیداروں نے بھی اور سماجی تنظیموں نے بھی مثالوں کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں سورج کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور دفاتر یا کاروباری مراکز طلوع سحر سے غروب آفتاب تک کھولے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تاجروں کو بازار اور دکانیں دوپہر کے بعد کھولنے کی عادت ہے اوراس کے بعد رات بارہ ایک بجے تک خریدو فروخت اور کاروبار جاری رہتا ہے۔ اگرچہ کرونا کے زمانے میں مارکیٹیں جلد بند کر نے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود دکاندار چوری چھپے کاروبا رکرتے تھے اور مارکیٹوں کی بندش دراصل پولیس کی روزی روٹی کا ذریعہ بنی رہی۔ پولیس موبائلوں کی آمد پر آدھے کھلے شٹر بند کردیے جاتے تھے اور دکاندار برملا کہتے تھے کہ ہمیں اپنی آمدن کا خاص حصہ پولیس کوجمع کرانا ہوتا ہے تاکہ ہم مقررہ وقت کے بعد بھی بازار کھلے رکھ سکیں۔

ایسی ہی ایک کوشش پرویز مشرف کے دور میں بھی ہوئی اور اس زمانے میں دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں 1857 کی جنگ آزادی کی 150سالہ تقریبات منائی جارہی تھیں۔ ان میں مماثلت تو کوئی نہیں مگر پھربھی بعض لوگ اس میں کوئی قدر مشترک تلاش کرنے کی سعی ناکام میں مصروف رہے۔ محلے کاسب سے بڑا دانشور علاقے کا حجام ہی سمجھا جاتا ہے۔ جب لوگ اس کے سامنے سرجھکا کر بال بنواتے ہیں تو وہ ان کی گردن دبا کراپنا فلسفہ بھگارنا شروع کردیتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں چونکہ استرا ہوتاہے اس لیے محلے کے سبھی لوگ اس کی ہرغلط بات کو بھی فوری طورپر درست تسلیم کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ پس ثابت یہ ہوا کہ فی زمانہ خود کو دانشور تسلیم کرانا مقصو دہو تواس کیلئے ہاتھ میں استرا رکھنا ضروری ہے۔ انہی دنوں اسی حجام نے بال بناتے ہوئے آٹھ بجے دکانوں کی بندش اور1857 کی جنگ آزادی میں مماثلت تلاش کرلی۔ اس کا کہنا تھا کہ واپڈا والوں نے بہت سوچ سمجھ کر آٹھ بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آٹھ بجے دکانیں بند ہوجانے سے پورے علاقے میں تاریکی پھیل جاتی ہے اور 1857 والا ہی ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ واپڈا والے دراصل لوگوں کوبتانا چاہتے ہیں کہ 1857 میں جب جنگ آزادی شروع ہوئی تو اس وقت ماحول کیسا ہوتا تھا۔ ظاہر ہے حجام کی بات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا سو جو بھی بال بنوانے گیا اس نے دکانوں کی بندش اور 1857 کی جنگ آزادی میں اس مماثلت پرحجام صاحب کو خوب خوب داد دی۔ ویسے حاضرین سچ پوچھیں تو ہمیں بھی اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آٹھ بجے بازار بند کرنے سے واپڈا کوبجلی کی کتنی بچت ہوئی۔ پہلے روز اخبارات اورٹی وی میں جو رپورٹیں آئیں ان میں بتایا گیا تھا کہ دکانوں کی بندش سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔

ہمارے ایک دوست اور ان کے چار بھائیوں کی ایک مشترکہ دکان ہے۔ یہ دکان عام حالات میں رات گیارہ بجے تک کھلی رہتی تھی۔ دکان بند کرنے کے بعد یہ برادران اپنے اپنے دوستوں کے ہمراہ کسی ہوٹل پر جاتے پھرگھومتے پھرتے اپنے گھروں کو پہنچتے تھے۔ جلدی بندش کا پہلا نقصان تو ان کے اہل خانہ کا ہوا۔  پانچوں بھائی ٹھیک آٹھ بجے دکان بند کرکے گھرکی راہ لیتے۔ جووقت بچوں کے ہنسنے کھیلنے کا ہوتا ہے عین اسی وقت یہ حضرات ان کے درمیان موجود ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب بتارہے تھے کہ المیہ یہ ہے کہ بچے بھی ہم سے زیادہ مانوس نہیں۔ بچوں کو تو برس ہا برس سے عادت تھی کہ وہ ہم سے چھٹی والے دن ہی ملا کرتے تھے۔ رہی بات بجلی کی بچت والی تو ہمارے کمروں کے جو ایئرکنڈیشنر  رات 12بجے چلا کرتے تھے وہ اب رات آٹھ بجے کے بعد ہی چلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر دکان کا اے سی بند ہوتا ہے ادھر گھر کا آن ہوجاتا ہے۔

لیکن صاحب ہم نے دکانوں کی اس جلدی بندش کے کچھ فوائد بھی تلاش کیے ہیں۔ آپ انہیں لوڈشیڈنگ کی روشن پہلوبھی قراردے سکتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا  سب سے مثبت پہلو تویہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ورزش ہوتی رہتی ہے کیونکہ بجلی بند رہتی ہے آپ ہاتھ میں پنکھا پکڑ کر ہوا لیتے رہتے ہیں۔ پنکھا نہ ملے تو قمیض کے دامن کوہی اپنے چہرے تک لا کر خود کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا بے قراری میں اپنے صحن یا برآمدے میں ٹہلنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ تمام عمل آپ کی صحت کیلئے فائدہ مند رہتا ہے۔ آپ کے ہاتھوں، بازوؤں اور  ٹانگوں کی ورزش ہوجاتی ہے اورآپ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ آپ کونظم وضبط اور وقت کی پابندی بھی سکھاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ لوڈشیڈنگ کے وقت سے پہلے پہلے اپنے تمام ضروری کام نمٹانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ لائٹ نے ایک مقررہ وقت پر ضرور بند ہونا ہوتا ہے یہ الگ بات کہ لائٹ کی واپسی کا کوئی  ٹائم مقرر نہیں ہے مگر یہ کیا کم ہے کہ واپڈا والے ہمیں لائٹ کی بندش کے صدقے وقت کی پابندی کا عادی بنا رہے ہیں۔

ہمارے ایک دوست نے لوڈشیڈنگ کاجوسب سے اچھا پہلوبتایا اس پر متفق ہونا ضروری نہیں مگر یہ بھی بہرحال ایک نقطہ نظر تو ہے۔ ان کا کہنا ہے لوڈشیڈنگ اور خاص طور پر رات کوبجلی کی بندش کا فائدہ یہ ہے کہ بیگم کی شکل دکھائی دینا بند ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ان کی بیگم کے نزدیک بھی لوڈشیڈنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے مگر وہ ا پنے شوہر کواس عارضی سکون سے محروم رکھتی ہیں اورلائٹ بند ہوتے ہی موم بتی روشن کرلیتی ہیں۔ شوہر کا کہنا ہے کہ موم بتی تو محض ایک بہانہ ہے ورنہ بیگم صاحبہ کا بس چلے تو اگر بتی جلانے سے بھی گریز نہ کریں اورحاضرین محترم ہم یہیں تک لکھ پائے تھے کہ لائٹ آف ہو گئی۔ لوڈشیڈنگ کا سب سے اہم فائدہ آپ کیلئے یہ ہے کہ ہم یہ کالم ادھورا ہی چھوڑ رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)