اسرائیلی وزیراعظم نئے انتخابات کااعلان کردیا
اسرائیلی حکومت نے پیر کے روز پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے اندر ملک میں یہ پانچویں عام انتخابات ہوں گے۔
انتخابات اس سال کے آخر میں متوقع ہیں اور ان کے نتیجے میں ملک میں ایک بار پھر سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں قومی مذہبی حکومت تشکیل پا سکتی ہے یا پھر ایک اور طویل سیاسی تعطل پیدا ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر نے پیر کے روز ٹیلی ویژن قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت ختم کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا تاہم انہوں نے اس فیصلے کو اسرائیل کے لیے درست قرار دیا۔
بینیٹ کو ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آٹھ جماعتوں کے کمزوراتحاد کو متحد رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض اتحادیوں کے انحراف کے سبب یہ اتحاد دو ماہ پہلے پارلیمان میں اکثریت کھو بیٹھا ہے۔ نفتالی بینیٹ اور ان کے اہم اتحادی اور وزیر خارجہ یائر لاپڈ ایک عبوری حکومت تشکیل دیں گے اور اس کا اعلان مل کر کریں گے۔ لاپڈ عبوری حکومت کے سربراہ ہوں گے۔
اسرائیل نے 2019 اور 2021 کے درمیان چار بے نتیجہ انتخابات کرائے۔ سابق وزیر اعظم نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا بھی رہا ہے اگرچہ وہ خود ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ نیتن یاہو کی سخت گیر جماعت ’لیکود‘ ایک بار پھر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی