پانچ اہم اشیا پر سبسڈی جاری رہے گی

  • منگل 21 / جون / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال میں غریب اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے پانچ ضروری اشیا گندم، چینی، گھی، خوردنی تیل، دالوں اور چاول پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سبسڈی پی ٹی آئی کی حکومت نے شروع کی تھی۔

پانچوں اشیا معاشرے کے غریب طبقے کو ملک میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی تمام شاخوں سے رعایتی نرخوں پر ملیں گی۔ وزیراعظم نے یہ فیصلہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا مفتاح اسمٰعیل، مخدوم مرتضیٰ محمود اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے کراچی میں یوٹیلٹی اسٹورز کے نیٹ ورک میں توسیع کی بھی منظوری دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں یوٹیلٹی اسٹورز کی کم تعداد کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ میگا سٹی میں یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد بڑھانے کا جامع منصوبہ دو ہفتوں میں پیش کیا جائے۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ معاشرے کے غریب طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت اس مقصد کے لیے کوئی بھی قیمت برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ غریبوں کو اشیائے ضروریہ پر ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 1380 فرنچائزز کے علاوہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن ملک بھر میں براہ راست 3 ہزار 822 اسٹورز چلا رہی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 30 جولائی تک بلوچستان، سندھ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب میں 300 سے زائد نئے یوٹیلٹی اسٹورز کھولے جائیں گے۔

ریلیف پیکج سے اب تک 11کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں اور انہیں گندم کے آٹے پر 60 روپے فی کلو سبسڈی دی گئی ہے، چینی پر 21 روپے، گھی وتیل پر 250 روپے اور دالوں اور چاول پر 15 سے 20 روپے رعایت دی جا رہی ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں 942 یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے سستے داموں آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر 1000 نئے سیل پوائنٹس اور 200 موبائل اسٹورز کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کے دورے کے بعد صوبے میں اشیائے ضروریہ کی سستے داموں فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی تکالیف سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسی پر توجہ دینے اور وسائل کے انتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔ پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم نے ایک ٹوئٹ میں مہاجرین کو جنگوں اور تنازعات کا بدترین شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام سے لے کر فلسطین تک ان کی حالت زار اس بات کی متقاضی ہے کہ نئی پالیسی پر توجہ دے کر وسائل کا انتظام کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب اور پاکستان دو طرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران باہمی اقتصادی تعاون کا روڈ بنانے کا عندیہ دیا۔

وزیراعظم نے سعودی تاجروں اور صنعتکاروں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔