او آئی سی کا مذہبی اشتعال انگیزی غیرقانونی قرار دینے کا مطالبہ

  • منگل 21 / جون / 2022

اسلامی تعاون تنظیم نے پیر کے روز بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی اور نفرت اور تشدد پر اکسانے والے ہر طرح کے عمل کو غیر قانونی قرار دے۔

نفرت انگیز تقاریر کے انسداد سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پڑھے گئے ایک بیان میں او آئی سی نے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کے عہدیداروں کی طرف سے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے توہین آمیز بیان پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے او آئی سی کی جانب سے بیان پڑھ کر سنایا جس میں او آئی سی نے مطالبہ کیا کہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی اور نفرت اور تشدد پر اکسانے والے ہر عمل کو عالمی سطح پر غیر قانونی قرار دیا جائے۔

منیر اکرم نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ او آئی سی جان بوجھ کر اشتعال انگیزی اور اسلام کی مقدس شخصیات اور مذہبی علامات کی بے حرمتی پر فکر مند ہے۔ او آئی سی نے جنرل اسمبلی کی قرارداد کی پیروی کرتے ہوئے نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے لئے ہفتہ 18 جون کو  بین الاقوامی دن کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر منایا۔

اس دن کو منانے کی قرارداد مراکش کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور او آئی سی نے اسے نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے اور اس کے انسداد کے حوالے سے عالمی کوششوں میں پیش رفت کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔ او آئی سی نے دلیل دی کہ اس دن کو منانے سے نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ کرنے کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے اور رواداری کو فروغ ملے گا اور ہر قسم کے امتیازی سلوک اور زینوفوبیا کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ نفرت انگیز تقریریں اپنے آپ میں رواداری، شمولیت، تنوع اور ہمارے انسانی حقوق کے اصولوں اور اقدار پر حملہ ہے۔ نفرت انگیز تقریر سماجی ہم آہنگی کو مجروح کرتی ہے، مشترکہ اقدار کو ختم کرتی ہے اور تشدد کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ یہ امن، استحکام، پائیدار ترقی اور سب کو انسانی حقوق کی فراہمی کو پس پشت ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے نشاندہی کی کہ نفرت انگیز تقریر کے آج مواصلات کی نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اثرات اس حد تک وسیع ہو چکے ہیں کہ یہ عالمی سطح پر تفریق اور نظریات کو پھیلانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس پر نظر نہ رکھی گئی تو یہ امن اور ترقی کو برباد کر سکتا ہے کیونکہ یہ تنازعات، مذہبی کشیدگی اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال پیدا کرتا ہے اور جرائم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر پھیلی ہوئی ہیں، او آئی سی خاص طور پر دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت میں تیزی سے اضافے پر پریشان ہے۔ اسلامو فوبیا کی کارروائیاں 1.5ارب سے زیادہ مسلمانوں کی حساسیت کو مجروح کرتی ہیں اور یہ آزادی اظہار کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس سے  انتہا پسندانہ بیانیے کو بھی تقویت ملتی ہے۔

او آئی سی گروپ نے اسلام، عیسائیت، یہودیت اور کسی بھی دوسرے مذہب کی توہین کی مذمت کی اور مزید کہا کہ یہ فورم مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر نفرت اور تشدد کی تمام کارروائیوں کے خلاف کھڑا ہے۔