آئی ایم ایف معاہدے میں پیش رفت، ڈالر کی قدر میں 1.80 روپے کی کمی
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سمجھوتہ کے لئے پیش رفت کے بعد ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہؤا ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں اس کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں ایک روپے 80 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز روپے کی قدر میں 2 روپے سے زائد کی کمی ہوئی تھی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 212 روپے کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جو 2 روز قبل 209 روپے 96 پسے پر تھا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری کی پیش رفت اس کی قدرمیں گزشتہ ہفتوں کے دوران ہونے والی مسلسل کمی کے بعد ہوئی ہے۔
روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کا قرض پروگرام اپریل کے اوائل سے ہی تعطل کا شکار رہا جب کہ پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ عالمی ادارے نے پہلے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایندھن اور توانائی کی سبسڈی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اب نئی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال میں مقرر کردہ اہداف پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
پاکستان نے جولائی 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 39 ماہ کے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام پر دستخط کیے تھے لیکن عالمی مالیاتی ادارے نے تقریباً 3 ارب ڈالر کی قسط اس وقت روک دی تھی جب گزشتہ حکومت نے اپنے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے ایندھن اور توانائی پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم، گزشتہ رات ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب پاکستانی حکام کی جانب سے مالی سال 2023 کے بجٹ میں 4 کھرب 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کے وعدے کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ میں سمجھوتہ طے پاگیا۔
اس سے قبل، پاکستان میں آئی ایم ایف کے مقامی نمائندے ایستھر پیریز روئز نے ڈان سے گفتگو کے دوران اس بات کو تسلیم کیا کہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ سے متعلق معاملات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارےکے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان آنے والے سال میں میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق پالیسیوں پر بات چیت جاری ہے۔