لاپتا افراد کمیشن بوجھ بن چکا ہے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

  • جمعہ 24 / جون / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم لاپتا افراد کمیشن ایک بوجھ بن گیا ہے اور اپنے وجود کا جواز پیش کرنے میں ناکام ہے۔

 جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن 2011 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے جسٹس جاوید اقبال اس کی سربراہی کر رہے ہیں۔ کمیشن لاپتا افراد کا سراغ لگانے اور اس کے ذمہ دار افراد یا تنظیموں پر ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2011 سے اب تک لاپتا افراد میں سے صرف ایک تہائی گھر واپس آئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد کے کیس میں ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جب یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہوں کہ بادی النظر میں یہ 'جبری گمشدگی' کا مقدمہ ہے تو ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ذمہ داری بن جاتی ہے وہ لاپتہ شہری کا سراغ لگائیں۔ یہ ذمہ داری اس وقت تک رہے گی جب تک کہ متاثرہ شخص کا سراغ نہیں لگا لیا جاتا یا اس کی قسمت کے بارے میں مؤثر تحقیقات کے ذریعے معتبر معلومات اکٹھی نہیں کرلی جاتیں۔

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ یہ ریاست کے ہر ادارے کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عوامی اداروں کو جوابدہ ٹھہرائیں جو ذمہ دار ہیں اور جو لاپتا ہونے والے شہری کی حفاظت اور ان کا سراغ لگانے میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں۔ ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز پیش نہیں کی گئی کہ کمیشن نے گھر بیٹھے ہی سرکاری عہدیداروں کو پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل میں ناکامی پر جوابدہ ٹھہرانے کی کوشش کی ہو۔

عدالت رپورٹ دیکھنے کے بعد بادی النظر میں یہ رائے دیتی ہے کہ کمیشن اپنی ذمہ داری میں ناکام رہا ہے اور نہ ہی وہ ان حالات میں اپنے وجود کا جواز پیش کر سکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے آبزرویشن دی کہ کمیشن تقریباً ایک دہائی قبل تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی بنیادی ذمہ داری ’جبری گمشدگیوں‘ پر سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اب تک واضح ہو گیا ہے کہ کمیشن اپنے مقصد کو مؤثر طریقے سے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ کمیشن سرکاری خزانے پر بوجھ ہے اور اسے اپنے جاری رکھے جانے کا جواز فراہم کرنا چاہیے۔ عدالت نے کمیشن کو یہ بتانے کی ہدایت کی کہ کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور وفاقی حکومت کو سفارشات پیش نہیں کی گئیں تاکہ پروڈکشن آرڈر کی تعمیل میں ناکام رہنے والے افسران اور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی جاتی۔

یہ بات مسلسل نوٹ کی جاتی رہی ہے کہ کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی مخالفانہ نوعیت کی نہیں ہے۔ کمیشن کو درخواست گزاروں اور لاپتا شہریوں کے دیگر تمام پیاروں کے تئیں انتہائی ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کمیشن کا فرض ہے کہ وہ ان تک پہنچے اور اپنے طرز عمل سے انہیں یقین دلائے کہ کارروائی محض رسمی نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ کمیشن عدالت کو آگاہ کرے گا کہ بامعنی اور موثر کارروائیاں کیوں نہیں کی گئیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کو پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارشات کی گئیں۔