پاکستان کو کمزور نہ سمجھا جائے: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
کراچی میں نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہرخطرے سے نمٹنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ملکی دفاع مضبوط بنانے پر قوم کو مسلح افواج پر فخر ہے۔ پاکستان کو فضا اور سمندر میں دھمکانے والوں کو دندان شکن جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری ٹائم مفادات کے تحفظ کے لیے بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اولین ترجیح ہے۔ دوست ممالک سے مشترکہ منصوبے اس کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنیں گے، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاک بحریہ کو تمام ضروری وسائل مہیا کرے گی۔ پر امن ماحول میں ہی ترقی کا حصول ممکن ہے۔ قائداعظم پاکستان کو دنیا کیلئے رول ماڈل کے طور پر چاہتے تھے۔ غلطیوں سے سبق سیکھ کر محنت اورلگن سے اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیابی سے منسلک ہے۔ اس منصوبے میں گوادر بندرگاہ کو بنیادی جزو کی حیثیت حاصل ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاک بحریہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیصل بیس پر ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات بھی کی جس میں متحدہ قومی مومنٹ کے وفد نے ن لیگ سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کیا جبکہ سندھ میں گورنر کی تعیناتی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ ایم کیو ایم وفد میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید جمیل، وسیم اختر شریک تھے۔
وزیر اعظم شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کریں گے جبکہ آج شہید بے نظیر آباد، نواب شاہ کا بھی دورہ کریں گے۔
دوسری طرف ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے اقتدار میں آنے پر 2 راستے تھے۔ پہلا راستہ یہ تھا کہ الیکشن کرائیں اور معیشت کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے لیے چھوڑ دیں اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ پہلے اقتصادی چیلنج سے نمٹا جائے۔ ہم نے پاکستان کو معاشی دلدل سے بچانے کا انتخاب کیا۔ ہم نے پاکستان کو پہلے سامنے رکھا، یہ پہلا بجٹ ہے جس میں معیشت کی بحالی کا منصوبہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سخت فیصلے ملک کو معاشی بحران پر قابو پانے کے قابل بنائیں گے۔ حکومت نے کم آمدنی والے اور تنخواہ دار پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ غربت کے خاتمے کے مقصد سے کیا ہے۔ متمول طبقے سے کہا ہے وہ بوجھ بانٹ کر قومی فرض پورا کریں۔ براہ راست ٹیکس سے حاصل رقم مالی مشکلات سے متاثر افراد پر خرچ ہوگی۔ یہ میکرو اکنامک استحکام پہلا قدم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اتحادی حکومت معاشی خود کفالت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ہماری قومی سلامتی کا معاشی انحصار سے بہت گہرا تعلق ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگایا جائے گا۔