اوسلو میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک، 21 زخمی

  • ہفتہ 25 / جون / 2022

 اوسلو میں ہم جنس پرستوں کی ایک بار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد قتل اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔ ناروے پولیس نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے کر ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

ناروے کی انٹیلی جنس ایجنسی پی ایس ٹی نے کہا ہے کہ وہ  اس حملے کو اسلامی دہشت گردی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پی ایس ٹی کے سربراہ راجر برج نے کہا کہ ملزم ماضی میں تشدد اور دھمکیوں اور دیگر جرائم میں ملوث رہا ہے۔  انٹیلی جنس سروسز نے ملزم سے گزشتہ مہینے بات کی تھی لیکن اس کے ارادوں کا اندازہ نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص کو دماغی صحت کے سبب مشکلات درپیش رہی ہیں۔

ملزم کے وکیل جان کرسچن ایلڈن نے ناروے کی نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ان کے موکل کی ذہنی کیفیت کو جاننے کے لیے جوڈیشل آبزرویشن میں رکھا جائے گا جیسا کہ عام طور پر ایسے کیسز میں ہوتا ہے۔ میڈیا نے اس کا نام زنیار ماتپور بتایا ہے۔ وہ بچپن میں اپنے اہل خاندان کے ساتھ ایران سے ناروے آیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ حملے میں 21 لوگ زخمی جبکہ 10 زیادہ زخمی ہیں لیکن کسی کی بھی جان کو خطرہ نہیں ہے۔ فائرنگ میں استعمال ہونے والے  آٹومیٹک ہتھیار اور ہینڈ گن کو قبضے میں لے لیا ہے۔

پرائڈ مارچ کی انتظامیہ نے بتایا کہ مارچ ہفتے کو منعقد ہونا تھا لیکن پولیس کی واضح احکامات کی روشنی میں منسوخ کر دیا گیا ہے۔ لیکن ہزاروں لوگوں نے حملے کے بعد اظہار یکہجتی مارچ کیا اور نعرے لگاتے رہے کہ ہم یہاں ہیں، ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔ زیادہ تر لوگوں نے جس میں سے کچھ کی انکھوں میں آنسو تھے نے حملے کی جگہ کے قریب پھول رکھے۔

ناروے کی انٹیلی جنس سروس نے صورتحال کو غیر معمولی قرار دے کر الرٹ لیول بڑھا دیا ہے۔ فرانس کی حکومت نے کہا کہ حملے کے سبب فرانس میں ہونے والے پرائڈ مارچ کی سیکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے۔ فرانس کے صدر ایما نوئیل میکرون نے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

ناروے کے وزیراعظم یوناس گار ستورے نے کہا ہے  کہ آج کے دن کو پیار کے ساتھ منانے اور گلیوں کو قوس قزاح کے رنگوں سے روشن کرنے کی توقع تھی۔ اس کے برعکس ہم غم میں مبتلا ہیں۔ ناورے کے بادشاہ ہیرالڈ 5 نے اس سانحہ پر دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اپنی اقدار اور باہمی احترام کے دفاع کے لیے مل کر چلنا ہوگا۔