کچھ لاپتا افراد کے کلبھوشن یادیو سے رابطے تھے: وفاقی وزیر
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ ’لاپتا افراد‘ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو یا ہمسایہ ممالک سے رابطوں میں تھے۔
وفاقی وزیر نے یہ دعویٰ ڈان نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا جو اتوار کی رات نشر ہوا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ’ان میں سے کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے گئے جن کے کلبھوشن یادیو یا ہمسایہ ممالک سے رابطے میں تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جاسوس نے غریب لوگوں کا استحصال کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمومی طور پر غریب لوگوں کو ملا کر انہیں رقم کا لالچ دیا جاتا ہے۔ کچھ لاپتا افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔ انہوں نے لاپتا افراد کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد فورسز ایکشن میں آئیں۔ جب ریاستی ادارے کارروائی کرتے ہیں تو تنقید کی جاتی ہے، لوگ احتجاج کرنا شروع ہردیتے ہیں اور لاپتا افراد کا معاملہ سامنے آجاتا ہے۔
ریاض پیرزادہ کا نقطہ نظر تھا کہ کمیشن کے بجائے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو لاپتا افراد کے معاملے سے نمٹنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی، سابق وزیراعظم عمران خان اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔