جموں کشمیر تحریک کا کُل اور جُز

گزشتہ دو ماہ سے میرے شب و روز گھر اور ہسپتال کے درمیان سفر میں گزر رہے ہیں۔ صحت طویل خط اور تبصرے کی اجازت نہیں دیتی لیکن موجودہ صورت حال پر چند سطور قارئین کی خدمت میں پیش کر کے بیماری سے لڑنے کی پوری کوشش کروں گا۔

میری درخواست ہے کہ مجھے کسی گروپ کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔ کل اور جُز ایک نصابی فلسفہ ہے۔ جُز کُل کا ایک حصہ ہوتا ہے اگر جز کو کُل سے الگ کر دیا جائے تو جز کی شکل بالکل مختلف نظر آتی یے اور کُل بھی اپنے مکمل اجزا کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔ 

ہماری تحریک اتنی ہی پرانی ہے جتنی ہماری غلامی۔ کسی بھی تحریک کا کُل سیاست، سفارت، عسکریت اور مزاحمتی لٹریچر ہوتا ہے لیکن ہمارے جتنے بھی گرو سرگرم ہیں وہ سڑکوں اور دھرنوں کی سیاست کو تحریک کا کُل سمجھ کر اپنی ساری توانائیاں ضائع کر رہے ہیں۔  ہماری تحریک ایک ایسا رنگ اختیار کر چکی ہے جس کا مقابلہ غاصب سے کم اور اپنے آپ سے زیادہ ہے۔

It is a Movement in competition within itself.

اسی مقابلہ بازی نے ہماری تحریک کا حلیہ بگاڑ کر اس کی پوری شکل تبدیل کر دی ہے ۔  اس وقت بھارت میں پابند سلاسل قیدیوں کا مسلہ ہماری تحریک کا ایک جز ہے لیکن ہم نے اسی کو کل سمجھ کر باقی تحریک کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس جُز کے لیے مطلوبہ جد و جہد کے لوازمات ہم پورے نہیں کر رہے۔  عالمی برداری کو ہمیں یہ بتانے اور سمجھانے کی ضرورت تھی کہ ایک غاصب ملک کی فوج مقبوضہ ریاست کے کسی آزادی پسند کو اغوا کر کے اپنے ملک لے جا کر اس کا ٹرائل نہیں کر سکتی۔ بلکہ اگر دنیا میں کوئی عالمی قانون ہے تو وہ عالمی عدالت میں حملہ آور کے خلاف کیس چلائے۔  یہ تو دور کی بات ہے، ہم بھارت میں قید اپنے قیدیوں کے لیے وکلا پر مشتمل ایک پینل بھی تشکیل نہ دے سکے

یہ پینل قیدیوں کے ساتھ فرداً فرداً ملاقاتیں کرتا اور اگر بھارت اس لیگل پینل کو اجازت نہ دیتا تو وہ دنیا کے سامنے رسوا ہوتا۔ لیکن یہاں ہر جگہ سیاست ہی چھائی رہی۔ آزاد کشمیر کے صدر سلطان محمود اور سابق وزیراعظم فاروق حیدر نے الگ الگ ایسی لیگل کمیٹیوں کا اعلان کیا جن کی تشکیل ہونی تھی نہ ہوئی۔ آزادی پسند گروپوں کو برطانوی جیل سے ہماری رہائی کے لیے قائم فراق کی طرز پر ایک غیر جماعتی مہم کا مشورہ دیا گیا مگر ہمارے بھائیوں کے دلوں و دماغوں پر چڑے تالے نہ کھل سکے۔ 

5 اگست 2019 کے بھارتی فیصلے کے خلاف جس طرح چند دن شور شرابہ ہوا اسی طرح یاسین ملک کی سزا کے خلاف بھی چند دن احتجاج کے بعد خاموشی چھا جانے کا خدشہ ہے۔ لیکن یاسین ملک کی سزا کو بھی کُل نہیں جُز کے طور پر دیکھا جائے۔  ریاست کا اشو جب ہم دنیا کو سمجھانے میں کامیاب ہو گئے تو اس سےجڑے مسائل دنیا خود بخود سمجھ جائے گی۔ اس کے لوازمات پر خلوص نیت سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔