آئی ایم ایف کے ساتویں، آٹھویں جائزے کیلئے اہداف موصول ہوگئے: مفتاح اسمٰعیل

  • منگل 28 / جون / 2022

پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ کے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے مشترکہ معاشی اور مالیاتی اہداف موصول ہوگئے ہیں۔

اس بات کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح حکومت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ساتویں اور آٹھویں جائزے کے لیے ایم ای ایف پی (میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی) موصول ہوا ہے۔

خیال رہے کہ ایم ای ایف پی میں وہ پیشگی اقدامات شامل ہیں جن پر آئی ایم بورڈ میں پاکستان کا کیس اٹھائے جانے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ ایک ارب ڈالر کے اجرا سے قبل عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے مالی سال 2023 کے بجٹ میں 4 کھرب 36 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر 50 روپے فی لیٹر تک پہنچانے کے وعدے کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 21 جون کو معاملات طے پاگئے تھے۔

یہ مفاہمت اور پیش رفت وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی سربراہی میں پاکستانی معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی تھی۔ جس کے بعد امکان تھا کہ آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا جب کہ اسی دوران معاشی اور مالیاتی پالیسی کی مفاہمتی یاد داشت کا ڈرافٹ بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔

اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان نے تمام پی او ایل مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی وصولی شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ طے شدہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی چارجز 5 روپے ماہانہ سے بتدریج بڑھا کر 50 روپے کردیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف معاہدے کے لیے حکومت نے اضافی تنخواہوں اور پنشن کے فیصلے کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا جس کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس کے بجائے ہنگامی حالات کے لیے الگ سے مختص کیے گئے فنڈز کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ بجٹ صرف انتہائی ہنگامی حالات جیسے سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کے دوران خرچ کرنے کے لیے ہوگا۔ ورنہ یہ رقم صرف نہیں کی جائے گی۔